یمن کی جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی ریاض کے لیے طیارے میں سوار نہیں ہوئے: اتحاد
عیدروس الزبیدی کو مذاکرات میں شرکت کے لیے منگل کو سعودی عرب پہنچنا تھا (فوٹو: ایکس)
یمن کی جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی نامعلوم مقام پر فرار ہو گئے ہیں اور وہ سعودی دارالحکومت ریاض جانے والے جہاز پر سوار نہیں ہوئے، جہاں دیگر جنوبی گروپوں کے ساتھ مذاکرات ہونا تھے۔
عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب نے جنوبی یمن میں کشیدگی کم کرنے کے لیے گروپوں کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی۔ الزبیدی کو یمنی حکومت اور جنوبی فریقین کے درمیان مذاکرات میں شرکت کرنا تھی۔
عیدروس الزبیدی اور یمن کی صدارت کونسل کے رہنما ارشاد العلیمی دونوں نے شرکت پر اتفاق کیا تھا۔
یمن کی قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد کا کہنا ہے کہ عبوری کونسل کے کئی ارکان ریاض جانے والے جہاز میں سوار ہوئے۔
عیدروس الزبیدی کو منگل کو سعودی عرب پہنچنا تھا لیکن تین گھنٹے کی پرواز میں تاخیر کے دوران، اتحاد نے کہا کہ عدن میں ’بلا جواز نقل و حرکت‘ دیکھنے میں آئی۔
اتحاد نے کہا کہ انہیں معلومات موصول ہوئی ہیں کہ الزبیدی نے بڑی تعداد میں فورسز کو دھلا کی جانب بھیجا ہے۔
گزشتہ ہفتے اتحاد نے جنوبی یمن کے شہر مکلا میں سمگل شدہ ہتھیاروں اور دیگر فوجی سامان کی دو کھیپوں کو نشانہ بنانے کے لیے ’محدود‘ فضائی حملہ کیا۔
اتحاد نے کہا کہ دونوں جہاز یمن کی حکومت یا اتحاد کی اجازت کے بغیر بندرگاہ میں داخل ہوئے، جس کے باعث بندرگاہ کو بند کر دیا گیا۔
اتحاد کا کہنا ہے کہ یمن کے مشرقی گورنریٹس میں جنوبی عبوری کونسل کی فورسز کی مدد کے لیے بڑی مقدار میں ہتھیار اور جنگی گاڑیاں بھیجی گئیں، جو تنازع کو بڑھانے کے لیے تھیں۔
