Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ نے یکطرفہ فتح کا اعلان کیا تو ایران کا ردعمل کیا ہوگا؟ امریکی خفیہ ایجنسیوں کا جائزہ

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق جنگ امریکی عوام میں انتہائی غیر مقبول ہے (فوٹو: روئٹرز)
امریکی خفیہ ایجنسیاں اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر فتح کا اعلان کیا تو تو ایران کس طرح ردعمل ظاہر کرے گا؟ یہ دو ماہ سے جاری ایسی جنگ ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور وائٹ ہاؤس کے لیے نقصان کا باعث بن چکی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انٹیلیجنس کمیونٹی ٹرمپ انتظامیہ کے سینیئر عہدیداروں کی درخواست پر اس سوال اور دیگر پہلوؤں کا تجزیہ کر رہی ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ اگر ٹرمپ اچانک جنگ سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کریں تو اس کے کیا نتائج ہوں گے۔ کچھ حکام کو خدشہ ہے کہ یہ فیصلہ ریپبلکن پارٹی کو آئندہ وسط مدتی انتخابات میں بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے۔
فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور ٹرمپ دوبارہ فوجی کارروائیاں تیز کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ فوری طور پر کشیدگی کم کرتے ہیں تو اس سے صدر پر سیاسی دباؤ کم ہو سکتا ہے، اگرچہ اس سے ایران کو تقویت مل سکتی ہے جو بعد میں اپنا جوہری اور میزائل پروگرام دوبارہ شروع کر کے خطے میں امریکی اتحادیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابتدائی بمباری کے بعد ایجنسیوں نے اندازہ لگایا تھا کہ اگر امریکہ اپنی افواج کم کر کے فتح کا اعلان کرے تو ایران اسے اپنی کامیابی سمجھے گا۔ لیکن اگر امریکہ فتح کا اعلان کرے اور فوجی موجودگی برقرار رکھے تو ایران اسے محض مذاکراتی حربہ سمجھے گا۔
سی آئی اے نے اس تجزیے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں جلد بازی نہیں کرے گا اور صدر صرف ایسا معاہدہ کریں گے جو امریکی سلامتی کو اولین ترجیح دے۔
سیاسی دباؤ اور عوامی رائے
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق جنگ امریکی عوام میں انتہائی غیر مقبول ہے۔ صرف 26 فیصد افراد نے کہا کہ فوجی مہم اخراجات کے قابل ہے، اور صرف 25 فیصد نے کہا کہ اس سے امریکہ محفوظ ہوا ہے۔
گزشتہ دنوں وائٹ ہاؤس کی بات چیت سے واقف تین افراد نے بیان کیا ہے کہ ٹرمپ اس سیاسی قیمت سے بخوبی آگاہ ہیں جو وہ اور ان کی جماعت ادا کر رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اپنے خصوصی ایلچی اور داماد کا ایران کے ساتھ ملاقات کا دورہ منسوخ کر دیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

اس دوران ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے عالمی توانائی کی قیمتیں بڑھا دی ہیں، جس سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اگر امریکی افواج کم کی جائیں اور ناکہ بندی ختم ہو تو پٹرول کی قیمتیں نیچے آ سکتی ہیں، لیکن فی الحال دونوں فریق کسی معاہدے سے دور ہیں۔
صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اپنے خصوصی ایلچی اور داماد کا ایران کے ساتھ ملاقات کا دورہ منسوخ کر دیا، اور کہا کہ اگر ایران بات کرنا چاہے تو وہ خود رابطہ کرے۔
فوجی آپشنز
امریکی انتظامیہ کے پاس مختلف فوجی آپشنز موجود ہیں جن میں ایران کے فوجی اور سیاسی رہنماؤں پر دوبارہ فضائی حملے شامل ہیں۔ تاہم، ایران نے جنگ بندی کے دوران اپنے ہتھیار اور ڈرون دوبارہ تیار کر لیے ہیں جس سے جنگ دوبارہ شروع کرنے کی لاگت پہلے سے زیادہ ہو گئی ہے۔

 

شیئر: