Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ برسوں تک وینزویلا کو چلا سکتا ہے اور تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھا سکتا ہے: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ برسوں تک وینزویلا کو چلا سکتا ہے اور اس کے تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیو یارک ٹائمز کو جمعرات کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جنوبی امریکی ملک پر براہِ راست امریکی نگرانی کب تک برقرار رہے گی، اس کا فیصلہ ’وقت ہی بتائے گا۔‘
تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اس سے مراد تین ماہ، چھ ماہ یا ایک برس ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ’میرا خیال ہے اس سے کہیں زیادہ عرصہ۔‘
وینزویلا پر امریکی بالادستی کا یہ دعویٰ اس کے عبوری رہنما ڈیلسی روڈریگز کے اس بیان کے باوجود سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کاراکس پر کوئی غیرملکی طاقت حکومت نہیں کر رہی۔
روڈریگز نے اپنے پیشرو کو ہٹانے کے لیے امریکی حملے کے بارے میں کہا کہ ’ہمارے تعلقات پر ایسا داغ لگا ہے جو ہماری تاریخ میں پہلے کبھی نہیں لگا۔‘
امریکی خصوصی فورسز نے گذشتہ سنیچر کو ایک تیز رفتار کارروائی میں صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا، جہاں ان پر منشیات اور اسلحے کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ یہ اقدام اس امر کی عکاسی کرتا ہے جسے ٹرمپ نے امریکہ کے اپنے خطے پر غلبے کی پالیسی قرار دیتے ہوئے ’ڈونرو ڈاکٹرائن‘ کہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ’اس وقت وینزویلا کی عبوری اتھارٹیز پر ہمارا واضح طور پر زیادہ سے زیادہ دباؤ موجود ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم عبوری حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں، اور ان کے فیصلے آئندہ بھی امریکہ ہی کی ہدایات کے تحت ہوں گے۔‘
صدر ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ امریکہ وینزویلا کو ’چلائے گا‘، جہاں دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں۔
انہوں نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ ’وہ ہمیں وہ سب کچھ دے رہے ہیں جو ہم ضروری سمجھتے ہیں۔‘
تاہم امریکہ کی زمینی افواج وہاں موجود نہیں ہیں، اور بظاہر واشنگٹن بحری ناکہ بندی اور مزید طاقت کے استعمال کی دھمکی پر انحصار کر رہا ہے تاکہ روڈریگز کے تعاون کو یقینی بنایا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ ’وہ ہمیں وہ سب کچھ دے رہے ہیں جو ہم ضروری سمجھتے ہیں۔‘ (فوٹو: نیو یارک ٹائمز)

’اندازوں پر نہیں چل رہے‘

کاراکس نے بدھ کو اعلان کیا کہ امریکی حملے میں کم از کم 100 افراد ہلاک اور اتنے ہی زخمی ہوئے ہیں۔
وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو کے مطابق زخمیوں میں مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس بھی شامل تھے، تاہم دونوں کو اس ہفتے کے اوائل میں نیو یارک کی عدالت میں پیشی کے دوران بغیر سہارے کے چلتے ہوئے دیکھا گیا۔
دوسری جانب کیوبا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اس کے 32 فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔ مادورو، اپنے پیشرو ہوگو شاویز کی طرح، خصوصی کیوبن فوجیوں کو بطور محافظ استعمال کرتے تھے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اب تک اشارہ دیا ہے کہ وہ روڈریگز کے ساتھ کام جاری رکھے گی اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو سمیت اپوزیشن شخصیات کو ایک طرف رکھے گی، تاہم منصوبوں کی تفصیلات محدود ہیں۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو کیپیٹل ہل پر ان قانون سازوں سے ملاقات کے بعد، جو مادورو کے بعد کی منصوبہ بندی پر تنقید کر رہے تھے، کہا کہ امریکہ ’محض اندازوں پر نہیں چل رہا۔‘
اب تک امریکی منصوبہ بڑی حد تک اس معاہدے پر مبنی ہے جس کے تحت وینزویلا تین کروڑ سے پانچ کروڑ بیرل تیل امریکہ کے حوالے کرے گا تاکہ وہ اسے فروخت کر سکے، جیسا کہ ٹرمپ نے منگل کو بتایا تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ اس معاہدے کے تحت وینزویلا تیل سے حاصل ہونے والی رقم سے ’صرف امریکہ میں تیار کردہ مصنوعات‘ خریدے گا۔
انہوں نے کہا کہ ان میں زرعی مصنوعات، مشینری، طبی آلات اور توانائی سے متعلق سازوسامان شامل ہو گا۔
روبیو کے مطابق دوسرے مرحلے، یعنی ’بحالی‘ کے دوران، امریکی اور مغربی کمپنیاں وینزویلا کی منڈی تک رسائی حاصل کریں گی اور ’اسی کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر قومی مفاہمت کے عمل کا آغاز بھی ہو گا۔‘

’غیرمعینہ مدت تک‘

وینزویلا کی سرکاری تیل کمپنی پی ڈی وی ایس اے نے کہا ہے کہ وہ موجودہ تجارتی فریم ورک کے تحت امریکہ کے ساتھ ’تیل کی مقدار کی فروخت‘ پر بات چیت کر رہی ہے۔
تاہم وزیر توانائی کرس رائٹ کے مطابق واشنگٹن طویل المدتی کنٹرول پر بھی غور کر رہا ہے۔
رائٹ نے بدھ کو کہا کہ ’ہم وینزویلا سے نکلنے والے خام تیل کی مارکیٹنگ کریں گے، پہلے ذخیرہ شدہ تیل اور پھر مستقبل میں غیرمعینہ مدت تک، ہم وینزویلا کی پیداوار فروخت کریں گے۔‘
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ اور ان کے مشیر پی ڈی وی ایس اے پر امریکی کنٹرول کے ایک منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔
اخبار کے مطابق اس طرح امریکہ ویسٹرن ہیمسفئیر (مغربی نصف کرے) میں موجود بیشتر تیل کے ذخائر کے کنٹرول میں کردار حاصل کر لے گا، جبکہ ٹرمپ تیل کی قیمتیں کم کر کے 50 ڈالر فی بیرل تک لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
صدر ٹرمپ جمعے کو امریکی تیل کمپنیوں کے ایگزیکٹوز سے ملاقات کریں گے، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ وینزویلا کے خستہ حال انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کریں گے، اگرچہ اب تک کسی کمپنی نے باضابطہ وعدہ نہیں کیا۔

 

شیئر: