پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں کورونا کی وبا کے دوران بجلی کے بلوں میں دیے گئے ریلیف پیکج میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے 11 ارب 17 کروڑ 20 لاکھ 60 ہزار روپے کا ریلیف ایسے کمرشل صارفین کو فراہم کیا جو اِس کے اہل ہی نہیں تھے۔
مزید پڑھیں
-
کیا فیصل آباد میں نوجوان نے بجلی کا بل زیادہ آنے پر خودکشی کی؟Node ID: 791416
-
کیا پاکستان میں بجلی چوری روکنے کے نئے طریقے کامیاب ہو جائیں گے؟Node ID: 792321
یہ ریلیف نادہندگان، منقطع کنکشنز، سرکاری و گھریلو صارفین، ایک ہی شناختی کارڈ پر متعدد کنکشنز رکھنے والوں، مقررہ تاریخ کے بعد لگائے گئے کنکشنز اور تھری فیز میٹر والے کمرشل صارفین کو بھی دے دیا گیا، جبکہ دوسری جانب ہزاروں مستحق کاروباری صارفین مکمل فائدہ حاصل نہ کر سکے۔
اردو نیوز کو دستیاب ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق ناقص ڈیٹا، کمزور نگرانی، سوفٹ ویئر پر اندھا انحصار اور انتظامی غفلت کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق کورونا کی وبا کے دوران بجلی کے بلوں میں دیے گئے ریلیف پیکج کے نام پر پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے مجموعی طور پر 11 ارب 17 کروڑ 20 لاکھ 60 ہزار روپے کی ایسی رعایتیں فراہم کیں جو قواعد و ضوابط کے مطابق نہیں تھیں۔
یہ ریلیف تحریک انصاف کے دورِ حکومت اور عمران خان کے وزیراعظم ہونے کے زمانے میں متعارف کروائے گئے کورونا معاشی پیکج کے تحت دیا گیا۔
اس پیکج کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو سہارا دینا تھا، تاہم سرکاری ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پیکج کا بڑا حصہ ایسے صارفین کو منتقل ہو گیا جو اس کے مستحق ہی نہیں تھے۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق سب سے سنگین بے ضابطگیاں ان صارفین کو ریلیف دینے کی صورت میں سامنے آئیں جو بنیادی طور پر اس سہولت کے اہل ہی نہیں تھے۔
مختلف ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے ایک ہی احاطے میں موجود متعدد غیر قانونی کنکشنز، ایک ہی شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ کئی بجلی کنکشنز اور یکم مارچ 2020 کے بعد لگائے گئے کنکشنز کو بھی کورونا ریلیف فراہم کیا۔

صرف ایک شناختی کارڈ پر متعدد کنکشنز رکھنے والے 97 ہزار 868 صارفین کو 1 ارب 6 کروڑ 93 لاکھ روپے سے زائد کا ریلیف دے دیا گیا۔
سب سے زیادہ کیسز ملتان الیکٹرک پاور کمپنی کے تھے، جہاں 54 ہزار سے زائد صارفین کو 5 ارب 42 کروڑ 47 لاکھ روپے کی رعایت دی گئی۔ اسی طرح لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 15 ہزار سے زائد صارفین کو 2 ارب 65 کروڑ 14 لاکھ روپے جبکہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 17 ہزار سے زائد صارفین کو 86 کروڑ 79 لاکھ روپے کی سہولت فراہم کی۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بجلی نادہندگان اور پہلے سے منقطع کنکشنز والے صارفین کو بھی بڑے پیمانے پر ریلیف دیا گیا، حالانکہ واضح ہدایات کے مطابق ایسے صارفین کسی بھی قسم کی رعایت کے اہل نہیں تھے۔
پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 34 ہزار سے زائد نادہندگان کو 2 ارب 84 کروڑ 73 لاکھ روپے، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 37 ہزار سے زائد صارفین کو 2 ارب 56 کروڑ 99 لاکھ روپے جبکہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 19 ہزار سے زائد نادہندگان کو 3 ارب 12 کروڑ 37 لاکھ روپے کا ریلیف فراہم کیا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق بے ضابطگیوں کا دائرہ یہیں تک محدود نہیں رہا بلکہ سرکاری اداروں، گھریلو صارفین اور زرعی یا جنرل سروس کنکشنز کو بھی کورونا ریلیف کے دائرے میں شامل کر لیا گیا، حالانکہ یہ کیٹیگریز واضح طور پر اس پیکج کا حصہ نہیں تھیں۔

سرکاری کنکشنز کو 59 کروڑ 57 لاکھ روپے، گھریلو صارفین کو 10 کروڑ 68 لاکھ روپے جبکہ ٹیوب ویل و جنرل سروس صارفین کو 9 کروڑ 37 لاکھ روپے کی رعایت دی گئی۔اِس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ بجلی کے بلنگ نظام میں صارفین کی درجہ بندی ہی دُرست نہیں تھی یا جان بوجھ کر نظرانداز کی گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض کمپنیوں نے غلط حساب کتاب، دُہری انٹری اور مقررہ حد سے تجاوز کرتے ہوئے اضافی ریلیف جاری کیا۔
ستائیس ہزار کے قریب صارفین کو غلط جمع تفریق کے باعث 18 کروڑ 44 لاکھ روپے زائد ادا کیے گئے جبکہ بعض صنعتی اور کمرشل صارفین کو مقررہ حد سے تجاوز کرتے ہوئے رعایت دی گئی۔
سندھ الیکٹرک پاور کمپنی میں 30 صارفین کو 7 کروڑ 59 لاکھ روپے کا ریلیف دو مرتبہ دے دیا گیا، جس میں ایک آئس فیکٹری کو 9 لاکھ روپے کی رعایت دیے جانے کا واقعہ خاص طور پر نمایاں ہے۔
اسی طرح تھری فیز میٹر رکھنے والے 16 ہزار سے زائد کمرشل صارفین کو 3 ارب 54 کروڑ 66 لاکھ روپے کا ریلیف دیا گیا، حالانکہ قواعد کے مطابق یہ سہولت صرف سنگل فیز کنکشنز کے لیے تھی۔













