ڈاکٹر فاطمہ الزہرہ ڈٹی نے اپنی والدہ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک سال کے اندر انہیں حج پر بھیجیں گی، مگر جلد ہی انہیں یہ احساس ہوا کہ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے انہیں ہر ماہ ’ہزاروں پیسو‘ جمع کرنا پڑیں گے اور وہ اس بارے میں پُریقین نہیں تھیں کہ یہ کس طرح ممکن ہو سکے گا۔
انہوں نے اپنی پریشانی ٹک ٹاک پر شیئر کرنا شروع کر دی اور سوچنے لگیں کہ وہ اپنی والدہ کا خواب کیسے پورا کریں گی۔
فاطمہ الزہرہ ڈٹی نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے ایک لائیو سیشن میں اپنی کہانی شیئر کی اور کہا، ‘میں چاہتی ہوں کہ میری ماں حج کریں، لیکن یہ بہت مہنگا ہے۔ میں اس کے باوجود پریقین تھی کہ میں کوئی راستہ نکال لوں گی۔‘
مزید پڑھیں
-
قاہرہ کے نیشنل میوزیم آف سِویلائیزیشن میں سفر حج کی یادیںNode ID: 904094
-
حج کا سفر صحرائی جہاز سے ہوائی جہاز تک کیسے پہنچا؟Node ID: 904096
-
طائف: حج کے قدیم راستے پر تاریخی مہمان نوازی کا مرکزNode ID: 904137
پھر ایک فولوور نے انہیں یہ مشورہ دیا کہ وہ ٹک ٹاک کے مشہور لائیو سٹریمنگ فیچر پر چیزیں فروخت کرنا شروع کر سکتی ہیں۔
فاطمہ الزہرہ ڈٹی نے فیملی میڈیسن کی سپیشلسٹ کے طور پر اپنی کل وقتی ملازمت کے باوجود مہینوں تک روزانہ کئی گھنٹے اس کام کے لیے وقف کیے۔ انہوں نے اس دوران 6,000 سے زائد صابن فروخت کیے اور ہر ایک پر 57 پیسو (تقریباً 0.93 ڈالر) کمیشن حاصل کیا جو ان کی والدہ کے حج کے لیے درکار 3,50,000 پیسو کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’ٹک ٹاک لائیو سیلنگ میں آپ کو تقریباً چار گھنٹے آن لائن رہنا ہوتا ہے۔ میں یہ کام رات کو عام طور پر کام سے واپس آنے کے بعد شام 8 بجے سے رات 12 بجے تک کرتی تھی۔ میں نے خود کو مکمل طور پر اس کام کے لیے وقف کر دیا کیونکہ جب لوگوں کی باقاعدہ آمد شروع ہوئی تو مجھے اس کی صلاحیت نظر آنے لگی۔‘
ان کو ابتدائی حمایت ان کی آن لائن کمیونٹی کی جانب سے حاصل ہوئی جو 2021 میں ٹک ٹاک پر ان کے ’ڈاک کلوٹ‘ نامی اکاؤنٹ کے ذریعے بنی تھی۔ ان کا یہ سفر جو پہلے صرف اپنی میڈیکل ٹریننگ شیئر کرنے کے لیے تھا، یہ آہستہ آہستہ ان کی زندگی کی کہانی بیان کرنے کا پلیٹ فارم بن گیا۔

فاطمہ الزہرہ ڈٹی نے کہا کہ ’میں نے اپنی کہانی ایک پہلی نسل کی ڈاکٹر اور گھر کی کفیل کے طور پر بھی شیئر کرنا شروع کی، اور یوں لوگ مجھ سے منسلک ہونے لگے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ’لوگ مجھ سے اس لیے متاثر ہوئے کیونکہ ہم تاوی تاوی کے ایک چھوٹے سے علاقے سمنول سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے ابتدائی تعلیم سے لے کر میڈیکل کالج تک سکالرشپ پر تعلیم حاصل کی۔ مجھ سے بہت سی مائیں اس لیے جڑ سکیں کیونکہ وہ اپنے بچوں کے لیے اسی طرح کا مستقبل چاہتی تھیں۔‘
33 سالہ فاطمہ الزہرہ ڈٹی پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں اور 2017 میں اپنے والد کے انتقال کے بعد سے اپنے خاندان کی کفالت کر رہی ہیں۔ وہ اپنے بہن بھائیوں کی تعلیم کا خرچ بھی اٹھا رہی ہیں، اور ان کی خواہش ہمیشہ یہی رہی کہ وہ سب کو بہتر سے بہتر زندگی دے سکیں، کیونکہ انہوں نے اپنے والدین کو بہت مشکل حالات میں ان کی پرورش کرتے دیکھا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’میرے والد کا جب انتقال ہوا تو گھر کی کفالت کی ذمہ داری مجھ پر آن پڑی اور مجھے یہ کردار سنبھالنا پڑا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے واقعی بہت محنت کی۔ ہم نے بالکل نیچے سے آغاز کیا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر بننے کے بعد آدمی امیر ہو جاتا ہے، لیکن ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں تھا۔‘
گزشتہ سال فاطمہ الزہرہ ڈٹی نے بتایا کہ ’وہ قرضوں میں ڈوبی ہوئی تھیں، آمدن کا صرف ایک ذریعہ تھا اور ایک دن گزارنا بھی مشکل محسوس ہو رہا تھا۔‘

انہوں نے لیکن جب مئی کے آخر میں صابن بیچنا شروع کیے تو آن لائن مدد اتنی تیزی سے ملی کہ نومبر تک وہ مطلوبہ رقم جمع کرنے میں کامیاب ہو چکی تھیں۔ انہوں نے اس کے بعد بھی ٹک ٹاک لائیو جاری رکھا تاکہ اپنی والدہ کے سفر کے لیے کچھ اضافی رقم کما سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ’میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ میں اپنی والدہ کا خیال رکھوں گی، اور میں یہی کر رہی ہوں۔‘
انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ’میری صرف یہی ایک خواہش ہے کہ میں اپنی والدہ کو ایک آرام دہ زندگی دوں۔ یہ ہمیشہ میری خواہش رہی ہے۔‘
ان کی 61 سالہ والدہ میمبنگ 4 مئی کو حج کے لیے سعودی عرب روانہ ہوئیں جہاں وہ لاکھوں مسلمانوں کے ساتھ حج ادا کرنے جا رہی ہیں جو اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے۔

فاطمہ الزہرہ ڈٹی نے کہا کہ ’حج کی سعادت حاصل کرنا ہر مسلمان کا خواب ہے۔ وہ بہت خوش تھیں کیونکہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ صابن بیچنا انہیں حج تک پہنچا دے گا۔ وہ بے حد شکر گزار تھیں۔ میں بھی بہت شکر گزار ہوں کیونکہ ہماری آن لائن کمیونٹی واقعی ان لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے جو دوسروں کے خوابوں پر یقین رکھتے ہیں۔‘
انہوں نے اپنی گفتگو کے آخر میں کہا کہ ’میں نے یہ سیکھا کہ جب نیت سچی اور اچھی ہو تو لوگ واقعی آپ کے سفر میں دل سے ساتھ دیتے ہیں۔‘












