Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چین: 905 میٹر طویل دنیا کا طویل ترین ایسکیلیٹر، مکمل ٹرانسپورٹ نیٹ ورک جیسی سہولت

چین کے پہاڑی شہر چونگ چنگ میں دنیا کی سب سے طویل آؤٹ ڈور ایسکیلیٹر (برقی سیڑھی) عوام کے لیے کھول دی گئی ہے، جو آدھے میل سے بھی زیادہ طویل ہے اور مسلسل اوپر کی جانب جاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
’گاڈیس ایسکیلیٹر‘ کے نام سے جانی جانے والی یہ منفرد تعمیر ووشان ضلع کے وسط سے گزرتی ہے۔
یہ ایک کھڑی ڈھلوان کے نچلے حصے سے شروع ہو کر سیدھا اوپر آسمان کی طرف جاتی ہے، اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ آسمان کو چھو رہی ہو۔
اس کے سائز اور وسعت کو ویڈیوز میں مکمل طور پر دکھانا بھی مشکل ہے۔
فائننشل ٹائمز کے مطابق اس ایسکیلیٹر کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے میں تقریباً 21 منٹ لگتے ہیں، اور یہ غالباً اپنی نوعیت کی دنیا کی سب سے بڑی ایسکیلیٹر ہے۔
اس منصوبے کی ڈیزائن ٹیم کے سربراہ اور چائنہ ریلوے ایریوان انجینئرنگ گروپ کے انجینئر ہوانگ وی نے کہا کہ ’میرے علم کے مطابق ملک بھر میں اس جیسا کوئی اور منصوبہ زیر تعمیر یا مکمل نہیں، یہ اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے۔‘
یہ ایسکیلیٹر اپنے آپ میں ایک مکمل ٹرانسپورٹ نیٹ ورک ہے جو تقریباً دو درجن علیحدہ ایسکیلیٹرز اور لفٹس پر مشتمل ہے، یہ ایک ہی نظام کے تحت جڑی ہوئی ہیں۔ اس کے سٹیپس سوئٹزرلینڈ کی کمپنی شنڈلر نے تیار کیے، جبکہ ان کی تیاری شنگھائی کے شمال میں ایک فیکٹری میں کی گئی۔ کمپنی کی چینی شاخ چونگ چنگ میٹرو سسٹم کو تقریباً 14 سو ایسکیلیٹرز فراہم کر چکی ہے۔
یہ منصوبہ جلد ہی عوام میں مقبول ہو گیا ہے، خاص طور پر اس شہر میں جہاں سنہ 1990 کی دہائی میں بنائی گئی کراؤن ایسکیلیٹر پہلے ہی ایک نمایاں شناخت رکھتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، وو شان میں روزانہ تقریباً نو ہزار افراد اس ایسکیلیٹر کا استعمال کرتے ہیں، جبکہ ایک طرف کے سفر کے لیے فی گھنٹہ تقریباً 0.43 ڈالر کرایہ لیا جاتا ہے۔ گزشتہ ماہ سپرنگ فیسٹیول کے دوران چار لاکھ 50 ہزار افراد نے اس سے استفادہ کیا۔
44 سالہ شی ہونگ من، جو قریبی دیہی علاقے سے آئے تھے، نے امید ظاہر کی کہ ان کے شہر میں بھی ایسی سہولت قائم کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پیدل چلنا کافی تھکا دینے والا ہوتا ہے۔‘
یہ ایسکلیٹر شہر کے ’بینگ بینگ مین‘ یعنی وہ مزدور جو بانس کی لاٹھیوں اور رسیوں کی مدد سے سامان اٹھاتے ہیں، کے لیے بھی بہت فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔
60 سالہ ران گوانگ ہوئی نے بتایا کہ ’سنہ1990 کی دہائی میں یوزونگ ضلع میں ہزاروں پورٹرز ہوا کرتے تھے۔ اس وقت لفٹس نہیں تھیں، جس کی وجہ سے کام بہت مشکل تھا۔‘ انہوں نے بتایا کہ اب وہ اسی ایسکیلیٹر کے ذریعے سامان آسانی سے منتقل کر رہے ہیں۔

شیئر: