ایران 2026 کے فٹ بال ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لے سکتا، وزیر کھیل کا اعلان
ایران واحد ملک تھا جو گزشتہ ہفتے اٹلانٹا میں ورلڈ کپ کے لیے ہونے والی فیفا کی منصوبہ بندی کی کانفرنس میں شامل نہیں ہوا۔ (فوٹو: ایکس)
ایران کے وزیر کھیل احمد دنیامالی نے کہا ہے کہ ایران 2026 کے ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لے سکتا، کیونکہ شریک میزبان امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ملک پر ہوائی حملے کیے، جس میں ایران کے رہنما آیت اللہ علی خامنہای ہلاک ہو گئے۔
امریکہ اور اسرائیل نے تقریباً دو ہفتے قبل ایران پر ہوائی حملے شروع کیے تھے، جس میں اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد خلیج میں وسیع پیمانے پر کشیدگی پیدا ہو گئی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کے وزیر کھیل نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ’چونکہ اس کرپٹ حکومتی نظام نے ہمارے رہنما کو قتل کر دیا ہے، ہم کسی بھی صورت میں ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لے سکتے۔‘
ورلڈ کپ 11 جون سے 19 جولائی تک امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں کھیلا جائے گا۔
دنیا مالی نے کہا کہ ’ہمارے بچے محفوظ نہیں ہیں اور بنیادی طور پر ایسے حالات نہیں کہ ورلڈ کپ میں شرکت ممکن ہو۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’انہوں نے ایران کے خلاف جو شیطانی اقدامات کیے ہیں، اس نے ہمیں آٹھ یا نو ماہ میں دو جنگوں پر مجبور کیا اور ہمارے ہزاروں لوگوں کو قتل اور شہید کر دیا۔ لہٰذا، ہم یقینی طور پر ایسے مقابلے میں شرکت نہیں کر سکتے۔‘
پچھلے سال دسمبر میں ہونے والے ڈرا میں ایرانی ٹیم کو بیلجیم، مصر اور نیوزی لینڈ کے ساتھ گروپ جی میں رکھا گیا تھا۔ گروپ جی کے تینوں میچ امریکہ میں ہوں گے، جن میں دو لاس اینجلس اور ایک سیٹل میں شیڈول تھے۔
ایران واحد ملک تھا جو گزشتہ ہفتے اٹلانٹا میں ورلڈ کپ کے لیے ہونے والی فیفا کی منصوبہ بندی کی کانفرنس میں شامل نہیں ہوا۔
روئٹرز نے اس سلسلے میں فیفا سے تبصرے کے لیے رابطہ کیا ہے تاہم ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ہے۔
