’دنیا کے کسی بھی کونے سے ڈھونڈ نکالیں گے‘، امریکہ کی شام میں داعش کے خلاف نئی جوابی کارروائیاں
حملوں میں شام کے مختلف علاقوں میں داعش کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا (فوٹو:اے ایف پی)
امریکہ نے شام میں داعش کے خلاف جوابی کارروائیوں کے ایک اور مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ کارروائی گذشتہ ماہ ہونے والے اُس حملے کے بعد کی گئی ہے جس میں دو امریکی فوجی اور ایک امریکی مترجم ہلاک ہوئے تھے۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر یہ حملے امریکہ کی شراکت دار فورسز کے ساتھ مل کر کیے گئے ہیں اور یہ کارروائی مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 30 منٹ پر کی گئی۔
ان حملوں میں شام کے مختلف علاقوں میں داعش کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
سنیچر کے روز کیے گئے یہ حملے فوجی مہم کا حصہ ہیں جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے داعش کے اس مہلک حملے کے جواب میں شروع کی گئی ہے جس میں گزشتہ ماہ شام کے شہر پالمیرا میں سارجنٹ ایڈگر برائن ٹورس ٹووار، سارجنٹ ولیم نیتھنیئل ہاورڈ اور شہری مترجم ایاز منصور سکات مارے گئے تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سنیچر کو اپنے بیان میں کہا کہ ’ہمارا پیغام واضح ہے: اگر آپ ہمارے فوجیوں کو نقصان پہنچائیں گے تو ہم آپ کو دنیا کے کسی بھی کونے سے ڈھونڈ نکالیں گے اور مار دیں گے، چاہے آپ انصاف سے بچنے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کریں۔‘
اس سے ایک دن قبل، شامی حکومت نے کہا تھا کہ ان کی سکیورٹی فورسز نے خطۂ شام میں داعش کی کارروائیوں کے فوجی سربراہ کو گرفتار کر لیا ہے۔
امریکی فوج نے بتایا کہ سنیچر کے حملے شراکت دار فورسز کے ساتھ مل کر کیے گئے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سی فورسز اس میں شامل تھیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے پالمیرا میں حملے کے جواب میں اس کارروائی کو ’آپریشن ہاک آئی سٹرائیک‘ کا نام دیا ہے۔
ٹورس ٹووار اور ہاورڈ دونوں کا تعلق آئیووا نیشنل گارڈ سے تھا۔
یہ کارروائی 19 دسمبر کو شروع کی گئی تھی جب ایک اور بڑے حملے میں وسطی شام میں داعش کے انفراسٹرکچر اور ہتھیاروں سے متعلق 70 اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
کردوں کی قیادت میں قائم شامی ڈیموکریٹک فورسز کئی برسوں سے شام میں داعش کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مرکزی اتحادی رہی ہیں تاہم دسمبر 2024 میں سابق شامی صدر بشار الاسد کی معزولی کے بعد، واشنگٹن نے دمشق میں قائم مرکزی حکومت کے ساتھ تعاون بڑھا دیا ہے۔
حال ہی میں شام بھی داعش کے خلاف عالمی اتحاد میں شامل ہوا ہے۔
