امریکی صدر کا ’ڈومز ڈے طیارہ‘، جو ایٹمی جنگ کی صورت میں فضائی کمانڈ پوسٹ کے طور پر کام کرنے کے لیے تیارکردہ ایک اُڑتا ہوا قلعہ سمجھا جاتا ہے، جمعرات کی رات فضا میں دیکھا گیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر سوالات اور تشویش نے جنم لیا۔
امریکی نیوز ویب سائٹ میڈیاائٹ کے مطابق بوئنگ ای-4 بی نائٹ واچ کو جمعرات کی شام لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اُترتے ہوئے دیکھا گیا۔ یہ ویڈیو ایئرلائن ویڈیوز ایکس اکاؤنٹ کی جانب سے پوسٹ کی گئی۔
امریکی فضائیہ کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ شیٹ کے مطابق ترمیم شدہ 747 طیارہ الیکٹرومیگنیٹک پلس حملوں سے محفوظ ہے اور اس کا برقی نظام جدید الیکٹرانکس اور مختلف اقسام کے مواصلاتی آلات کو سہارا دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ طیارہ جو مکمل ایندھن پر 12 گھنٹے تک پرواز کر سکتا ہے اور فضا میں ایندھن بھرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، پہلی بار سنہ 1980 میں تعینات کیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق اس پر وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور پینٹاگون کے کئی رپورٹرز سوار تھے۔
What’s believed to be the first appearance in its 51-year flying history, the Boeing 747 E-4B Nightwatch, also known as the “Doomsday Plane,” showed up at LAX during Thursday’s Airline Videos Live broadcast and will most likely be the highlight of 2026! pic.twitter.com/wvc39ypRnP
— AIRLINE VIDEOS (@airlinevideos) January 9, 2026
نائٹ واچ کی ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر پوسٹس کی بھرمار ہو گئی، جہاں کئی صارفین نے اسے کسی بڑے خطرے یا تباہی کی علامت قرار دیا۔
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ طیارے میں کل کتنے مسافر سوار تھے، تاہم دائیں بازو کے صحافی ایل ٹوڈ وُڈ، جو پینٹاگون پریس کور کے رکن ہیں، نے جمعرات کو ایکس پر طیارے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’جوائنٹ بیس اینڈریوز پر ڈومز ڈے طیارے میں سوار ہو رہے ہیں۔‘
بعد ازاں ایک ویڈیو میں وُڈ نے کہا کہ وہ ’آج ڈومز ڈے طیارے پر سیکریٹری ہیگسیتھ کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے منتظر ہیں۔‘
Boarding the Doomsday plane at Joint Base Andrews pic.twitter.com/GcDMIT650K
— RealLToddWood (Just call me Neo) (@RealLToddWood) January 8, 2026
ماگا کارکن لورا لومر اور بریٹبارٹ کی اولیویا روندو بھی طیارے کے سامنے تصاویر میں نظر آئیں۔
لاس اینجلس میں قیام کے دوران ہیگسیتھ کو یو سی ایل اے میں آرمی کے بھرتی شدہ نوجوانوں کے ساتھ ورزش کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
ایئر فورس کے ایک ترجمان نے میڈیاائٹ کو جاری بیان میں کہا کہ ’نیشنل ایئر بورن آپریشنز سینٹر کے کئی مشن ہیں، جن میں آپریشنل اور تربیتی دونوں نوعیت کی سرگرمیاں شامل ہیں، جن کے لیے امریکہ کے اندر اور دنیا بھر کے مختلف مقامات کا سفر ضروری ہوتا ہے۔ ای-4 بی کا یہ دورہ این اے او سی مشن کی آپریشنل اور تربیتی ضروریات کو پورا کرنے کا حصہ ہے۔‘












