Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گرین لینڈ کا حصول، فوج کے استعمال سمیت مختلف آپشنز زیرِ غور ہیں: وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے لیے ’مختلف آپشنز‘ پر بات کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے امریکی فوج کے استعمال کا بھی امکان ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق آرکٹک خطے میں، جہاں روس اور چین کی دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے، گرین لینڈ کو ایک سٹریٹجک امریکی مرکز بنانے کی صدر ٹرمپ کی خواہش حالیہ دنوں میں ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہے۔
خاص طور پر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکہ میں گرفتاری کے بعد یہ خواہش دوبارہ اُبھر کر سامنے آئی ہے۔
گرین لینڈ متعدد بار کہہ چکا ہے کہ وہ امریکہ کا حصہ بننا نہیں چاہتا۔
وائٹ ہاؤس نے روئٹرز کے سوالات کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کو امریکی قومی سلامتی کی ایک اہم ترجیح سمجھتے ہیں، جو آرکٹک خطے میں مخالف طاقتوں کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر اور ان کی ٹیم اس اہم خارجہ پالیسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے، اور یقیناً سپریم کمانڈر کے اختیار میں امریکی فوج کا استعمال بھی ہمیشہ موجود ہے۔
ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے طریقوں پر بات چیت اوول آفس میں جاری ہے، اور مشیر کئی مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو کے رہنماؤں کی جانب سے گرین لینڈ کی بھرپور حمایت پر مبنی سخت بیانات بھی ٹرمپ کو اس ارادے سے باز نہیں رکھ سکے۔
سینیئر امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے باقی تین برسوں میں گرین لینڈ کے حصول کی کوشش ختم ہونے والی نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپشنز میں گرین لینڈ کی براہِ راست امریکی خریداری یا اس علاقے کے ساتھ آزاد اتحاد کا معاہدہ کرنا شامل ہیں۔ ’کمپیکٹ آف فری ایسوسی ایشن‘معاہدہ اس حد تک نہیں جائے گا کہ 57 ہزار کی آبادی پر مشتمل یہ جزیرہ ٹرمپ کی خواہش کے مطابق امریکہ کا حصہ بن جائے۔
اس ممکنہ خریداری کی قیمت کے حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
عہدیدار نے بتایا کہ صدر کے لیے سفارت کاری اور معاہدہ کرنا ہمیشہ پہلا آپشن ہوتا ہے۔ وہ معاہدے کے بہت شوقین ہیں۔ اگر گرین لینڈ حاصل کرنے کے لیے کوئی اچھا معاہدہ ممکن ہو، تو یہ یقیناً ان کا پہلا آپشن ہوگا۔
انتظامیہ کے حکام کا موقف ہے کہ اس جزیرے میں ایسے معدنی ذخائر موجود ہیں جو ہائی ٹیک اور فوجی استعمال کے لیے اہم ہیں۔ یہ وسائل ابھی تک استعمال میں نہیں آئے کیونکہ مزدوروں کی کمی، بنیادی ڈھانچے کی کمی اور دیگر چیلنجز موجود ہیں۔
یورپ کی بڑی طاقتوں اور کینیڈا کے رہنماؤں نے منگل کو گرین لینڈ کے حق میں اپنی  حمایت کا اظہار کیا اور کہا کہ آرکٹک جزیرہ اس کے عوام کا ہے۔

 

شیئر: