ایس ٹی سی کے سربراہ عیدروس الزبیدی نامعلوم مقام کی طرف فرار: ترجمان اتحادی افواج، عدن میں ہی موجود ہیں، ایس ٹی سی
عیدروس الزبیدی کو مذاکرات میں شرکت کے لیے منگل کو سعودی عرب پہنچنا تھا (فوٹو: ایکس)
یمن کے اتحاد برائے بحالیِ لیجیٹمیسی کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی نامعلوم مقام پر فرار ہو گئے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق میجر جنرل المالکی نے اعلان کیا ہے کہ چار جنوری 2026 کو اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمان نے عیدروس الزبیدی کو مطلع کیا کہ انہیں جمہوریۂ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے صدر ارشاد محمد العلیمی اور اتحاد کی افواج کی قیادت سے ملاقات کرنے کے لیے 48 گھنٹوں کے اندر سعودی عرب جانا ہوگا۔
’تاکہ حضرموت اور المہرہ کے صوبوں میں جنوبی عبوری کونسل سے وابستہ فورسز کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی وجوہات پر بات کی جا سکے۔‘
پانچ جنوری کو جنوبی عبوری کونسل کی صدارت نے مسئلے کے حل کے لیے ایک جامع جنوبی کانفرنس کی تیاری میں سعودی عرب کی قیادت میں کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور کانفرنس کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی بھرپور شرکت کی یقین دہانی کرائی۔
اس کے بعد عیدروس الزبیدی نے مملکت کو چھ جنوری کو شرکت کرنے کے اپنے ارادے سے آگاہ کیا، اور وفد ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہو گیا۔
تاہم یمنیہ ایئر ویز کی پرواز IYE 532، جس کی روانگی کا وقت رات 10 بج کر دس منٹ مقرر تھا اور جس میں وفد نے سوار ہونا تھا، تین گھنٹے سے زائد تاخیر کا شکار رہی۔ یمنی حکومت اور اتحاد کو خفیہ معلومات موصول ہوئیں کہ عیدروس الزبیدی نے آدھی رات کے قریب جبل حدید اور الصلبان کے کیمپوں سے بڑی تعداد میں فروسز جن میں بکتر بند گاڑیاں، جنگی گاڑیاں، بھاری اور ہلکے ہتھیار اور گولہ بارود الضالع کی جانب منتقل کر دی ہیں۔
بعد ازاں مذکورہ پرواز کو روانگی کی اجازت دے دی گئی جس میں جنوبی عبوری کونسل کے کئی رہنما سوار تھے، تاہم کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی اس میں شامل نہیں تھے اور وہ نامعلوم مقام کی طرف فرار ہو گئے۔
انہوں نے جنوبی عبوری کونسل کے ارکان اور رہنماؤں کو اپنی موجودگی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دیں۔ یہ سب اس پیش رفت کے بعد ہوا ہے جب عیدروس الزبیدی نے عدن میں درجنوں افراد میں اسلحہ اور گولہ بارود تقسیم کیا تھا جس کا مقصد آئندہ چند گھنٹوں میں عدن میں بدامنی پھیلانا تھا۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر نیشنل شیلڈ فورسز اور اتحاد نے صدارتی قیادت کونسل کے نائب صدر عبدالرحمن المحرمی (ابو زرعہ) سے مطالبہ کیا کہ وہ سکیورٹی قائم کریں، عدن کے اندر کسی بھی قسم کی جھڑپوں کو روکیں، شہریوں کو کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچائیں، جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں اور نیشنل شیلڈ فورسز کے ساتھ تعاون کریں۔
اتحادی افواج نے مذکورہ فوجی یونٹوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کی جو کیمپوں سے نکل کر صوبہ الضالع میں الزند کیمپ کے قریب ایک عمارت میں تعینات ہو گئیں۔
صبح چار بجے اتحادی افواج نے حکومتی افواج اور نیشنل شیلڈ فورسز کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت محدود پیشگی کارروائیاں کیں جن کا مقصد ان فورسز کو ناکام بنانا اور عیدروس الزبیدی کی جانب سے کشیدگی بڑھانے اور اسے الضالع تک پھیلانے کی کوششوں کو روکنا تھا۔
یمن کے اتحاد برائے بحالیِ لیجیٹمیسی کی مشترکہ افواج کی کمان اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ وہ یمنی حکومت اور عدن کی مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر سکیورٹی اقدامات میں تعاون اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہی ہے، اور شہروں اور شہریوں کو نشانہ بنانے والی کسی بھی فوجی کارروائی کا مقابلہ کرے گی۔
مشترکہ افواج کی کمان تمام شہریوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے پیشِ نظر عدن اور الضالع کے کیمپوں سے دور رہیں، فوجی گاڑیوں کے قریب نہ جائیں اور کسی بھی مشکوک فوجی نقل و حرکت کے بارے میں سکیورٹی اداروں کو آگاہ کریں۔
