طائف: ’بیت شقیر‘ میں تعمیراتی سادگی اور ورثے کی جھلک
عمارت کو مقامی پتھروں اور لکڑی سے تعمیر کیا گیا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
طائف کمشنری ایک بھر پور تعمیراتی ورثے کی حامل ہے جو اس کی قدیم و تاریخی عمارتوں میں جھلکتا ہے۔ اس نے مختلف ادوار میں علاقے کی طرز زندگی کو تشکیل دیا ہے۔
ان تاریخی عمارتوں میں ’بیت شقیر‘ نمایاں لینڈ مارک میں سے ایک ہے۔ یہ علاقے کے قدیم بازار ’البلد‘ کے دل میں واقع اور وراثتی شناخت کی حامل ہے۔
ایس پی اے کے مطابق ’بیت شقیر‘ تعمیراتی سادگی اور گہری تاریخی اہمیت کو یکجا کرتا ہے۔ یہ عمارت تقریباً 110 مربع میٹر رقبے پر محیط ہے۔ اس میں تہہ خانہ، گراؤنڈ فلور، اس کے اوپر پہلی اور دوسری منزل ہے۔
بیت شقیت شہر کے تاریخی حصے میں مسجد عبداللہ بن عباس کے قریب واقع ہے جس کی مختلف منزلیں اپنے منفرد طرزِ تعمیر کی حامل ہیں۔
عمارت کو مقامی پتھروں اور لکڑی سے تعمیر کیا گیا ہے جو مختلف زمانوں میں تعمیری ارتقا کو ظاہر کرتی ہیں۔

عمارت میں روشنی اور تازہ ہوا کی آمد ورفت کے لیے اس وقت مروجہ روشن دانوں کا بھی خاص اہتمام کیا گیا تھا۔
عمارت میں نفیس لکڑی کا استعمال کرتے ہوئے نقش و نگار بنائے گئے۔ عمارت کے فرنٹ پر تین روشن دان ہیں۔ کھڑکیاں اور دروازے اعلٰی معیار کی ’ٹیک‘ لکڑی سے بنے ہیں۔
عمارت کی اصل شناخت، ساخت اور تناسب کو برقرار رکھتے ہوئے اسے از سر نو اسی انداز میں تعمیر کیا گیا۔ لکڑی کے کندہ کاری اور تزئین و آرائش کے لیے اسی انداز کو اختیار کیا گیا۔

بیت شقیر کا یہ ماڈل ان کوششوں کی نمائندگی کرتا ہے جو ہیریٹج اتھارٹی کی جانب سے مملکت بھر میں تاریخی عمارتوں اور محلات کی بحالی کے لیے کی جا رہی ہے تاکہ تاریخی ورثے کو محفوظ کیا جائے۔
واضح رہے طائف میں تاریخی محلات کی کثرت ہے جن میں ’قصرالکاتب، قصرالکعکی اور قصرالبوقیری‘ وغیرہ شامل ہیں۔
جبکہ تاریخی قلعوں میں قلعہ مروان، قلعہ العرفا قابل ذکر ہیں۔ یہ تمام عمارتیں علاقے کی تہذیبی گہرائی اور تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔
