Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جیکلین فرنینڈز کی مشکلات میں اضافہ، عدالت کا منی لانڈرنگ کیس میں فردِ جُرم عائد کرنے کا حکم

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کی ایک عدالت نے سنیچر کو بالی وڈ اداکارہ جیکلین فرنینڈز، مبینہ نوسرباز سکیش چندرشکیھر  اور 15 دیگر افراد کے خلاف 200 کروڑ روپے کے منی لانڈرنگ کیس میں فردِ جُرم عائد کرنے کا حکم دے دیا۔
ایڈیشنل سیشن جج پرشانت شرما نے کہا کہ ’بادی النظر میں ریکارڈ پر موجود مواد تمام ملزمان کے خلاف کارروائی آگے بڑھانے کے لیے کافی ہے۔‘
ان کے مطابق ’ملزمان کے خلاف انسدادِ منی لانڈرنگ قانون کی دفعہ 3 کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا، جس کی سزا پی ایم ایل اے کی دفعہ 4 کے تحت دی جاتی ہے۔‘
استغاثہ کے مطابق سکیش چندر شیکھر جیل کے اندر سے ایک منظم جرائم کا نیٹ ورک چلا رہے تھے۔ وہ خود کو وزیرِاعظم آفس، وزارتِ داخلہ اور وزارتِ قانون کا سینیئر افسر ظاہر کرکے لوگوں کو دھوکہ دیتے تھے اور اُن سے رقم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹوریٹ آگ انفورسمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ رقم بینک اکاؤنٹس، حوالہ چینلز، کیش ڈیلیوری اور جعلی اداروں کے ذریعے منتقل کی گئی۔
’تحقیقات میں موبائل فونز، واٹس ایپ چیٹس، ٹیلیگرام پیغامات، جعلی کال ریکارڈز، فورینزک رپورٹس اور بینک ٹرانزیکشنز سمیت متعدد ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں۔‘
ایجنسی نے اپنی ضمنی چارج شیٹ میں یہ بھی الزام لگایا کہ اداکارہ جیکلین فرنینڈز سکیش چندرشیکھر کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھیں اور انہوں نے اُن سے قیمتی تحائف وصول کیے، جو مبینہ طور پر پنکی ایرانی کے ذریعے اُن تک پہنچائے گئے۔
دہلی پولیس نے مبینہ فراڈ اور منی لانڈرنگ کیس کے مرکزی ملزم سکیش چندرشیکھر کو 2017 میں ایک بڑے فراڈ اور بھتہ خوری کے الزام میں باضابطہ طور پر گرفتار کیا تھا۔ 
بعد ازاں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بھی 2021 میں انہیں گرفتار کر کے نئی دہلی کی تہاڑ جیل منتقل کردیا۔ 

شیئر: