برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کیا ہے کہ ایجنٹ نے فائرنگ اپنے دفاع میں کی تھی۔
میئر نے کہا کہ انہوں نے خود فائرنگ کی ویڈیو دیکھی ہے جو حکومت کے بیان کے بالکل برعکس ہے، اور انہوں نے اسے ’گمراہ کن بیانیہ‘ قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ ’امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے ایک افسر کو بہت ہی سنگین طریقے سے گاڑی سے کچلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ وہ زندہ ہیں لیکن اب وہ ہسپتال میں صحت یاب ہو رہے ہیں۔‘
منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’وہ اسے اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ویڈیو دیکھنے کے بعد میں سب کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔‘
منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ وفاقی امیگریشن اہلکار شہر میں بدامنی پھیلا رہے ہیں۔
انہوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ سے کہا کہ ’منیاپولس سے نکل جائیں۔‘ تاہم انہوں نے شہریوں سے پُرسکون رہنے کی اپیل بھی کی۔
منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے کہا کہ وفاقی امیگریشن اہلکار شہر میں بدامنی پھیلا رہے ہیں (فوٹو: روئٹرز)
فائرنگ کے بعد جائے وقوعہ کے قریب لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ بعض مظاہرین کو بھاری ہتھیاروں سے لیس وفاقی اہلکاروں کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کی ترجمان ٹریشیا میک لافلن نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’ایک وفاقی امیگریشن افسر نے اس وقت فائرنگ کی جب ایک پُرتشدد ہنگامہ کرنے والی خاتون نے اہلکاروں کو گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی۔
انہوں نے لکھا کہ مبینہ حملہ آور کو گولی لگی اور وہ ہلاک ہو گئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ زخمی ہونے والے امیگریشن اہلکار مکمل طور پر صحت یاب ہو جائیں گے۔
میئر جیکب فرے نے کہا کہ انہوں نے جو ویڈیو دیکھی اس میں خاتون کسی کو کچلنے کی کوشش کرتی نظر نہیں آئیں۔
شہر کے پولیس چیف برائن اوہارا نے صحافیوں کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق خاتون کی گاڑی نے سڑک پر ٹریفک کو روک رکھا تھا جب ایک وفاقی اہلکار چل کر ان کے قریب آیا۔
انہوں نے کہا کہ گاڑی نے آگے بڑھنا شروع کیا، اس کے بعد کم از کم دو گولیاں چلیں اور پھر گاڑی سڑک کے کنارے جا کر ٹکرا گئی۔
صدر ٹرمپ نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن کے تحت اپنے پہلے سال میں امریکہ کے مختلف ڈیموکریٹ زیر انتظام شہروں میں وفاقی امیگریشن اہلکار تعینات کیے، جس پر بعض شہریوں نے سخت ردعمل دیا۔
نیوز رپورٹس کے مطابق انتظامیہ نے منیاپولس میں تقریباً دو ہزار اہلکار بھیجنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ہلاک ہونے والی خاتون کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
امریکی سینیٹر ٹینا سمتھ، جو مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ ہیں، نے سوشل میڈیا پر کہا کہ مذکورہ خاتون امریکی شہری تھیں۔
پولیس چیف نے کہا کہ وہ خاتون جو شادی شدہ تھیں، امیگریشن کارروائیوں کا ہدف نہیں تھیں۔