کوئٹہ کی شدید سردی میں صبح سویرے ریلوے سٹیشن پر سخت سکیورٹی سے گزر کر پلیٹ فارم تک پہنچنے والے مسافروں اور انہیں رخصت کرنے والوں کے چہروں پر بے چینی صاف نظر آ رہی ہے۔
انہی میں نورالعارفین بھی شامل ہیں جو اپنی بیوی اور بچوں کو جعفر ایکسپریس میں سوار کرنے آئے ہیں۔
ٹرین کی روانگی کا انتظار کرتے ہوئے ان کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا کہ کیا یہ سفر محفوظ ہوگا اور کیا ان کے بیوی بچے خیریت سے اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے؟
مزید پڑھیں
-
جعفر ایکسپریس جس کا سفر خطرناک مہم جوئی سے کم نہیں ہوتاNode ID: 887162
نورالعارفین نے اُردو نیوز کو بتایا کہ ’جب تک بیوی بچے بلوچستان کی حدود سے نکل کر سندھ کے نسبتاً محفوظ علاقے میں داخل نہیں ہوں گے اس وقت تک سکون نہیں ملے گا۔‘
سردیوں میں تعلیمی اداروں کی چھٹیاں شروع ہوتے ہی لوگ اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے بلوچستان سے پنجاب، سندھ یا خیبر پختونخوا کا رخ کرتے ہیں لیکن بلوچستان سے نکلنا ان دنوں آسان نہیں۔
سڑک کا راستہ مختصر ضرور ہے مگر محفوظ نہیں۔ ہوائی سفر بہت مہنگا ہے ایسے میں ٹرین ہی سب سے سستا ذریعہ ہے لیکن سخت سکیورٹی کے باوجود ریلوے ٹریک اور اس پر چلنے والی ٹرینیں حملوں کی زد میں رہتی ہیں۔
گزشتہ ڈیڑھ سال میں بلوچستان آنے جانے والی ٹرینوں اور ریلوے تنصیبات پر کم از کم 27 حملے ہو چکے ہیں جن میں 50 سے زائد مسافر ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
ان حملوں میں سب سے مہلک واقعہ مارچ 2025 میں پیش آیا جب جعفر ایکسپریس پر درہ بولان میں درجنوں حملہ آوروں نے حملہ کرکے 450 مسافروں کو یرغمال بنایا اور ان میں سے 26 مسافروں اور ٹرین کی سکیورٹی پر تعینات پانچ اہلکاروں کو قتل کر دیا۔
اس حملے کے بعد سے ٹرینوں اور ریلوے تنصیبات کے گرد سخت سکیورٹی اقدامات کیے گئے لیکن حملے رُک نہیں سکے اور اس کے بعد بھی گزشتہ 11 مہینوں میں مسافر ٹرینوں اور ریلوے ٹریکس پر تقریباً 20 حملے ہوچکے ہیں جن میں پانچ بار ٹرین کی بوگیاں پٹڑی سے اُتریں۔
شکارپور اور جیکب آباد کے درمیان ہونے والی تخریب کاری سے یہ بات سامنے آئی کہ صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ اس کی سرحد سے ملحق سندھ میں بھی سکیورٹی کے انتظامات میں ابھی خامیاں موجود ہیں۔

عسکریت پسندوں کے حملوں اور خطرات کے باعث بلوچستان میں ٹرین سروس وقفے وقفے سے معطل ہوتی رہی ہے۔ مارچ کے مہلک حملے کے بعد کئی دنوں تک ٹرین سروس بند رہی پھر جولائی، اگست، نومبر اور دسمبر میں کئی بار جعفر ایکسپریس اور بولان میل کو منسوخ کرنا پڑا۔
اس طرح مسلسل خطرات کی وجہ سے اب ٹرین کا سفر لوگوں کے لیے خوف اور غیر یقینی کا سفر بن چکا ہے۔
کوئٹہ کے رہائشی نورالعارفین کا سسرال پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں ہے اور ہر سال موسمِ سرما کی چھٹیوں کے موقع پر وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ پنجاب جاتے تھے۔
وہ بتاتے ہیں کہ پچھلے دو برسوں میں بسوں اور ٹرینوں پر حملوں نے انہیں سفر سے گریز کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس بار بچوں نے ضد کی تو انہوں نے بڑے بیٹے کے ہمراہ انہیں نانا کے گھر بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
’ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں‘
اُردو نیوز سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ روانگی سے 10 دن پہلے ٹکٹ خریدنے کے بعد یہ دن ان کے لیے شدید بے چینی کے تھے۔ انہیں ہر لمحہ یہ خدشہ تھا کہ کہیں جعفر ایکسپریس منسوخ نہ ہو جائے۔
جس دن ٹرین نکلی انہوں نے اس وقت تک سکون کا سانس نہیں لیا جب تک وہ بلوچستان کی حدود سے نکل کر سندھ میں داخل نہ ہو گئی۔ اس پورے راستے فون پر رابطہ قائم رکھا۔
نورالعارفین نے بتایا کہ ’محدود آمدن رکھنے والے خاندانوں کے پاس آپشن کم ہیں۔ جہاز کا سفر تیز اور محفوظ ہے مگر اتنا مہنگا کہ ایک بندے کے کرائے میں پوری فیملی ٹرین میں آ جا سکتی ہے۔ دوسری طرف سڑک کا راستہ بھی غیر محفوظ ہو چکا ہے۔‘
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب جانے والے راستوں پر لورالائی، موسیٰ خیل، بارکھان کے قریب مسافروں کو بسوں سے اُتار کر قتل کرنے کے کئی ہولناک واقعات ہو چکے ہیں جبکہ سنگل سڑکوں اور تیز رفتاری کی وجہ سے سڑکوں پر حادثات کی شرح بھی زیادہ ہے۔ جعفر ایکسپریس پر بھی مسلسل حملے ہو رہے ہیں لیکن کوئی اور آپشن ہی نہیں بچتا۔
سڑک پر حفاظتی چیکنگ کے مقاصد اپنی جگہ مگر مسافر ایک نئی اذیت سے دوچار ہیں۔ بارکھان میں پنجاب میں داخلے کے مقام پر پھر ڈیرہ غازی خان سے ملتان تک تین چار مقامات پر اور ژوب سے ڈیرہ اسماعیل خان کے راستے میں بھی متعدد چیک پوسٹوں پر بسیں روکی جاتی ہیں۔ کوئٹہ سے کراچی کے راستے پر بھی یہی صورتحال ہے۔
بلوچستان سے اندرون ملک نان کسٹم پیڈ سامان کی سمگلنگ کے خدشے کی وجہ سے ایک ایک بس کی تفصیلی چیکنگ میں آدھے گھنٹے سے زیادہ لگتا ہے۔ اس طرح ان چیک پوسٹوں پر لمبی قطاریں بنتی ہیں اور سفر کئی گھنٹے مزید طویل ہو جاتا ہے۔
کوئٹہ کے رہائشی ڈاکٹر امین اللہ نے دسمبر میں کوئٹہ سے لاہور کا سفر کیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ سفر عام حالات میں 14 سے 15 گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے مگر چیک پوسٹوں اور جنوبی پنجاب میں شدید دھند کی وجہ سے ہمیں 30 گھنٹے سے بھی زیادہ لگ گئے۔
بلوچستان میں شاہراہوں پر مسافروں کے قتل کے واقعات کے بعد شام پانچ بجے کے بعد بین الصوبائی سفر پر پابندی ہے - تاخیر کا شکار ہونے والی بسوں کو مختلف مقامات پر روک کر صبح روانگی کی اجازت دی جاتی ہے۔
اس طرح بلوچستان سے پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کو ملانے والی سڑکوں پر سفر بھی اب صبر اور اعصاب کی آزمائش بن چکا ہے۔

جعفر ایکسپریس: کوئٹہ سے پنجاب جانے والی واحد ٹرین
کوئٹہ سے پنجاب جانے والی واحد ٹرین جعفر ایکسپریس ہے۔ یہ سبی، سکھر اور ملتان سے ہوتے ہوئے لاہور، پھر راولپنڈی اور آخرکار پشاور پہنچتی ہے۔ کوئٹہ سے لاہور تک کا سفر شاذ و نادر ہی 24 گھنٹے سے کم میں مکمل ہوتا ہے۔ اس کے باوجود یہ ٹرین ہزاروں خاندانوں کے لیے بہت اہم ہے۔ تعلیم، روزگار اور کاروبار اسی کے ذریعے جڑے ہیں۔
بلوچستان میں ریلوے لائن 1880 کی دہائی میں برطانوی راج نے فوجی و تجارتی مقاصد کے لیے بچھائی تھی۔ دو دہائیوں سے جاری شورش کے دوران اس لائن اور اس پر چلنے والی ٹرینوں خاص کر جعفر ایکسپریس کو بارہا نشانہ بنایا گیا۔
2014 میں سبی سٹیشن پر کھڑی جعفر ایکسپریس پر حملے میں 17 افراد ہلاک ہوئے۔ نومبر 2024 میں کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش حملے میں 26 افراد قتل ہوئے جن میں زیادہ تروہ سکیورٹی اہلکار تھے جو واپس گھروں کو جا رہے تھے۔
11 مارچ 2025 کو درہ بولان میں جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ ملکی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دو دہائیوں میں بلوچستان میں ٹرینوں اور ریلوے ٹریکس پر 200 سے زائد حملے ہو چکے ہیں۔
مسافر ٹرینوں پر زیادہ تر حملے کوئٹہ سے سبی کے درمیان درہ بولان کے دشوار گزار اور ویران پہاڑی علاقے میں ہوتے ہیں۔ اس تقریباً 70 کلومیٹر طویل درے میں ٹرین سنگلاخ پہاڑوں کو کاٹ کر بنائی گئی 17 سرنگوں اور 350 پلوں سے گزرتی ہے۔
چڑھائی اور ڈھلوان پر بے قابو ہونے کے خطرے کے باعث رفتار 40 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم رکھی جاتی ہے یہی مشکل جغرافیہ اور سست رفتاری حملہ آوروں کے لیے موقع بن جاتی ہے۔
ٹرین کی ہائی جیکنگ اور بڑے حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے لیکن گزشتہ سال سبی سے سکھر کے درمیان ہونے والے زیادہ تر کم شدت کے حملوں میں بلوچ ری پبلکن گارڈز (بی آر جی) ملوث رہی ہے۔
اس تنظیم کے سربراہ سابق رکن بلوچستان اسمبلی بختیار ڈومکی ہیں۔ ان کالعدم عسکریت پسند گروہوں کا دعویٰ ہے کہ وہ ٹرینوں کو فوجی نقل و حرکت کی وجہ سے نشانہ بناتے ہیں تاہم ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ اس ٹرین کو زیادہ تر عام مسافراستعمال کرتے ہیں۔
بلوچستان میں اس وقت صرف تین ٹرینیں چل رہی ہیں جن میں جعفر ایکسپریس سب سے بڑی اور واحد ٹرین ہے جو پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کو بلوچستان سے جوڑتی ہے۔ بولان میل ہفتے میں صرف دو بار کوئٹہ اور کراچی کے درمیان چلتی ہے جبکہ چمن پسنجر کوئٹہ سے افغان سرحدی شہر چمن تک روزانہ چلتی ہے مگر یہ لوکل ٹرین صرف 120 کلومیٹر کا سفر کرتی ہے۔

ماضی میں چلنے والی دیگر کئی ٹرینیں سکیورٹی خدشات کے باعث بند ہو چکی ہیں یہاں تک کہ سبی اور ہرنائی کے درمیان چلنے والی سب سے منافع بخش مسافر و مال بردار ٹرین بھی چند ماہ بعد بند ہو گئی جسے اربوں روپے کے اخراجات سے 17 برس بعد بحال کیا گیا تھا۔
’بلوچستان کی ہر ٹرین میں 40 سکیورٹی اہلکار تعینات‘
مارچ میں ہونے والے حملے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بلوچستان میں ریل آپریشنز کی ڈرون کے ذریعے نگرانی، ریلوے سٹیشنز اور حساس مقامات پر سی سی ٹی وی کی تنصیب اور سکھر و ملتان ڈویژنز سے اضافی ریلوے پولیس اہلکاروں کی بلوچستان تعیناتی کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلوے پولیس میں 500 نئی بھرتیاں بھی کی جائیں گی جن میں سے 70 فیصد بلوچستان میں تعینات ہوں گے۔
کوئٹہ میں تعینات ریلوے کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اُردو نیوز کو بتایا کہ باقی صوبوں میں ٹرینوں میں دو سے چار ریلوے پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔ ’جعفر ایکسپریس حملے سے قبل بلوچستان کی ہر ٹرین میں 10 سے 12 سکیورٹی اہلکار تعینات ہوتے تھے تاہم حملے کے بعد یہ تعداد بڑھا کر اب لگ بھگ 40 کر دی گئی ہے۔ ان میں ریلوے پولیس کے علاوہ ایف سی اہلکار بھی ہوتے ہیں۔‘
کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر ہر صبح ٹرین کی روانگی سے قبل مسافروں کے سامان کی سکیننگ، بوگیوں میں سکینرز اور کھوجی کتوں کے ذریعے چیکنگ کی جاتی ہے۔ کوئٹہ سے سندھ کی سرحد تک تقریباً 300 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کی روزانہ بم ڈسپوزل کلیئرنس کی جاتی ہے۔
ایف سی اہلکار ٹریک کی حفاظت کے لیے گشت اور بم ڈسپوزل کلیئرنس بھی کرتے ہیں جبکہ ریلوے پلوں اور سرنگوں کی سکیورٹی لیویز اور پولیس کے ذمے ہے۔ اس کے علاوہ پہاڑوں علاقوں سمیت مختلف مقامات پر ریلوے ٹریک کے ساتھ بڑی تعداد میں چوکیاں بنائی گئی ہیں جہاں 24 گھنٹے ایف سی اہلکار نگرانی پر مامور ہوتے ہیں ۔
ٹرین کی روانگی سے پہلے پائلٹ انجن کے ذریعے بھی پہلے ٹریک کلیئرنس کی جاتی ہے۔ کوئٹہ کے علاوہ مچھ اور سبی میں بھی ٹرین رُکے تو ہر بوگی اور سامان کی دوبارہ جانچ کی جاتی ہے۔
حملوں کے خطرات کی وجہ سے جعفر ایکسپریس سمیت کوئٹہ آنے جانے والی ٹرینوں کو بلوچستان کی حدود خاص کر درہ بولان میں رات کے سفر کی اجازت نہیں دی جاتی اور شام کے بعد داخل ہونے والی ٹرینوں کو جیکب آباد یا سبی ریلوے سٹیشنز پر روک دیا جاتا ہے۔
پاکستان ریلویز کے ترجمان بابر علی رضا کے مطابق بلوچستان میں ٹرینوں اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے ٹرینوں کی سکیورٹی بہتر ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس کے لیے دو خصوصی بلٹ پروف بوگیاں بھی تیار کی گئی ہیں جو بلوچستان کی حدود میں آنے جانے والی ٹرین کے ساتھ شامل کی جاتی ہے۔
ریلوے حکام کے مطابق ان بوگیوں میں ایل ایم جی مشین گن، جدید کیمرے، مواصلاتی نظام اور جیمرز نصب ہیں تاکہ راستے بھر نگرانی اور کسی بھی حملے کی صورت میں فوری ردعمل دے کر مسافروں کے سفر کو بے خطر اور محفوظ بنایا جاسکے۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات نے اُردو نیوز کو بتایا کہ ایف سی نارتھ کے سینکڑوں اہلکار روزانہ ٹریک کلیئرنس اور ٹرین کی سکیورٹی پر مامور رہتے ہیں۔ حفاظتی حکمتِ عملی کے تحت سندھ اور پنجاب سے آنے والی ٹرینوں کو بلوچستان دن کے اوقات میں گزارنے کا انتظام کیا جاتا ہے تاکہ خطرات کو کم اور نگرانی کو مؤثر کیا جاسکے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت، سکیورٹی اداروں اور متعلقہ محکموں کی کوششوں سے ٹرینوں اور بسوں پر حملوں کے واقعات اور ان کی شدت میں کمی آئی ہے۔ ان انتظامات کو مزید فول پروف بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ شہری بے خطر سفر کرسکیں۔‘

’مجبوری کی وجہ سے لوگ خطرات مول لے رہے ہیں‘
بم دھماکوں، راکٹ حملوں، فائرنگ، پٹڑیوں اور پلوں کو اُڑانے اور مسلسل حملوں کی کوششوں نے اگرچہ مسافروں میں خوف پیدا کیا ہے مگر ضرورت اور مجبوری کی وجہ سے لوگ ان خطرات کو بھی قبول کر رہے ہیں۔
ریلوے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ تمام حملوں اور بندشوں کے باوجود 2024 کے مقابلے میں 2025 میں جعفر ایکسپریس کی آمدن اور مسافروں کی تعداد زیادہ رہی۔
ریلوے کے ڈویژنل آفس کوئٹہ کا دعویٰ ہے کہ ہائی جیکنگ واقعہ کے بعد مسافروں کی تعداد میں کچھ کمی آئی تھی تاہم اب حالیہ مہینوں میں سکیورٹی اقدامات سے مسافروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت بھی جعفرایکسپریس پر سفر کے لیے کم از کم 10 دنوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے اس سے پہلے کی ٹکٹ نہیں مل رہی۔
گزشتہ ڈیڑھ سال میں ٹرینوں اور ریلوے تنصیبات پر کب کب حملے ہوئے؟
سال 2024، حملوں کی تعداد پانچ
14 اگست:کوئٹہ ریلوے سٹیشن کے قریب تین بم دھماکوں میں ایک ریلوے اہلکار ہلاک ،7 افراد زخمی
26 اگست: کوئٹہ میں سریاب اسٹیشن کے قریب ٹریک پر دھماکہ
26 اگست: سپیزنڈ کے قریب دھماکا، ٹریک کو نقصان
9 نومبر: کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر جعفرایکسپریس کی روانگی سے قبل خودکش حملہ، دو ریلوے اہلکاروں سمیت 26 ہلاک، 62 زخمی
17 دسمبر: سبی کے قریب بابر کچھ میں دھماکے سے ریلوے پُل تباہ
سال 2025، حملوں کی تعداد 20
6 فروری: سبی-ناڑی کے درمیان ریلوے ٹریک پر نصب بم ناکارہ بناکر حملہ ناکام بنایا گیا
11 مارچ: درہ بولان میں جعفرایکسیرپس ہائی جیک، 450 سےزائد مسافر یرغمال، 26 قتل، باقی بازیاب
16 جون: کچھی میں آب گم اسٹیشن کے قریب دھماکا، 1 اہلکار زخمی
18 جون: بلوچستان سے ملحقہ سندھ کے ضلع جیکب آباد میں ٹریک پر دھماکا، جعفر ایکسپریس کی 5 بوگیاں ڈی ریل
24 جولائی: سبی کے علاقے بختیار آباد میں ٹریک پر بولان میل کے گزرتے ہوئے دھماکہ، ٹریک و بوگی کو نقصان
28 جولائی: سندھ کے علاقے شکارپور میں جعفر ایکسپریس پر دھماکا، 3 بوگیاں ڈی ریل
4 اگست: کچھی کے علاقے کولپور میں پائلٹ انجن پر فائرنگ، کوئی نقصان نہیں ہوا
7 اگست: سبی کے قریب جعفر ایکسپریس کے گزرنے کے بعد دھماکا، نقصان نہیں ہوا
8 اگست: پائلٹ انجن پر حملہ، نقصان نہیں ہوا
10 اگست: مستونگ کے علاقے سپیزنڈ کے قریب دھماکا، جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں ڈی ریل
13 ستمبر: مستونگ دشت کے قریب ٹریک پر دھماکہ
13 ستمبر: مستونگ ڈیگاری کے قریب دھماکا، نقصان نہیں ہوا
23 ستمبر: کوئٹہ کے قریب دشت میں ٹریک پر دھماکہ، جعفرایکسپریس کی 6 بوگیاں ڈی ریل، 10 مسافر معمولی زخمی
23 ستمبر: مستونگ سپیزنڈ کے قریب دھماکہ، نقصان نہیں ہوا
7 اکتوبر: شکارپور میں ریلوے ٹریک پر دھماکہ، جعفرایکسپریس کی بوگیاں ڈی ریل، 4 مسافر معمولی زخمی
9 اکتوبر:نصیرآباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں ریلوے ٹریک پر دھماکہ، ریلوے اہلکار ہلاک
29 اکتوبر: نصیرآباد کے علاقے نوتال میں جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملہ اور فائرنگ، نقصان نہیں ہوا
16 نومبر: نصیرآباد میں جعفرایکسپریس کے گزرنے کے بعد دھماکہ، ٹریک تباہ، جانی نقصان نہیں ہوا
25 نومبر: نصیرآباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں ٹریک سے بم برآمد، حملہ ناکام
29 نومبر:کوئٹہ کے علاقے سریاب میں دھماکے سے ٹریک کو جزوی نقصان پہنچا
سال 2026: اب تک دو حملے ہوئے
7 جنوری: نصیرآباد کے علاقے نوتال میں دھماکہ، ٹریک تباہ
7 جنوری:نصیرآباد میں جعفر ایکسپریس پر فائرنگ، کوئی نقصان نہیں ہوا











