ایران کا مظاہرین کے خلاف تیز رفتار عدالتی کارروائی کا عزم
ایران کا مظاہرین کے خلاف تیز رفتار عدالتی کارروائی کا عزم
بدھ 14 جنوری 2026 16:58
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو سی بی ایس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر ایران نے مظاہرین کو پھانسی دینا شروع کی تو امریکہ کارروائی کرے گا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایران نے بدھ کو ملک بھر میں جاری وسیع احتجاجی لہر کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف تیز رفتار عدالتی کارروائی کا عزم کیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر اسلامی جمہوریہ نے پھانسیوں پر عمل درآمد کیا تو امریکہ ’انتہائی سخت اقدام‘ کرے گا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تہران میں حکام نے سکیورٹی فورسز اور دیگر 100 سے زائد افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی جو مظاہروں کے دوران ہلاک ہوئے۔ حکام نے ان مظاہروں کو ’فسادات‘ قرار دیتے ہوئے مظاہرین پر ’دہشت گردی کی کارروائیاں‘ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
ایران بھر میں احتجاجی تحریک، جو ابتدا میں معاشی مسائل کے باعث شروع ہوئی تھی، اب سنہ 1979 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مذہبی قیادت کے لیے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک بن چکی ہے۔
مظاہرین نے اختلاف رائے کے خلاف حکام کی زیرو ٹالرنس پالیسی کو نظرانداز کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاج جاری رکھا، حالانکہ حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے صورتِ حال پر دوبارہ قابو پا لیا ہے۔
ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی نے احتجاج کے الزام میں گرفتار افراد کو رکھنے والی جیل کے دورے کے دوران کہا کہ ’اگر کسی شخص نے کسی کو جلایا، کسی کا سر قلم کیا یا آگ لگا دی تو ہمیں اپنا کام تیزی سے کرنا ہوگا۔‘ ان کا یہ بیان سرکاری ٹیلی وژن پر نشر کیا گیا۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمات کھلی عدالت میں چلائے جانے چاہییں۔ انہوں نے تہران کی ایک جیل میں پانچ گھنٹے گزار کر کیسز کا جائزہ لیا۔
سرکاری میڈیا کی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ چیف جسٹس ایک وسیع اور آراستہ کمرے میں ایرانی پرچم کے سامنے بیٹھ کر خود ایک قیدی سے تفتیش کر رہے ہیں۔ قیدی، جو سرمئی لباس میں ملبوس تھا اور جس کا چہرہ دھندلا دیا گیا تھا، پر الزام ہے کہ وہ تہران کے ایک پارک میں مولوتوف کاک ٹیل لے گیا تھا۔
بلیک آؤٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو سی بی ایس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر ایران نے مظاہرین کو پھانسی دینا شروع کی تو امریکہ کارروائی کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ہم انتہائی سخت اقدام کریں گے۔‘ ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کو فوجی مداخلت کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’جب وہ ہزاروں لوگوں کو مارنا شروع کریں، اور اب آپ مجھے پھانسیوں کے بارے میں بتا رہے ہیں، تو ہم دیکھیں گے کہ یہ ان کے لیے کیسا ثابت ہوتا ہے۔‘
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی نئی ویڈیوز میں تہران کے جنوب میں واقع کهریزک مردہ خانے میں لاشوں کی قطاریں دکھائی گئیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایرانی حکام نے امریکی انتباہات کو ’فوجی مداخلت کا بہانہ‘ قرار دیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ حکومت نے مظاہرین کو گولیاں ماریں اور 8 جنوری کو نافذ کیے گئے انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے ذریعے کریک ڈاؤن کی اصل شدت کو چھپایا۔
انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس نے بدھ کو ایکس پر بتایا کہ بلیک آؤٹ 132 گھنٹوں سے جاری ہے۔
تاہم کچھ معلومات ایران سے باہر آ رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی نئی ویڈیوز، جن کے مقامات کی اے ایف پی نے تصدیق کی، میں تہران کے جنوب میں واقع کهریزک مردہ خانے میں لاشوں کی قطاریں دکھائی گئیں، جہاں لاشیں سیاہ تھیلوں میں لپٹی ہوئی تھیں اور غم زدہ رشتہ دار اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے تھے۔
پھانسیاں روکنے کا مطالبہ
ایرانی پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ بعض زیرِحراست افراد پر ’خدا کے خلاف جنگ‘ کے الزامات کے تحت سزائے موت کے مقدمات چلائے جائیں گے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ریاستی میڈیا نے احتجاج سے متعلق جاسوسی کے الزام میں ایک غیرملکی شہری کی گرفتاری کی بھی اطلاع دی، تاہم اس کی قومیت یا شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
ایران بھر میں احتجاجی تحریک معاشی مسائل کے باعث شروع ہوئی تھی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے فارسی زبان کے ایکس اکاؤنٹ پر کہا کہ مظاہرہ کرنے والے 26 سالہ عرفان سلطانی کو بدھ کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر تمام پھانسیوں کو روکے، جن میں عرفان سلطانی کی سزا بھی شامل ہے۔
ناروے میں قائم این جی او ’ایران ہیومن رائٹس‘ کے مطابق احتجاج کے دوران 734 افراد ہلاک ہوئے، جن میں نو کم سن بچے بھی شامل ہیں، تاہم تنظیم نے خبردار کیا کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
تنظیم کے ڈائریکٹر محمود امیری مقدم نے کہا کہ ’اصل تعداد غالباً ہزاروں میں ہے۔‘