Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

روسی آبدوز کے باوجود امریکہ نے وینزویلا سے آنے والا روسی پرچم بردار بحری آئل ٹینکر قبضے میں لے لیا

ممکنہ طور پر قبضے میں لیے گئے جہاز برطانوی سمندری حدود میں لے جایا جائے گا۔ (فوٹو: اے پی)
امریکی حکام کے مطابق امریکہ نے بدھ کے روز ایک روسی (پرچم بردار) تیل بردار جہاز کو قبضے میں لے لیا جس کی نگرانی ایک روسی آبدوز کر رہی تھی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ کارروائی بحرِ اوقیانوس میں دو ہفتوں سے زائد عرصے تک جہاز کے تعاقب کے بعد کی گئی، جو وینزویلا کی تیل برآمدات کے خلاف امریکی ’ناکہ بندیکا حصہ تھی۔
بظاہر یہ حالیہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ امریکی فوج نے کسی روسی پرچم بردار جہاز کو قبضے میں لیا ہو۔
یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب یہ جہاز، جو پہلے بیلا-1 کے نام سے جانا جاتا تھا، کیریبین میں امریکی بحری ناکہ بندی کو چکمہ دینے میں کامیاب ہو گیا اور امریکی کوسٹ گارڈ کی جانب سے جہاز پر سوار ہونے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں امریکی فوج کے یورپی کمانڈ نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی پر اس جہاز کوقبضے میں لیا ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس پوسٹ کے جواب میں کہا کہ ’پابندیوں کے تحت اور وینزویلا کی غیر قانونی تیل کی ناکہ بندی پوری دنیا میں مکمل طور پر نافذ ہے۔‘
دو امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ بدھ کے روز آئس لینڈ کے قریب ہونے والی یہ کارروائی امریکی کوسٹ گارڈ اور فوج نے انجام دی۔
کوسٹ گارڈ نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
حکام نے بتایا کہ روسی فوجی جہاز، جن میں ایک روسی آبدوز بھی شامل تھی، کارروائی کے عمومی علاقے میں موجود تھے۔ یہ واضح نہیں تھا کہ یہ جہاز کارروائی کے کتنے قریب تھے، تاہم امریکی اور روسی افواج کے درمیان کسی تصادم کے آثار نہیں ملے۔

امریکی کوسٹ گارڈ نے گزشتہ ماہ پہلی مرتبہ اس جہاز کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ (فوٹو: یو ایس یورپین کمانڈ ایکس)

ماسکو کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم روسی سرکاری میڈیا آر ٹی نے ایک تصویر شائع کی جس میں ایک ہیلی کاپٹر جہاز کے قریب منڈلاتا دکھائی دے رہا۔
یہ کارروائی اس واقعے کے چند دن بعد ہوئی جب امریکی خصوصی فورسز نے ہفتے کی صبح کراکس میں آپریشن کے دوران وینز ویلا کے صدر نکولس مادورو کو پکڑ کر امریکہ منتقل کیا۔ امریکی فوج نے بعد میں انہیں منشیات کی مبینہ سمگلنگ سے متعلق الزامات پر مقدمے کے لیے وفاقی حکام کے حوالے کر دیا۔
یہ واضح نہیں کہ جہاز کو اب کہاں لے جایا جائے گا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اسے برطانوی سمندری حدود میں لے جایا جائے گا۔
برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
امریکی کوسٹ گارڈ نے گزشتہ ماہ پہلی مرتبہ اس جہاز کو روکنے کی کوشش کی تھی، مگر جہاز نے تلاشی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اس نے روسی پرچم کے تحت رجسٹریشن کروا لی اور اس کا نام بدل کر مارینیرا رکھ دیا گیا۔

حالیہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ امریکی فوج نے کسی روسی پرچم بردار جہاز کو قبضے میں لیا ہو۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)

یہ جہاز امریکہ کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وینزویلا کے خلاف دباؤ کی مہم کے آغاز کے بعد کوسٹ گارڈ کے نشانے پر آنے والا تازہ ترین تیل بردار جہاز ہے۔
علاوہ ازیں، امریکی حکام نے بدھ کے روز روئٹرز کو بتایا کہ امریکی کوسٹ گارڈ نے لاطینی امریکی پانیوں میں وینزویلا سے منسلک ایک اور تیل بردار جہاز کو بھی روکا ہے، کیونکہ امریکہ وینزویلا سے آنے والے پابندی کا شکار جہازوں کے خلاف اپنی ناکابندی جاری رکھا ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ جہاز پاناما کے پرچم تلے رجسٹرڈ سپر ٹینکر ایم صوفیہ تھا، جو پابندیوں کی زد میں ہے۔
شپنگ ڈیٹا اور ذرائع کے مطابق یہ جہاز جنوری کے اوائل میں وینزویلا کے پانیوں سے روانہ ہوا تھا اور ان جہازوں کے بیڑے کا حصہ تھا جو ’ڈارک موڈ‘ میں وینزویلا سے تیل چین لے جا رہے تھے۔

شیئر: