پی ایس ایل 11 میں جو چند بہت مختلف، عمدہ اور بہترین چیزیں ہوئیں، ان میں سرفہرست بابراعظم کی شاندار بیٹنگ بھی ہے۔
بابراعظم اس ٹورنامنٹ میں ایک بالکل ہی بدلے ہوئے، نئے انداز کے بلے باز کے طور پر سامنے آئے۔
انہوں نے نہ صرف اپنا سٹرائیک ریٹ بہتر کیا اور ڈاٹ بالز کھیلنا بہت کم کر دیں بلکہ رنز کے انبار بھی لگا دیے۔ یہ سب مگر کیسے ممکن ہوا؟
اس کا جائزہ لیتے ہیں مگر پہلے ایک نظر پی ایس ایل گیارہ میں بابراعظم کے بیٹنگ اعداد وشمار پر ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
پی ایس ایل 11: پلے آف میچز میں شائقین کو سٹیڈیم آنے کی اجازتNode ID: 903552
بابراعظم نے منگل کی شام اسلام آباد یونائٹیڈ والے میچ کو ملا کر کل 10 میچز کھیلے، دراصل ان کا ایک میچ بارش کی وجہ سے ہو نہیں پایا تھا، ورنہ ان کے 11 میچز بنتے۔ بابر اعظم نے 10 میچز میں 84 رنز کی حیران کن ٹی ٹوئنٹی ایوریج کے ساتھ 588 رنز بنائے ہیں، ان میں دو سنچریاں اور تین نصف سنچریاں شامل ہیں۔
خاص بات یہ ہے کہ ان میچز میں بابر اعظم نے 60 چوکے اور 15 چھکے لگائے۔ چوکے تو خیر ان کا طرہ امتیاز رہا، مگر وہ کبھی اتنے زیادہ چھکے نہیں لگا پائے تھے لیکن اس بار یہ ہوا۔
بابراعظم کا سٹرائیک ریٹ146 سے زیادہ ہے۔ یہ کسی سپیشلسٹ بلے باز جسے اینکر کا کردار نبھانا پڑتا ہو، اس کے لیے بہترین سٹرائیک ریٹ ہے۔
بابر کی پہلی سنچری کوئٹہ گلیڈایٹر کے خلاف ہوئی، یہ 192 کے سٹرائیک ریٹ سے بنائی گئی تھی، 52 گیندوں پر، چار چھکوں کی مدد سے۔ ان میں سے صرف ایک ڈاٹ بال تھی، وہ بھی باؤنسر تھا جسے اس لیے چھوڑ دیا کہ شائد یہ وائیڈ بال ہو۔
منگل کی شام اسلام آباد یونائٹیڈ کے خلاف انسٹھ گیندوں پر سنچری بنائی۔ اس بار سٹرائیک ریٹ 174 تھا، اس اننگ میں 12 چوکے اور چار چھکے شامل تھے۔
یہ وہ بابر اعظم نہیں ہے جسے ہم پچھلے دو تین برسوں سے ٹی ٹوئنٹی میں سٹرگل کرتے دیکھ رہے تھے جس سے چھکے نہیں لگ پاتے تھے، جو سپنرز کے ہاتھوں پھنس رہا تھا، جسے تیز رفتار باولر اندر گیند لا کر ایل بی ڈبلیو یا بولڈ کرلیتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی آئی کہاں سے؟
اوپننگ پر واپسی

بابر اعظم کی 12 ٹی ٹوئنٹی سنچریوں میں سے 12 کی 12 اوپننگ پوزیشن پر کھیلتے ہوئے بنائی گئیں۔ ان کے 75 فیصد سے زیادہ رنز اوپنر کی حیثیت سے ہیں۔ جب انہیں تین یا چار نمبر پر بھیجا گیا تو انہیں پاور پلے کا فائدہ نہیں ملا، فیلڈ کھلی نہیں ہوتی تھی اور وہ اننگز بنانے کے بجائے بچانے میں لگ جاتے تھے۔
چلیں ون ڈاؤن تک تو کوئی تک تھی، حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بابر کو چوتھے نمبر پر کھلایا جاتا رہا جو کہ صریحاً ظلم تھا، مزید تکلیف دہ تب ہوجاتا جب ون ڈاون سلمان علی آغآ کھیلنے آتے جو ہر لحاظ سے بابر سے کم درجے کے بلے باز تھے۔ خیر پی ایس ایل کے اس سیزن میں بابر نے اپنی روایتی پوزیشن پر اوپننگ کی اور جیسے پرانا بابر لوٹ آیا۔ کرکٹ میں بھی زندگی کی طرح، آدمی کو جب اپنی فطری جگہ ملے تو وہ کھل جاتا ہے۔
ڈاٹ بال کو الوداع
بابر پر سب سے بڑا الزام یہی تھا کہ ان کی ٹی ٹوئنٹی اننگ میں ڈاٹ بالز خاصی ہوتی ہیں ۔جس سے رنز بننے کی رفتار سست ہوجاتی ہے ۔اس سیزن انہوں نے اس کا جواب عمل سے دیا۔ بابر نے اس ٹورنامنٹ میں اپنی پہلی سنچری بناتے ہوئے صرف ایک ڈاٹ بال کھیلی۔ باقی اکیاون گیندوں پر انہوں نے کچھ نہ کچھ رنز لیا۔ 41 گیندوں پر سنگل یا ڈبل اور باقی پر چوکے چھکے۔ بابر نے خود کہا کہ جب باؤلر باؤنڈری نہ دے تو سنگل لو، ڈاٹ بال مت کھاؤ۔ یہ سادہ بات لگتی ہے مگر ٹی ٹوئنٹی میں اسے نبھا وہی سکتا ہے جس نے اس پر سنجیدگی سے کام کیا ہو۔
تکنیکی بہتری،جس نے کرشمہ دکھایا

یہاں سب سے اہم بات آتی ہے۔ بابر اعظم دنیا کے بہترین ڈرائیو کرنے والے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی میں ان کا ایک پرانا مسئلہ یہ تھا کہ وہ آگے بڑھ کر ڈرائیو کرتے تھے۔ یہ ان کا فطری اور خوبصورت شاٹ ہے مگر ٹی ٹوئنٹی میں اسی سے دھوکہ بھی ہوتا ہے۔ سپنرز اپنی لینتھ کھینچ لیتے اور بابر باہر نکل کر بھی بمشکل سنگل لے پاتے یا وہ اونچا شاٹ کھیل کر آوٹ ہوجاتے۔
اس سیزن انہوں نے اپنے شاٹس میں ورائٹی پیدا کی۔ کبھی باہر نکل کر شاٹ کھیلا اور کبھی ’رک کر مارنا‘ سیکھا۔ اسپنر آئے، پہلے آگے بڑھنے کا انداز بنایا، پھر رک گئے، گیند کو آنے دیا اور پھر مڈ وکٹ کے اوپر سے زور سے بازو گھمایا۔
ابرار احمد جیسے کوالٹی سپنر کے خلاف مسلسل دو چھکے اسی طریقے سے لگائے۔ عثمان طارق کے خلاف بھی یہی کیا، ہوا کے رخ کے خلاف، لمبی باؤنڈری پر۔ یہ شاٹ اسپنر کو اس لیے پریشان کرتا ہے کیونکہ وہ لائن اور لینتھ اس حساب سے ڈالتا ہے کہ بلے باز آگے آئے گا، جب بلے باز نہیں آتا تو باؤلر کی حکمت عملی خود بخود بے کار ہو جاتی ہے۔
صرف سپنر ہی نہیں بلکہ تیز گیند پر بھی وہی کمال۔ ایک مخصوص منظر ذہن میں لائیں۔ تیز رفتار باؤلنگ، نوے میل فی گھنٹہ کے قریب رفتار، آف اسٹمپ کے باہر قدرے شارٹ آف لینتھ گیند۔ایسی گیند پر پہلے بابر یا تو چھوڑ دیتے تھے یا کنٹرولڈ کٹ کھیلتے تھے۔ مگر اس بار انہوں نے اسی گیند کو اوپر سے گائیڈ کرتے ہوئے اپر کٹ کے ذریعے باؤنڈری کے پار بھیجا۔ باولر تھے الزاری جوزف۔ کرکٹ کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ شاٹ صرف وہ کھلاڑی کھیل سکتا ہے جس کی آنکھیں اور ہاتھ ایک ہو جائیں، یعنی جو پوری طرح فارم میں ہو۔
اسی طرح شارٹ پچ باؤلنگ کے خلاف ان کا پل شاٹ اس ٹورنامنٹ میں ایک مستقل ہتھیار بن کر سامنے آیا۔ پہلے بابر کا کھیل زیادہ تر زمین کے ساتھ جڑا رہتا تھا، مگر اب وہ بیک فٹ پر جا کر نہ صرف گیند کو کنٹرول کرتے ہیں بلکہ اسے بااعتماد انداز میں باؤنڈری کے پار بھیجتے ہیں۔ خاص طور پر مڈ وکٹ اور اسکوائر لیگ کے درمیان ان کے پل شاٹس نے فیلڈ سیٹنگ کو بار بار بدلنے پر مجبور کیا۔
شاٹ سلیکشن میں بہتری لانا اور اپنے ہٹنگ آرک کو بڑھانا فیصلہ کن فیکٹر رہا۔ بابر کی بیٹنگ کا پہلے سٹائل یہ تھا کہ زیادہ تر کور ڈرائیو، اسٹریٹ ڈرائیو، ہوا میں کم شاٹس ،رسک کم۔ اس بار انہوں نے اپنے انداز اور سٹائل کو تبدیل کئے بغیر چند مفید اور موثر اضافے کیے۔
اس بار انہوں نے لانگ آف اور لانگ آن کے اوپر سے اونچے شاٹس کھیلے، پہلے بابر ایسا نہیں کرتے تھے۔ دوسری خاص بات مڈ وکٹ ایریا میں کھیل ہے، اس کے لئے بابر نے کلائیوں کا بہتر استعمال کرتے ہوئے بڑے اچھے فلک شاٹس کھیلے، یہ سپنرز کے خلاف بھی موثر رہا۔ بابر نے پری میڈیٹیٹڈ شاٹس بھی کھیلے ، پہلے وہ زیادہ تر ردعمل کی بیٹنگ کرتے تھے یعنی گیند کے حساب سے کھیلنا، اب پہلے سے فیصلہ کر کے بھی شاٹس کھیلتے رہے ہیں، ٹی ٹوئنٹی میں یہ بہت ضروری ہے تاکہ بلے باز مخالف باولر کے پلان کو بگاڑ سکے۔
بابر کی بیس اچھی ہے، بیلنس بھی ٹھیک رہا ہے، مگر اس بار اس میں بہتری دیکھی گئی۔ کریز پر وہ زیادہ مستحکم نظر آئے۔ نتیجہ نکلا کہ لمبے شاٹس میں طاقت آئی۔ ان کے بیٹ کی بیک لفٹ میں بھی ہلکی تبدیلی آئی، وہ قدرے اوپن رہی، فائدہ یہ ہوا کہ گیند کو اوپر اٹھانا آسان ہو گیا جبکہ شاٹ کے بعد مکمل فالو تھرو رہا۔ پہلے جو شاٹ گراونڈڈ رہتی اور چوکا ہوتا، اب اس پر چھکا بھی لگ جاتا تھا۔ اس بار وہ کھبے سپنرز کو زیادہ بہتر ڈیل کرتے رہے، کبھی باہر نکل کر ان کی لینتھ خراب کرتے اور کبھی بہت ڈیپ جا کر پل شاٹ سے مڈ وکٹ ریجن میں رنز بنا لیتے۔
تیز بولرز کی اندر آتی گیندوں کو بھی وہ اس بار زیادہ اعتماد سے کھیلتے رہے۔ ان کے بیٹ اور پیڈ میں گیپ کم ہوا، بلا بھی سیدھا آیا اور فرنٹ فٹ بھی سیدھا رہا، یوں گیند کو لائن میں آ کر کھیلتے رہے ، ایل بی ڈبلیو کا چانس کم ہوا۔ لیگ سائیڈ فلک شاٹس سے رنز بھی بڑھائے۔
ہم تکنیکی حوالوں سے دیکھیں تو بابر اعظم نے اس بار اپنی ’بیٹنگ آرک‘ کو غیر معمولی وسعت دی ہے۔ پہلے وہ ایک ’کلاسیکل‘ بلے باز کے طور پر گیند کو زمین پر رکھ کر کھیلنا پسند کرتے تھے، مگر اس بار ان کا بلا ایک مکمل قوس کی صورت میں نیچے سے اوپر کی طرف جاتا ہوا نظر آیا۔
اس ’بیٹ فلو‘ کی تبدیلی نے انہیں وہ 15 چھکے لگانے میں مدد دی جن کی ان سے توقع نہیں کی جاتی تھی۔ انہوں نے اپنی بنیادی تکنیک کو خراب کیے بغیر اپنے بازوؤں کو مکمل ’ایکسٹینشن‘ دی، جس سے گیند ٹائمنگ کے ساتھ ساتھ طاقت کے سہارے بھی باؤنڈری پار کرنے لگی۔
فٹنس پر کام
بابر نے اپنی پہلی سنچری کے بعد کہا کہ میں نے فٹنس پر بھی کام کیا۔ اس کا ثبوت اس اننگز کی آخری گیند پر ملا جب انہوں نے دوڑ کر ایک مشکل ڈبل مکمل کی اور سنچری مکمل کی۔ فٹنس اور بیٹنگ کا تعلق عام طور پر لوگ نہیں سمجھتے۔ جو کھلاڑی زیادہ چست ہو وہ زیادہ سنگل اور ڈبل لیتا ہے، ڈاٹ بال کم کھاتا ہے اور مشکل رنز بھی بھاگ کر لے آتا ہے۔ بابر کی فٹنس پر کام نے ان کی بیٹنگ میں براہ راست فرق ڈالا۔
جارحانہ بلے باز کا ساتھ
کوسل مینڈس کے ساتھ ان کی شراکت لگ بھگ چھ سو رنز کی رہی، پی ایس ایل کی تاریخ میں کسی بھی جوڑی کا سب سے بڑا مجموعہ۔ ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوئی کہ بابر کے پرفارم نہ کرنے میں خاصا حصہ ان کے ساتھ بلے بازوں کے پرفارم نہ کرنے کا بھی رہا۔ بابر جب اینکر بلے باز کے طور پر کھیل رہے ہو تو جو کھلاڑی بطور پاور ہٹر کے کھلائے گئے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ تیز رنز کریں۔ وہ اگر ناکام ہوجائیں گے تو یہ بابر کا قصور نہیں۔ پشاور زلمی کی جانب سے کوشل مینڈس نے وہی کردار نبھایا تو بابر نے بھی رنز کے انبار لگا دیے۔
دباؤ سے آزادی












