Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض میں بین الاقوامی کانفرنس، تعلیم اور ملازمتوں پر اے آئی کے اثرات پر بات ہوگی

50 سے زیادہ تنظیمیں اس ماہ کے آخر میں شرکت کریں گی (فوٹو: ایس پی اے)
تعلیم، ملازمت اور مصنوعی ذہانت سے تعلق رکھنے والی 50 سے زیادہ مقامی اور بین الاقوامی تنظیمیں اس ماہ کے آخر میں ریاض میں ایک عالمی کانفرنس میں شرکت کر رہی ہیں۔
28 اور29 جنوری کو ہونے والی اس کانفرنس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے میدان میں بہت تیزی سے ہونے والی ترقی کے درمیان تعلیم کے مستقبل کے لیے مصنوعی ذہانت کی استعداد بڑھانے کے امکانات پر غور کرنا ہے۔
کانفرنس میں بات چیت کے دوران یہ دیکھا جائے گا کہ مصنوعی ذہانت کس طرح مختلف زندگی کے روز مرہ کے کاموں کو متاثر کر رہی ہے، موجودہ اور مستقبل کی نسلوں کے لیے اس کے مضمرات کیا ہیں اور اس کی وجہ سے کس قسم کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں؟۔
اس کانفرنس کا انعقاد سعودی عرب کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی اتھارٹی نے کیا ہے جس میں مستقبل میں لیبر مارکیٹ کے تقاضوں کے تحت کام کی تعریف نئے سرے سے متعین کرنے اور انسانی استعدادِ کار میں اضافے کو خاص طور پر زیرِ بحث لایا جائے گا۔
شرکا، نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کے ہنر سے لیس کر کے بااختیار بنانے کے عملی حل پیش کریں گے، مصنوعی ذہانت اور تعلیم کو مربوط اور سیکھنے کے طریقوں سے برآمد ہونے والے نتائج کو مقامی اور عالمی سطح پر ایسی مہارتوں سے ہم آہنگ کریں گے جن کی مستقبل میں اشد ضرورت درپیش ہوگی۔

یہ نمائش نوجوانوں کو تعلیمی، تربیتی، کیریئر کے لیے براہِ راست رسائی دے گی(فوٹو: عرب نیوز)

مختلف ملازمتوں پر مصنوعی ذہانت کے ارتقا پذیر اثر کو ذہن میں رکھتے ہوئے کانفرنس، پڑھے لکھے طبقے، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا کے پرفیشنلز، پالیسی سازوں اور طلبہ کو معاشرے کے فائدے اور قومی ترقی کے لیے جدت و اختراع میں تحقیق اور بصیرتوں کے تبادلے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرے گی۔
کانفرنس کے ساتھ ساتھ منعقد ہونے والی نمائش میں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کی تنظیمیں، جدید ترین تعلیمی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے دستیاب مختلف حل پیش کریں گی۔
یہ نمائش نوجوانوں کو تعلیمی، تربیتی، کیریئر اور ٹیکنالوجی کے مواقع کے لیے براہِ راست رسائی دے گی اور انھیں سہولت فراہم کرے گی کہ وہ مقامی اور بین الاقوامی کامیاب تجربات سے استفادہ کر کے اپنے مستقبل اور کیریئر کی تشکیل کر سکیں۔

 

شیئر: