Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دیہات خالی کرنے کی وارننگ کے بعد اسرائیل کی لبنان کے تاریخی قلعے کے قریب پہاڑی علاقے پر بمباری

بیوفورٹ قلعے پر اسرائیلی فوجیوں نے 18 سال تک قبضہ کیے رکھا، اور مئی 2000 میں وہ یہاں سے چلے گئے (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل کی فضائیہ اور توپ خانے نے سنیچر کو جنوبی لبنان میں بارہویں صدی میں صلیبی جنگوں کے دوران تعمیر کیے گئے تاریخی قلعے کے قریب سٹریٹجک اہمیت کے حامل ایک پہاڑی علاقے پر حملہ کیا جب کہ جنوبی شہر نباتیہ کے قریبی دیہاتوں میں شدید چھڑپیں جاری ہیں۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق لبنانی اور اسرائیلی فوجی حکام کے درمیان پینٹاگون میں دہائیوں میں ہونے والی پہلی براہ راست بات چیت کے ایک روز بعد اسرائیل کی فوج نے جنوبی لبنان کے ایک درجن سے زائد دیہات خالی کرنے کا انتباہ جاری کیا تھا۔
لبنان کے صدر اور وزیراعظم کے درمیان سنیچر کو ہونے والی ملاقات میں جنوبی لبنان کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے بعد ایک بیان میں دونوں رہنماؤں نے کہا کہ وہ اسرائیل کو گھروں اور تاریخی مقامات کو تباہ کرنے اور انخلا کے پیغامات کو روکنے کے لیے اپنے رابطے تیز کر دیں گے۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے صلیبی جنگوں کے دوران تعمیر کیے گئے بیوفورٹ قلعے کے قریب اسرائیل کے فضائی حملوں اور توپ خانے کی گولہ باری کی اطلاع دی ہے۔
بیوفورٹ قلعہ اسرائیلی سرحد سے قریباً 15 کلومیٹر دُور ہے اور یہاں سے جنوبی لبنان کے وسیع علاقے پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔
تزویراتی اہمیت کے حامل اس قلعے پر اسرائیلی فوجیوں نے 18 سال تک قبضہ کیے رکھا، اور بعد ازاں مئی 2000 میں اسرائیلی فوج لبنان سے چلی گئی تھی۔
اسرائیلی فوج کئی روز سے بیوفورٹ قلعے کے قریب واقع دیہات، جن میں نبطیہ شہر کے نزدیک یحمر اور زوطر الشرقیہ شامل ہیں، میں پیش قدمی کر رہی ہے۔
اسرائیلی افواج سٹریٹجک دریائے لیطانی کو عبور کر چکی ہیں، جسے اسرائیلی فوج ایک عملی سرحد کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔
16 اپریل کو امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان کے بڑے علاقے اب بھی اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔

جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان کے بڑے علاقے اب بھی اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملے اور زمینی کارروائیاں جنگ بندی کے بعد بھی جاری رہیں، جبکہ حزب اللہ کی جانب سے بھی اسرائیل پر راکٹ حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ملک کو اسرائیل کی بدترین بمباری کا سامنا ہے: لبنانی وزیراعظم
لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی پر زور دیا اور کہا کہ ’اسرائیل کی یہ پالیسی اُس کی اپنی سلامتی کو یقینی نہیں بنا سکتی۔‘
سنیچر کو ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب میں لبنانی وزیراعظم نے اسرائیل کے ساتھ اپنی حکومت کی براہ راست بات چیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات لبنان کے لیے ’سب سے کم نقصان دہ راستہ‘ ہیں۔
یاد رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان رواں برس 16 اپریل کو جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا جس میں بعد ازاں 15 مئی کو 45 روز کی توسیع کی گئی تھی۔
تاہم امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات اور جنگ بندی کے باوجود اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے، فریقین نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

شیئر: