ٹرمپ آج غزہ کے لیے نئی عبوری انتظامیہ کا اعلان کریں گے، فلسطینی ذرائع
ٹرمپ آج غزہ کے لیے نئی عبوری انتظامیہ کا اعلان کریں گے، فلسطینی ذرائع
بدھ 14 جنوری 2026 18:59
چار فلسطینی ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو غزہ کے مستقبل سے متعلق اپنے مرحلہ وار منصوبے پر عمل درآمد کو آگے بڑھاتے ہوئے اس انتظامیہ کا اعلان کرنے والے ہیں جو جنگ سے تباہ حال فلسطینی علاقے کا نظم و نسق سنبھالے گی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گذشتہ برس اکتوبر میں اسرائیل اور حماس نے ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت ایک عبوری مدت کے لیے ایک ٹیکنوکریٹک فلسطینی ادارہ غزہ کا انتظام چلائے گا، جس کی نگرانی ایک بین الاقوامی ’بورڈ آف پیس‘ کرے گا۔ اس ادارے میں حماس کی کوئی نمائندگی شامل نہیں ہو گی۔
ذرائع کے مطابق 14 رکنی فلسطینی ادارے کی سربراہی علی شعث کریں گے، جو مغربی حمایت یافتہ فلسطینی اتھارٹی میں سابق نائب وزیر رہ چکے ہیں اور صنعتی زونز کی ترقی کے ذمہ دار تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ دیگر ارکان کا انتخاب سابق اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی نکولائے ملادینوف نے کیا ہے، جو توقع ہے کہ زمینی سطح پر بورڈ آف پیس کی نمائندگی کریں گے۔ روئٹرز کو حاصل ہونے والی فہرست کے مطابق ان ارکان میں نجی شعبے اور غی سرکاری تنظیموں (این جی اوز) سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
دوسرا مرحلہ
ٹرمپ کے منصوبے کے پہلے مرحلے، جس میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ شامل تھا، کو متعدد مسائل نے متاثر کیا ہے۔ ان میں غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے، جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے، سمیت حماس کا ہتھیار ڈالنے سے انکار، ایک آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات کی عدم واپسی، اور مصر کے ساتھ رفح سرحدی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے میں اسرائیلی تاخیر شامل ہے۔
اگرچہ دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہیں، تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ دوسرے مرحلے کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں، جس میں بورڈ آف پیس کا قیام اور امن دستوں کی تعیناتی شامل ہو گی، جس پر ابھی اتفاق ہونا باقی ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
حماس کے مطابق اس کے رہنما اور دیگر فلسطینی دھڑے دوسرے مرحلے پر بات چیت کے لیے قاہرہ میں موجود ہیں۔ مصری ذرائع نے بتایا کہ حماس کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اب گروہ کے ہتھیار ڈالنے کے معاملے پر مرکوز ہوں گے۔
حماس اب تک ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہیں ہوئی اور اس کا کہنا ہے کہ وہ صرف اس صورت میں ہتھیار ڈالت گی جب ایک فلسطینی ریاست قائم ہو جائے۔ غزہ کے اندر اسرائیلی انخلا کو بھی حماس کے غیرمسلح ہونے سے مشروط کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹیکنوکریٹک فلسطینی کمیٹی کے ارکان بدھ کو قاہرہ میں نکولائے ملادینوف سے ملاقات کریں گے۔
مصری اور فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس اور اس کی حریف جماعت فتح، جس کی قیادت فلسطینی صدر محمود عباس کرتے ہیں، دونوں نے ارکان کی فہرست کی توثیق کر دی ہے۔
مصری ذرائع نے بتایا کہ حماس کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اب گروہ کے ہتھیار ڈالنے کے معاملے پر مرکوز ہوں گے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
ذرائع نے بتایا کہ اس ادارے میں غزہ چیمبر آف کامرس کے سربراہ عاید ابو رمضان اور عمر شمالی بھی شامل ہوں گے، جو فلسطینی ٹیلی کمیونی کیشن گروپ پالٹیل سے وابستہ رہ چکے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔