Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پنجاب حکومت کا ای بِز پورٹل، کیا سرکاری دفاتر کے چکر لگانے میں کمی ہوگی؟

ای بز پورٹل کے ذریعے مختلف سرکاری محکموں کی سروسز ایک ہی ویب سائٹ پر فراہم کی جاتی ہیں (فوٹو: اے پی پی)
حال ہی میں پنجاب حکومت نے صوبے کے سرکاری محکموں کو مرحلہ وار ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کے لیے ای بِز پورٹل کے دائرہ کار کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد یکم فروری تک 200 سے زائد کاروباری اور انتظامی سروسز کو آن لائن فراہم کرنا ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام کے بعد شہریوں اور کاروباری افراد کو متعدد معاملات میں سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نمایاں طور پر کم ہو جائے گی۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی نگرانی میں تیار کیا گیا یہ نظام پنجاب حکومت کی ایز آف ڈوئنگ بزنس پالیسی کا مرکزی ستون قرار دیا جا رہا ہے۔
محمد رضوان جو لاہور کے شہری ہیں انہوں نے حال ہی میں اپنا کاروبار کرنے کے لیے ای بِز پورٹل پر اکاؤنٹ بنایا اور کچھ خدمات حاصل کیں۔
اس بارے میں انہوں نے بتایا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ ای بِز پورٹل کے ذریعے درخواست دینے کے بعد مجھے چکر نہیں لگانے پڑے۔ لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جس پر میں کہوں گا کہ وقت کی بچت ہوئی ہے۔ اور ابھی یہ سسٹم پوری طرح فعال بھی نہیں ہے۔ اب کہہ تو رہے ہیں کہ مارچ تک وہ کام بھی اس پورٹل کے ذریعے ہو جائیں گے جن کے لیے دفاتر کے لیے چکر لگانا پڑ رہے ہیں۔‘
ای بِز پورٹل کیا ہے؟
ای بِز پورٹل دراصل ایک ون ونڈو ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے مختلف سرکاری محکموں کے اجازت نامے، رجسٹریشنز اور لائسنسنگ سروسز ایک ہی ویب سائٹ پر فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ درخواست دہندہ کو ہر محکمے کے لیے الگ دفتر، الگ فارم اور الگ فیس کے مراحل سے نہ گزرنا پڑے۔
حکومتی اعلانات اور دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق یہ پورٹل خاص طور پر کاروبار سے متعلق سروسز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ سرمایہ کاری، تعمیرات اور صنعتوں سے جڑے معاملات کو تیز اور شفاف بنایا جا سکے۔
کون سے محکمے ای بِز پورٹل پر آ چکے ہیں؟

 یہ پورٹل خاص طور پر کاروبار سے متعلق سروسز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے (فوٹو: اے پی پی)

اگرچہ تمام محکموں کی مکمل فہرست ایک جگہ سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئی تاہم ای بِز پورٹل پر دستیاب سروسز اور پی آئی ٹی بی کی معلومات کے مطابق درج ذیل محکمے یا ان کی اہم سروسز ڈیجیٹل نظام میں شامل کی جا چکی ہیں یا شامل کی جا رہی ہیں۔
محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کی جانب سے مختلف ٹیکس اور رجسٹریشن سے متعلق سروسز، محکمہ انڈسٹریز کے تحت کاروباری رجسٹریشن اور صنعتی اجازت نامے، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی ای پی اے کے ماحولیاتی اجازت نامے، بلڈنگ کنٹرول اور ڈیویلپمنٹ اتھارٹیز کے تحت تعمیراتی نقشوں کی منظوری، پروفیشنل ٹیکس اور فیس سے متعلق آن لائن درخواستیں اور زمین کے استعمال سے متعلق بعض اجازت نامے شامل ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلے میں مزید صوبائی محکموں کو بھی اسی پلیٹ فارم پر منتقل کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ سروسز ایک ہی جگہ دستیاب ہوں اور یکم مارچ تک 310 سروسز اس آن لائن پورٹل پر دستیاب ہوں گی۔
شہری ای بِز پورٹل سے کیسے استفادہ کر سکتے ہیں؟
ای بِز پورٹل سے فائدہ اٹھانے کے لیے شہری یا کاروباری فرد کو سب سے پہلے سرکاری ویب سائٹ ای بِز ڈاٹ گو ڈاٹ پی کے پر جا کر اپنا اکاؤنٹ بنانا ہوتا ہے۔ رجسٹریشن کے لیے شناختی کارڈ نمبر، ای میل ایڈریس اور بنیادی معلومات درکار ہوتی ہیں۔

حکام کے مطابق کاروبار چلانے کے عمل کو آسان بنانا صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے (فوٹو: پیکسلز)

اکاؤنٹ بننے کے بعد صارف متعلقہ سروس کا انتخاب کرتا ہے، مطلوبہ دستاویزات آن لائن اپ لوڈ کرتا ہے اور فیس ڈیجیٹل طریقے سے جمع کرواتا ہے۔ درخواست جمع ہونے کے بعد اس کی پیش رفت پورٹل پر ہی دیکھی جا سکتی ہے، جبکہ بعض معاملات میں مختلف محکموں کے درمیان ضروری تصدیق خودکار طریقے سے ہو جاتی ہے۔ حکام کے مطابق اس طریقہ کار کا مقصد انسانی مداخلت کم کرنا، تاخیر ختم کرنا اور شفافیت بڑھانا ہے۔
پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ سرکاری محکموں کی ڈیجیٹلائزیشن سے نہ صرف وقت اور لاگت کی بچت ہو گی بلکہ بدعنوانی اور غیرضروری رکاوٹوں میں بھی کمی آئے گی۔ حکام کے مطابق کاروبار شروع کرنے اور اسے چلانے کے عمل کو آسان بنانا صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ آیا تمام متعلقہ محکمے واقعی ایک دوسرے سے مربوط ہو پاتے ہیں اور آیا عام شہریوں کو اس ڈیجیٹل نظام کے استعمال میں عملی سہولت فراہم کی جاتی ہے یا نہیں۔

 

شیئر: