Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

محایل عسیر کا ’الحیلہ‘ پہاڑ: ایک منفرد ارضیاتی تشکیل سے مزین سیاحتی مقام

عسیر ریجن کی کمشنری محایل کے شمال مغربی سمت ’الحیلہ‘ پہاڑ خوبصورت قدرتی مناظر سے مالا مال ہے جو ارضیات کے ماہرین اور سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ارضیات کے ماہر محمد حریش کا کہنا ہے کہ ’الحیلہ پہاڑ کو خاموش آتش فشاں پہاڑوں میں شمار کیا جاتا ہے جو ہزاروں برس سے خاموش ہیں اور جن میں کسی قسم کی سرگرمی نوٹ نہیں کی گئی۔‘
اس قسم کے دیگر پہاڑی سلسلے بھی ہیں جن میں السروات پہاڑی سلسلہ خاص طور پر مشہور ہے۔ الحلیہ پہاڑ کی سطح سمندر سے بلندی 1000 سے 1500 میٹر ہے اور آتش فشانی اثرات کی وجہ سے اس کی ساخت منفرد ہے۔
یہ اثرات، جن میں گڑھے اور لاوا گزرنے کے راستے شامل ہیں کئی کلومیٹر پر پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ ارضیاتی منظرنامہ اس خطے کی آتش فشانی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔‘
جغرافیائی علوم کے ماہر کا مزید کہنا تھا کہ ’جہاں تک آتش فشاں پہاڑوں کا تعلق ہے تو یہ بات طے شدہ ہے کہ خاموش آتش فشاں پہاڑوں میں دوبارہ یہ سرگرمی نہیں ہوتی تاہم ایسے واقعات شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔‘

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ الحیلہ پہاڑ ایک منفرد ماڈل ہے، جہاں فطرت کے حسین نظارے، ارضیاتی تاریخ اور سیاحتی ترقی ایک ساتھ ملتی ہیں۔ یہ زمین کی لاکھوں برس میں ہونے والی تبدیلیوں کا گواہ ہے اور اس کے ساتھ سیاحوں کے لیے ایک دلکش سیاحتی مقام بھی ہے۔
محایل عسیر سے تعلق رکھنے والے حسن موسی آل عقیل کا کہنا ہے کہ ’الحیلہ پہاڑ کا جغرافیائی محل وقوع انتہائی منفرد ہے۔ اس کی خاصیت یہ ہے کہ اس کی بلندی سے پوری کمشنری کا بخوبی نظارہ ممکن ہے اور اسے سیاحتی اعتبار سے انتہائی اہم مقام حاصل ہے۔‘

علاقے کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے حسن موسی آل عقیل نے بتایا کہ ’میونسپلٹی نے بڑی سرمایہ کاری کی ہے اور مختلف مقامات پر پارکس تعمیر کیے گئے ہیں۔‘
کمرشل سینٹرز اور ریستوران بھی بڑی تعداد میں تفریحی مقامات پر بنائے گئے ہیں جس سے سیاحت کو فروغ ملا اور سرمایہ کاروں کی توجہ بھی یہاں مبذول ہوئی ہے۔

 

شیئر: