Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب اور امارات میں کشیدگی کے پیچھے ’غلط معلومات‘ ہو سکتی ہیں: سی این این

عرب اتحاد نے دو بحری جہازوں پر محدود فضائی حملہ کیا تھا۔ (فوٹو: کولیشن ہینڈآؤٹ)
امریکی نیوز چینل سی این این نے کہا ہے کہ ریاض اور ابوظبی کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کی وجہ وہ غلط اطلاع ہو سکتی ہے جو متحدہ عرب امارات کو سعودی ولی عہد کے حالیہ واشنگٹن دورے کے بارے میں دی گئی۔
عرب نیوز کے مطابق امریکی نیوز چینلز کے ذرائع کے مطابق سعودی عرب کا ماننا ہے کہ ابوظبی نے اپنی حمایت یافتہ علیحدگی پسند جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی)  کی فورسز کو سعودی سرحد کے قریبی صوبوں میں متحرک کیا، غلط اطلاع ملنے کے بعد کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے نومبر میں وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا تھا کہ ابو ظبی پر پابندیاں لگائی جائیں، کیونکہ وہ سوڈان کی خانہ جنگی میں کسی جنگجو گروپ کی حمایت کر رہا ہے۔   
سی این این کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاض نے متحدہ امارات سے رابطہ کر کے کہا ہے کہ اس کی جانب سے ایسی کوئی درخواست نہیں کی گئی۔
امریکی چینل کے مطابق شناخت ظاہر نہ کی شرط پر ایک اماراتی عہدیدار سے جب جھوٹی معلومات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس کا براہ راست جواب نہیں دیا۔
نومبر میں ہونے والے دورے کے موقع پر صدر ٹرمپ نے عوامی سطح پر یہ اعلان نہیں کیا تھا کہ انہوں نے سعودی ولی عہد کی درخواست کی بنیاد پر اپنی حکومت کو سوڈان میں جاری خونریز تنازع کے حل کے لیے مداخلت کرنے کی ہدایت کی تھی۔
اس وقت نہ تو صدر اور ولی عہد کا کوئی بیان سامنے آیا اور نہ ہی سعودی یا امریکی میڈیا کی کسی رپورٹ میں متحدہ عرب امارات کا کوئی حوالہ دیا گیا تھا۔
30 نومبر کو ریاض نے فضائی حملے کیے جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ متحدہ عرب امارات کی یمن جانے والی کھیپ تھی جو فوجی ساز و سامان پر مشتمل تھی اور اتحاد کے ساتھ مربوط نہیں تھی۔
مملکت نے یمنی حکومت کے اس مطالبے کی حمایت بھی کی جس میں متحدہ امارات کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا تھا۔
ابوظبی کی جانب سے اس پر رضامندی ظاہر کی گئی اور بیان جاری کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا اس نے اپنی مرضی سے کیا۔

عرب اتحاد نے 30 دسمبر کو یمن میں اسلحہ لے جانے والے دو بحری جہازوں پر ’محدود‘ فضائی حملہ کیا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

یو اے ای کے بیان میں ابوظبی کی جانب سے سعودی عرب کی سلامتی و خود مختاری کے لیے غیرمتزلزل عزم ظاہر کیا گیا اور کسی بھی ایسے اقدام کو مسترد کیا گیا جس سے مملکت کو کوئی خطرہ ہو یا علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچے۔
سی این این کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ یہ سمجھتا ہے اگر علیحدگی پسند پیچھے نہ ہٹے تو سعودی عرب کی جانب سے مزید حملے بھی ممکن ہوں گے۔ پچھلے ہفتے متحدہ عرب امارات کی جانب سے یمن سے فوجیں نکالنے کے بعد ایس ٹی سی بھی پیچھے ہٹ گئی مگر ریاض اور اتحادیوں کے شدید فوجی دباؤ کے باعث اس نے اپنا علاقہ کھو دیا اور اب اس کا کہنا ہے کہ وہ دوسرے یمنی فریقوں کے ساتھ بات چیت میں داخل ہونے پر خوش ہے۔
مملکت کی جانب سے کئی بار عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کا ماننا ہے کہ جنوبی کاز صرف ایک ہے، جس کے لیے وہ فریقوں کو میز پر آنے اور میدان جنگ سے دور رہنے پر زور دیتا ہے۔
سعودی عرب نے جنوبی علیحدگی کے معاملے پر ریاض میں مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے جس کا یمنی، حکومت، مختلف یمنی دھڑوں اور ایس ٹی سی کے علاہ زیادہ تر عرب اور اسلامی ممالک نے خیرمقدم کیا ہے۔

اتحادی فوج کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات سے آنے والے دو جہاز اجازت کے بغیر یمن کی مکلا بندرگاہ میں داخل ہوئے تھے 

رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں مسئلے کا باعث ایس ٹی سی کے صدر عیدروس الزبیدی ہیں، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دوہری شہریت رکھتے ہیں اور سوشل میڈیا پر بہت سے یمنی ان کے یو اے ای کے پاسپورٹ کی تصویریں پوسٹ کر رہے ہیں اور ان کو معاملات چلانے کے لیے نااہل قرار دیا جا رہا ہے۔
اور یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ وہ بیرونی ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں۔
کچھ لوگ ان کی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اگر جنوبی یمن کو آزادی مل گئی تو وہ اسرائیل سے تعلقات بنانے پر خوش ہوں گے۔
حال ہی میں یمن کے وزیر برائے میڈیا معمر اریانی نے ایک پوسٹ میں ایس ٹی سی پر ہتھیاروں کی چوری اور پھیلاؤ کی اجازت دینے کا الزام لگایا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایس ٹی سی جان بوجھ کر افراتفری پھیلا رہی ہے اور یمنی عوام کو داؤ پر لگا کر اپنے سیاسی فائدے کے لیے القاعدہ کو خوف کی علامت کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔‘
سی این این کے مطابق اسے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سعودی عرب کے خدشات یمن اور سوڈان میں امارات کی مداخلت کے باعث آگے بڑھے۔
رپورٹ کے مطابق ’ریاض، ہارن آف افریقہ، یمن اور شام میں امارات کی پالیسیوں کے حوالے سے بھی محتاط ہے جن کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ ابوظبی نے دروزکمیونٹی کے عناصر کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں جس کے کچھ لیڈروں نے علیحدگی کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔

ایس ٹی سی فورسز کو متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہے (فوٹو: اے ایف پی)

  اگرچہ رپورٹ میں کسی سعودی سورس کا تذکرہ نہیں کیا گیا مگر یہ عوامی سطح پر نظر آنے والی سعودی بیانات سے مطابقت رکھتی ہے۔
 جن میں صومالیہ سے صومالی لینڈ کی علیحدگی کی اسرائیل کی جانب سے توثیق اور تسلیم کیا جانا، نئی شامی حکومت کو کمزور کرنے کی کوششوں اور فوجی ذرائع سے جنوبی یمنی ریاست کو مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش پر اعتراض کیا گیا ہے۔
اسرائیل 2020 میں ہونے والے ابراہم معاہدے پر دستخط کے بعد بھی ابوظبی کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے جبکہ دوسری جانب سعودی عرب نے تل ابیب کے ساتھ تعلقات اس وقت معمول پر لانے سے انکار کیا ہے جب تک وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتا اور دو ریاستی حل کی طرف بڑھنے کے لیے قابل اعتماد اور ناقابل واپسی موقف پر قائم ہے۔
سعودی عرب کے اسی موقف کو نومبر میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورے کے موقع پر ایک بار پھر دوہرایا گیا۔

شیئر: