Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی پاسپورٹ پر صدر ٹرمپ کی تصویر، ’ذاتی تشہیر ہے‘

دارالحکومت کی کئی سرکاری عمارتوں پر صدر کے بینرز لگائے گئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے پر ایک غیر معمولی اعلان سامنے آیا ہے۔ محکمہ خارجہ نے اعلان کیا کہ ایک محدود ایڈیشن پاسپورٹ جاری کیا جائے گا جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر اور ان کے سنہری دستخط نمایاں ہوں گے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ اعلان امریکی عوام کے لیے حیران کن تھا کیونکہ دنیا کی جمہوریتوں میں شاذ و نادر ہی کسی موجودہ سربراہِ حکومت کی تصویر پاسپورٹ پر چھاپی جاتی ہے۔
واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران نمونہ پاسپورٹ دکھایا گیا جس میں ٹرمپ کی سنجیدہ تاثرات والی تصویر آزادی کے اعلامیے کے پس منظر پر چھپی ہوئی تھی۔ ایک اور ورژن میں بانیانِ امریکہ کی تاریخی پینٹنگ شامل تھی۔ حکام نے بتایا کہ یہ پاسپورٹ صرف دارالحکومت میں محدود وقت کے لیے دستیاب ہوگا اور اس کے لیے کوئی اضافی فیس نہیں لی جائے گی۔
اس اعلان پر سیاسی ردعمل شدید تھا۔ حزبِ مخالف کے قانون سازوں نے اسے صدر کی ذاتی تشہیر اور اداروں پر ان کی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی وسائل کو صدر کی انا کی تسکین کے لیے استعمال کرنا جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک اپنے پاسپورٹ میں قدرتی مناظر یا تاریخی ورثہ دکھاتے ہیں، حتیٰ کہ شمالی کوریا بھی اپنے رہنما کی تصویر شامل نہیں کرتا بلکہ مقدس پہاڑ پیکٹو کو نمایاں کرتا ہے۔ موجودہ امریکی پاسپورٹ میں بھی چاند پر قدم رکھنے کا منظر اور آزادی کی علامت مجسمۂ آزادی شامل ہے۔
گذشتہ سال عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ٹرمپ نے غیرمعمولی  انداز میں اپنے نام اور تصویر کو سرکاری اداروں پر مسلط کر دیا ہے۔
دارالحکومت کی کئی سرکاری عمارتوں پر صدر کے بینرز لگائے گئے ہیں، جبکہ حکام نے ان کا نام کینیڈی سینٹر برائے فنونِ لطیفہ اور یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس پر بھی شامل کر دیا ہے۔
گذشتہ ماہ محکمہ خزانہ نے بھی اعلان کیا کہ جلد ہی ڈالر کے نوٹ پر ٹرمپ کے دستخط ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے، جو پہلی مثال ہے۔

 

شیئر: