ایران جنگ کے حوالے سے آئندہ چند روز فیصلہ کن ہوں گے: امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے منگل کو ایک بریفنگ میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے لیے آئندہ چند دن فیصلہ کن ہوں گے، انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ ایرانی مسلح افواج سے اس کے فوجی بڑے پیمانے پر الگ ہو رہے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے دستیاب آپشنز میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ان (ایران) کے لیے آپشنز محدود ہوتے جا رہے ہی۔‘
امریکی وزیر جنگ کے مطابق ’صرف ایک ماہ میں ہم نے شرائط طے کر دی ہیں، آنے والے دن فیصلہ کن ہوں گے۔ ایران یہ بات جانتا ہے اور وہ عسکری حوالے سے قریباً کچھ نہیں کر سکتا۔‘
پیٹ ہیگستھ نے انٹیلی جنس معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’امریکی حملے ایرانی فوج کے حوصلوں کو پست کر رہے ہیں۔ان حملوں کے نتیجے میں ایرانی فوجی بڑے پیمانے پر اپنی فوج کو چھوڑ رہے ہیں، اہم عملے کی کمی ہونے کے علاوہ اعلٰی قیادت میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’وہ سنیچر کو مشرقِ وسطیٰ میں تعینات فوجیوں سے ملاقات کے لیے گئے تھے تاکہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کا خود مشاہدہ کر سکیں۔‘
امریکی وزیر جنگ نے مزید کہا کہ ’ہم آپریشنل سکیورٹی کی وجہ سے سنیچر کو قریباً آدھا دن سینٹ کام میں موجود رہے، ہم مقامات اور اڈوں کے نام ظاہر نہیں کریں گے تاکہ ان فوجیوں کو نشانہ نہ بنایا جا سکے۔‘
پیٹ ہیگستھ کے مطابق ’یہ کہنا کافی ہے کہ یہ دورہ میرے لیے اعزاز کی بات تھا۔ مجھے خود مشاہدہ کرنے کا موقع ملا، اور میں نے امریکہ کا شاندار عکس دیکھا۔‘
جب ان سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کچھ حامیوں کی جانب سے ایران میں زمینی افواج کے ممکنہ استعمال پر تشویش کے بارے میں پوچھا گیا تو پیٹ ہیگستھ نے کوئی واضح جواب دینے سے گریز کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’آپ اگر اپنے مخالف کو بتا دیں کہ آپ کیا کرنے جا رہے ہیں یا کیا کرنے کو تیار نہیں ہیں، بشمول زمینی فوج بھیجنے کے تو آپ جنگ لڑ کر تو نہیں جیت سکتے۔‘
’اگر ضرورت پڑی تو ہم امریکی صدر اور اس محکمے کی جانب سے ان آپشنز پر عمل درآمد کر سکتے ہیں۔ یا شاید ہمیں ان کا استعمال کرنا ہی نہ پڑے اور ممکن ہے مذاکرات ہی کامیاب ہو جائیں۔‘
پینٹاگون کے سربراہ نے کہا کہ ’جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے، حالانکہ ایک ماہ سے زائد عرصے پر محیط امریکی-اسرائیلی فوجی مہم جاری ہے۔‘
انہوں نے مذاکرات کے بارے میں کہا کہ ’یہ بالکل حقیقی ہیں، جاری ہیں، فعال ہیں، اور میرے خیال میں ان میں گرم جوشی پیدا ہو رہی ہے۔‘
پیٹ ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ ’امریکہ کو بخوبی علم ہے کہ چین اور روس ایران کی مدد کے لیے کیا کر رہے ہیں، اور جہاں ضروری ہوا ان اقدامات کا مقابلہ کیا جا رہا ہے۔‘
ان سے جب روس اور چین کی جانب سے ایران کی مدد کی خبروں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’جہاں تک روس اور چین کا تعلق ہے، ہم جانتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں، کیا کر رہے ہیں یا کیا نہیں۔‘
امریکی وزیر جنگ نے مزید کہا کہ ’ہمیں یہ سب کچھ عوامی سطح پر بیان کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن جہاں ضروری ہے ہم ان معاملات کو دیکھ رہے ہیں، ان کے اثرات کم کر رہے ہیں یا براہِ راست ان کا سامنا کر رہے ہیں۔‘