آج سے پورے 50 سال قبل کی بات ہے جب 15 جنوری 1976 کو مغربی انڈیا کے شہر پونے کے ایک طالب علم نے اپنے ہی کالج کے ایک طالب علم پرکاش ہیگڑے کو ایک بہانے سے اپنے ایک دوست راجیندر جککال کے ٹن شیڈ میں پہنچا دیا۔
وہاں ابھینو کلا مہا ودیالیہ یعنی ابھینو آرٹس کالج کے چار طلبہ موجود تھے۔ انہوں نے پرکاش کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے اور اسے مجبور کیا کہ وہ اپنے والد کو ایک نوٹ لکھے جس میں پیسے کی مانگ کی گئی تھی۔
یہ چار طالب علم راجندر جککال (25 سال)، دلیپ سوتر (21 سال)، شانتارام جگتاپ (23 سال) اور منور شاہ (21 سال) بظاہر عام سے لڑکے تھے۔ وہ سب کمرشل آرٹ کے طالب علم تھے جن کے خواب رنگوں اور تصویروں سے جڑے ہونے چاہیے تھے، مگر ان کے دلوں میں ایک اور ہی نقش ابھر چکا تھا۔ کیمپس میں ان کی شہرت اچھی نہ تھی۔ وہ شراب نوشی، چھوٹی موٹی چوریاں کرنے اور عجیب سی بے رحمی کے لیے جانے جاتے تھے۔
مزید پڑھیں
-
گوا کا ’دوپٹہ کلر‘ جس کے ہاتھ 16 خواتین کے خون سے رنگے ہیںNode ID: 870706
لیکن کسے پتا تھا کہ پرکاش ہیگڑے، جو انہی کا ہم جماعت تھا، ان کا پہلا شکار بنے گا۔ پرکاش کے والد سندر ہیگڑے کا چھوٹا سا ڈھابہ ’وشوا‘ کالج کے پیچھے تھا، اور یہی بات ان کے لالچ کو ہوا دے رہی تھی۔ انہوں نے اغوا، تاوان، اور پیسے کی خاطر ایک منصوبہ بنایا جو کہ بھیانک منصوبے میں بدل گیا۔
پرکاش سے ایک خط لکھوایا گیا، اور پھر دوسری رات 16 تاریخ کو اسے نائیلون کی رسی سے گلا گھونٹ کر بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گيا۔
پرکاش کی لاش کو لوہے کے بیرل میں بند کر کے ڈھابے سے کچھ ہی فاصلے پر موجود پیشوا پارک کی جھیل میں پھینک دیا گیا۔ اس میں کچھ پتھر بھی رکھ دیے گئے تاکہ لاش پانی کے اوپر نہ آئے۔ اور اگلے دن اس کے والد کو تاوان کا خط بھیج دیا گیا، مگر جواب میں صرف خاموشی تھی۔
وقت گزرتا گیا، اور ان کا حوصلہ بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ اسی برس اگست کے مہینے میں وہ چاروں پونے سے پانچ گھنٹے کی مسافت پر کوئی 250 کلومیٹر دور کولہاپور پہنچ گئے۔ ان کا ارادہ ایک کاروباری شخص کو نشانہ بنانے کا تھا مگر حالات نے ان کا ساتھ نہ دیا۔ مکان گنجان آبادی میں تھا، اور شکار ان کی توقع سے زیادہ مضبوط نکلا۔ اس رات وہ خالی ہاتھ واپس لوٹے، مگر ان کے دلوں میں ناکامی کی چنگاری مزید سفاکی میں بدلنے لگی۔
اس کے دو ماہ بعد 31 اکتوبر کی رات پونے کی وجے نگر کالونی میں قیامت بن کر ٹوٹی۔ وہ اچیوت جوشی کے گھر پہنچ گئے جہاں ان کے ساتھ ان کی اہلیہ موجود تھیں۔ انہوں نے ڈور بیل بجائی اور چاقو کے زور پر دروازہ کھولنے والے کے ساتھ گھر میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے گھر میں موجود دونوں معمر افراد مسٹر جوشی اور ان کی اہلیہ کے ہاتھ پاؤں رسی سے باندھے اور نائیلون کی رسی سے ان کا دونوں کا گلا گھونٹ کر ایک ہی ترتیب سے مار ڈالا۔ حتیٰ کہ گھر واپس آنے والا نوجوان بیٹا آنند بھی ان کی درندگی سے نہ بچ سکا۔ وہ جاتے ہوئے زیورات اور پیسے لے گئے، مگر پیچھے سناٹا اور خون کی بو چھوڑ گئے۔
پولیس حرکت میں آئی لیکن ان کا کوئی سراغ نہ ملا۔

اسی برس 22 نومبر کی ایک شام شَنکر سیٹھ روڈ پر انہوں نے ایک اور بنگلے کو نشانہ بنایا مگر اس بار قسمت نے ساتھ نہ دیا۔ مکان مالک اور ان کے نوکروں نے مزاحمت کی، اور حملہ آور دیواریں پھلانگ کر فرار ہو گئے۔ شاید یہ ان کے لیے پہلا اشارہ تھا کہ ہر دروازہ آسان نہیں ہوتا، مگر انہوں نے اس اشارے کو نظرانداز کر دیا۔
لیکن پھر نو دن بعد یکم دسمبر کو بھنڈارکر روڈ پر واقع سمرتی بنگلہ ان کی سفاکی کی انتہا کا گواہ بنا۔ ایک بزرگ، ان کی اہلیہ، ایک ملازمہ، اور دو نوجوان پوتے پوتیوں کو ایک ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا گيا۔ دروازے کی گھنٹی بجی، وہ اندر داخل ہوئے اور پھر وہی طریقہ، وہی رسی، وہی خاموش کے ساتھ قتل کی ورادات انجام دی۔ اس رات شہر کی روح پر ایک ایسا زخم لگا جو برسوں تک نہیں بھرا۔
پولیس کو اس بار بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔ پھر یوں ہوا کہ 23 مارچ 1977 میں انیل گوکھلے کا قتل ان کی آخری واردات ثابت ہوا۔ اس بار بھی پہلی بار کی طرح موٹر سائیکل سے لفٹ کی پیشکش ہوئی، جان پہچان کا سہارا لیا گیا، اور پھر وہی ٹن کا شیڈ۔ لیکن اس بار لاش کو جھیل کے بجائے مولا موتھا دریا کے حوالے کیا گیا جس کے پانی نے راز چھپانے سے انکار کر دیا۔ اگلے دن لاش سطح پر آ گئی، اور پولیس کے لیے یہ ایک واضح پیغام تھا۔
اسسٹنٹ کمشنر مدھوسدن ہولیالکر کی قیادت میں تفتیش نے رفتار پکڑی۔ نائیلون کی رسی، مخصوص قسم کی گرہ، اور لاش باندھنے کے انداز سب نے ایک بات کی جانب اشارہ کیا کہ یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں بلکہ ایک سیریل کلنگ کی نشانی تھے۔ پہلے جن وارداتوں کو ڈکیتی سمجھا گیا تھا، اب وہ ایک سلسلہ وار واردات کا حصہ بن چکی تھیں۔ تفتیش کے دوران ان چاروں کے بیانات آپس میں ٹکرانے لگے، دوستوں کی زبانیں لڑکھڑانے لگیں، اور آخرکار سچ باہر آ گیا۔

ایک گواہ پولیس کی مار پیٹ کے سامنے ٹوٹ گیا اور اعتراف کرتے ہوئے اس نے پرکاش ہیگڑے کی لاش کی جگہ بتا دی۔ 30 مارچ 1977 کو چاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔
عدالت میں مقدمہ برسوں چلا۔ وکیل، گواہ، شواہد سب کچھ کھلی کتاب کی طرح سامنے تھے۔
28 ستمبر 1978 کو ان چاروں کو 10 افراد کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی۔ چھ اپریل 1979 کو بمبئی ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو برقرار رکھا یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے فیصلے پر مزید کسی شنوائی سے انکار کر دیا۔ آخرکار رحم کی اپیل صدرِ تک پہنچی، مگر وہاں سے بھی انکار ہوا۔
27 نومبر 1983 کی صبح یروڈا جیل میں خاموش تھی۔ وہ چار نوجوان، جنہوں نے کبھی آرٹ کے خواب دیکھے تھے، اپنی زندگی کے آخری لمحوں کی طرف بڑھے۔ پھانسی کے تختے پر جھولتی ہوئی وہ زندگیاں صرف چار جسم نہیں تھیں، بلکہ ایک سبق تھیں کہ جب انسان لالچ، بے حسی اور تشدد کے راستے پر چل پڑتا ہے تو انجام صرف تاریکی ہوتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس کی حیثیت سے ریٹائر ہونے والے شرد اوستھی اس وقت پولیس انسپکٹر تھے اور سزا سنائے جانے کے وقت وہ عدالت میں موجود تھے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’مجھے یاد ہے کہ جب ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی تو عدالت کے احاطے میں ایک بڑا ہجوم تھا، سزا سنائے جانے کے بعد چاروں مجرموں کو عدالتی احاطے سے جب باہر لے جایا جا رہا تھا تو وہ ہجوم کی جانب ایسے ہاتھ ہلا رہے تھے جیسے وہ ہیرو ہوں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’قاتلوں کو پکڑنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ پولیس افسران جو پونے میں پہلے کام کر چکے تھے، انہیں معاملے کی تحقیقات کے لیے طلب کیا گیا۔‘

رپورٹ کے مطابق پونے میں مقیم سماجی کارکن بالاصاحب رنوال، جو اس وقت نوعمر تھے، نے کہا کہ ان ہلاکتوں نے لوگوں میں اتنا خوف پیدا کیا کہ انہوں نے شام چھ بجے کے بعد اپنے گھروں سے باہر نکلنا ہی چھوڑ دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے یاد ہے کہ لوگ صدمے کی حالت میں ہوتے تھے، لیکن اخبارات میں شائع ہونے والی ہلاکتوں اور عدالتی مقدمات سے متعلق رپورٹیں بڑے پیمانے پر پڑھی جاتی تھیں۔‘
ان میں سے ایک منور شاہ نے جیل میں مراٹھی زبان میں ایک کتاب تحریر کی جس کا عنوان تھا ’ہاں، میں گنہگار ہوں۔‘ جبکہ اس سیریل کلنگ پر معروف بالی وڈ اداکار نانا پاٹیکر کی اداکاری والی مراٹھی فلم ’مافیچا شاکسیدار‘ بنائی گئی جبکہ انوراگ کشیپ کی فلم ’پانچ‘ بھی اسی پر مبنی بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ٹی وی سیریل میں بھی اس کہانی کو پیش کیا گیا۔
اس سیریل کلنگ کے واقعے کو ’جوشی-ابھیانکر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ یہ دو خاندان تھے جو ان چار بے راہ رو نوجوان کی سفاکی کا شکار ہوئے۔
پونے آج بھی زندہ ہے، اس کی گلیاں آباد ہیں، مگر تاریخ کے کسی کونے میں یہ کہانی سرگوشی کی طرح موجود ہے، اور یاد دلاتی ہے کہ برائی اکثر عام چہروں کے پیچھے چھپی ہوتی ہے، اور انصاف چاہے دیر سے آئے، آتا ضرور ہے۔












