حسینہ بی بی اپنی چار سال کی بھوکی سے بلبلا رہی بیٹی کو گود میں لیے اس خوف کے ساتھ انڈیا بنگلہ دیش سرحدی چیک پوسٹ پر کھڑی تھیں کہ غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کہیں انڈین کریک ڈاؤن نہ شروع ہو جائے، چنانچہ وہ وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق وہ ان سینکڑوں بنگلہ دیشی شہریوں میں شامل ہیں جو انڈین ریاست مغربی بنگال کے علاقے حاکم پور میں دو دن سے جمع ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ لوگ اس امید پر واپس جانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ نئی ریاستی حکومت کی جانب سے سخت کارروائیاں کیے جانے سے قبل سرحد پار کر سکیں۔
انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے رواں ماہ کے آغاز میں مغربی بنگال میں حکومت حاصل کی اور غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت کے بعد ان کی ملک بدری کا وعدہ کیا تھا۔
مزید پڑھیں
یہ صورتِ حال تارکینِ وطن میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو ظاہر کرتی ہے جن میں سے اکثریت کے پاس شہریت کی مکمل دستاویزات نہیں ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی جبری بے دخلی اور ان کو حاصل محدود قانونی تحفظ کے بارے میں خبردار کر رہی ہیں۔
بہت سے لوگ ایک ایسی صورتِ حال میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں ایک طرف انڈیا کا دباؤ ہے کہ وہ ملک چھوڑ دیں، اور دوسری طرف بنگلہ دیش انہیں باضابطہ شہریت کے ثبوت کے بغیر قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے۔
کچھ لوگ مایوسی میں دریا عبور کر کے واپس جانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں، اگرچہ اس انخلا کا مکمل حجم واضح نہیں۔

گزشتہ ہفتے مغربی بنگال کی انتظامیہ نے ’غیر ملکیوں‘ کے لیے عارضی حراستی مراکز قائم کرنے کا حکم دیا، جن میں بنگلہ دیشی اور روہنگیا شہری شامل ہیں۔ اس اقدام نے ریاست کی تقریباً ساڑھے تین کروڑ مسلم آبادی میں مزید تشویش پیدا کی ہے۔
حسینہ نے کہا کہ ’ہم سے فوراً یہاں سے جانے کو کہا گیا ہے، اور اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو حکومت سخت کارروائی کرے گی۔‘ حسینہ کی عمر 45 برس ہے جو چھ سال قبل انڈیا آئی تھیں اور کولکتہ میں تعمیراتی کام کرتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم روزگار کی تلاش میں اس شہر آئے تھے۔ اب ہم بنگلہ دیش واپس جانا چاہتے ہیں، لیکن ہمیں نہیں معلوم اب وہاں ہمارا مستقبل کیا ہوگا۔‘
ان کے شوہر اپنی بھوکی بچی کو خشک روٹی کھلا رہے تھے، جبکہ خاندان ایک نامکمل عمارت میں جمع تھا اور کچھ لوگ کئی دن سے مناسب خوراک کے بغیر تھے۔
یہ ہجوم اس اچانک افواہ کے بعد جمع ہوا کہ حاکم پور کے راستے بنگلہ دیش واپس جانا ممکن ہے، جو کولکتہ سے تقریباً 80 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔
انڈیا کی بنگلہ دیش کے ساتھ ایک طویل اور غیر محفوظ سرحد ہے، جہاں تاریخی طور پر نقل مکانی معاشی مشکلات اور خاندانی روابط کی وجہ سے ہوتی رہی ہے۔
مغربی بنگال اور آسام جیسے سرحدی علاقوں میں دستاویزات کے بغیر تارکین وطن برسوں سے غیر رسمی معیشت کا اہم حصہ رہے ہیں۔
لیکن کارکنوں کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں آسام سے سینکڑوں افراد کو کسی قسم کی باقاعدہ قانونی کارروائی کے بغیر نسلی بنیادوں پر شناخت کے بعد سرحد پار بھیجا گیا ہے۔
جب امیدیں دم توڑ گئیں
حکام اور رہائشیوں کے مطابق، آسام میں ہونے والی پیش رفت نے مغربی بنگال میں خوف میں اضافہ کر دیا ہے۔
ایک سینئر پولیس افسر سبرتا سہا نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’منگل سے لوگ یہ سن کر حاکم پور چیک پوسٹ پر آ رہے ہیں کہ یہاں سے بنگلہ دیش جانا ممکن ہے۔‘

حکام نے بتایا کہ ’عارضی پناہ گاہ میں جمع افراد کو ابتدائی جانچ کے بعد حراستی مراکز میں منتقل کیا جائے گا، اور پھر بارڈر سکیورٹی فورس کے حوالے کر کے بنگلہ دیش بھیجا جائے گا۔‘
مغربی بنگال میں نقل مکانی کی تاریخ 1947 میں برطانوی ہندوستان کی تقسیم سے شروع ہوتی ہے۔
بنگال کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا تھا، جس میں ہندو اکثریتی مغربی بنگال انڈیا کا حصہ بنا، جبکہ مسلم اکثریتی مشرقی بنگال بعد میں بنگلہ دیش بنا۔
بہت سے لوگوں کے لیے واپسی صرف بقا کا نہیں بلکہ شناخت کا سوال بھی بن گئی ہے۔
20 سالہ عبدالشیخ نے کہا کہ ’میرے والدین دو دہائیاں قبل بنگلہ دیش سے انڈیا آئے تھے۔ میں کولکتہ میں پیدا ہوا، لیکن میرے پاس کوئی دستاویز نہیں جو میری انڈین شہریت ثابت کرے۔‘
انہوں نے بتایا کہ والدین کی وفات کے بعد انہیں کہا گیا ہے کہ وہ ’یہاں سے چلے جائیں ورنہ نتائج بھگتیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میری ساری امیدیں ختم ہو گئی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم میں یہ کیسے ثابت کروں کہ میں بنگلہ دیشی شہری ہوں۔‘

دیگر افراد نے کہا کہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا۔
ایک مزدور عارفال سردار نے کہا کہ ’ہم بے بس ہیں، ہم واپس جا رہے ہیں کیونکہ یہ اب حکومتی حکم ہے۔‘
سرحدی محافظوں نے خبردار کیا ہے کہ غیرقانونی طور پر سرحد پار کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، اور بہت سے لوگ رات کی تاریکی میں دریا عبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بارڈر سکیورٹی فورسز کے ایک اہل کار نے کہا کہ ’دریا پار کرنا مشکل نہیں، اور اب سرحد کی نگرانی بھی بہت مشکل ہو گئی ہے۔‘











