Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گرین لینڈ کی سیاسی جماعتوں کا امریکہ کے ماتحت آنے سے انکار

گرین لینڈ کی سیاسی جماعتوں نے کہا ہے کہ وہ  نہیں چاہتی ہیں کہ گرین لینڈ امریکہ کے ماتحت آئے جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر معدنی وسائل سے مالا مال ڈنمارک کے خودمختار علاقے گرین لینڈ پر قبضے کے لیے طاقت کے استعمال کا اشارہ دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو بزور طاقت حاصل کرنے کی دھمکی سے دنیا بھر میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعہ کی شب جاری ہونے والا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن ’گرین لینڈ کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور کرے گا، چاہے وہ اسے پسند کریں یا نہ کریں۔‘
یورپی ممالک گرین لینڈ کے حوالے سے مشترکہ ردعمل تیار کرنے میں مصروف ہیں، جب کہ وائٹ ہاؤس نے اس ہفتے کہا کہ صدر ٹرمپ گرین لینڈ خریدنا چاہتے ہیں اور فوجی کارروائی کو رد نہیں کر رہے۔
گرین لینڈ کی پارلیمان میں شامل پانچ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا کہ ’ہم نہ امریکی بننا چاہتے ہیں، نہ ڈینش، ہم گرین لینڈر رہنا چاہتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ گرین لینڈ کا مستقبل صرف گرین لینڈ کے عوام کو طے کرنا چاہیے۔
بیان میں زور دیا گیا کہ ’کوئی دوسرا ملک اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ ہمیں اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے، بغیر کسی دباؤ، جلد بازی، تاخیر یا کسی بیرونی مداخلت کے۔‘
ڈنمارک اور دیگر یورپی اتحادیوں نے ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق بیانات پر شدید حیرت اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گرین لینڈ ایک سٹریٹجک جزیرہ ہے جو شمالی امریکہ اور آرکٹک کے درمیان واقع ہے، جہاں دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے امریکہ کا فوجی اڈہ موجود ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روس اور چین کی جانب سے آرکٹک میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے باعث گرین لینڈ پر کنٹرول امریکی قومی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔
جمعہ کو صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم روس یا چین کو گرین لینڈ پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔ اگر ہم نے کچھ نہ کیا تو وہ یہی کریں گے۔ اس لیے ہم گرین لینڈ کے ساتھ کچھ نہ کچھ کریں گے، یا تو اچھے طریقے سے یا مشکل طریقے سے۔‘
اگرچہ حالیہ برسوں میں روس اور چین نے اس خطے میں فوجی سرگرمیاں بڑھائی ہیں، تاہم دونوں میں سے کسی نے بھی اس وسیع برفانی جزیرے پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کیا۔

قدرتی وسائل سے مالا مال

گرین لینڈ حالیہ برسوں میں اپنے وسیع قدرتی وسائل، خصوصاً نایاب معدنیات، اور تیل و گیس کے بڑے ذخائر کے ممکنہ اندازوں کی وجہ سے بھی عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے 2019 میں اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران بھی گرین لینڈ خریدنے کی پیشکش کی تھی، جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈرکسن نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ پر حملہ ’سب کچھ ختم کر دے گا۔‘
صدر ٹرمپ نے ڈنمارک کے خدشات کو ہلکے انداز میں لیا، حالانکہ ڈنمارک امریکہ کا قریبی اتحادی ہے اور 2003 میں عراق پر حملے میں امریکہ کے ساتھ شامل رہا تھا۔
صدر ٹرمپ نے کہ کہ ’میں ڈنمارک کا بھی مداح ہوں، اور وہ میرے ساتھ بہت اچھے رہے ہیں، لیکن صرف یہ حقیقت کہ 500 سال پہلے ان کی ایک کشتی وہاں لنگر انداز ہوئی تھی، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس زمین کے مالک ہیں۔‘
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو آئندہ ہفتے ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ اور گرین لینڈ کے نمائندوں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔
اگر امریکہ نے گرین لینڈ پر حملہ کیا تو یہ نیٹو کے ایک اور رکن ڈنمارک کے خلاف کارروائی ہوگی، جو اتحاد کے باہمی دفاع کے اصول کو شدید خطرے میں ڈال دے گی۔
یورپی ممالک سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں تاکہ بحران کو ٹالا جا سکے، جبکہ ساتھ ہی ٹرمپ کی ناراضی سے بھی بچا جا سکے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے 2019 میں اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران بھی گرین لینڈ خریدنے کی پیشکش کی تھی، جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔
یورپ میں نیٹو افواج کے سربراہ، امریکی جنرل الیکسس گرینکووچ نے جمعہ کو کہا کہ ٹرمپ کے بیانات کے باوجود نیٹو اس وقت کسی ’بحران‘ کا شکار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’اب تک فوجی سطح پر میرے کام پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا… ہم آج بھی اتحاد کی ایک ایک انچ زمین کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔ لہٰذا میں نہیں سمجھتا کہ ہم اس وقت کسی بحران میں ہیں۔‘

شیئر: