Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ سے اسحاق ڈار کی ملاقات، ’پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا‘

اسحاق ڈار نے بتایا کہ ’مارکو روبیو کے ساتھ خوش گوار ماحول میں ملاقات ہوئی‘ (فوٹو: دفترِ خارجہ)
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں اپنے امریکی ہم منصب مارکو روبیو سے ملاقات کی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق جمعے کو ہونے والی اِس ملاقات میں عالمی اور علاقائی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
’دونوں وزرا خارجہ نے پاکستان امریکہ دوطرفہ تعلقات کے مثبت رُجحان پر اطمینان کا اظہار کیا۔‘
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’امریکی وزیرِ خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی نیک نیتی پر مبنی ثالثی کے کردار کو سراہا۔‘
بعدازاں واشنگٹن میں ہی نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ ’مارکو روبیو کے ساتھ خوش گوار ماحول میں ملاقات ہوئی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ملاقات میں پاکستان کے سفیر اور دفترِ خارجہ کے حکام موجود تھے۔‘
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان پہلی جنگ بندی پاکستان کی کوششوں کے باعث ممکن ہوئی۔‘
’پاکستان کوششوں سے 47 برس بعد پہلی مرتبہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات منعقد ہوئے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال میں بہتری کے لیے سفارتی روابط میں تیزی لائی۔‘
ایک سوال پر اسحاق ڈار نے کہا کہ ’ابراہیمی معاہدے کے حوالے سے متعدد افواہیں گردش کر رہی ہیں، پاکستان، فلسطین کے حوالے سے اپنے اُصولی موقف پر قائم ہے۔‘
’جب تک 1967 سے قبل کی سرحدوں اور القدس کے دارالحکومت کے ساتھ فلسطین کو تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک پاکستانی موقف میں کوئی لچک نہیں آئے گی۔‘
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’عالمی اُفق پر شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار سے پاکستان کو نئی شناخت ملی۔‘

شیئر: