Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں مردم شماری یکم اپریل سے، 30 لاکھ سے زیادہ افسران تعینات

اقوام متحدہ کے مطابق انڈیا 2023 میں چین سے آگے نکل گیا تھا (فوٹو: روئٹرز)
انڈیا میں 2026 میں مجموعی طور پر کتنے لوگ رہ رہے ہیں، اس سوال کا جواب 30 لاکھ سے زائد افسران تلاش کرنے جا رہے ہیں جس میں ایک برس لگے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ گنتی چند برس قبل ہو رہی تھی مگر پھر کووڈ آنے کی وجہ سے وہ رک گئی تھی اور اس کے بعد معاملہ التوا کا شکار تھا۔
انڈین حکومت کی جانب سے پیر کو بتایا گیا کہ ایک دہائی میں ایک بار آبادی کا سروے دراصل 2021 میں ہونا تھا، اب یہ گنتی یکم اپریل سے شروع ہو گی اور اس کے ابتدائی مرحلے میں ان شہریوں کے لیے بھی ونڈو رکھی گئی ہے جو اپنی آن لائن رجسٹریشن چاہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گھر گھر جا کر لوگوں کی گنتی شروع ہو گی جس کے دو مراحل ہوں گے۔
انڈیا کے محکمۂ مردم شماری کے کمشنر مرتنجے کمار نارائن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے میں مکانات اور رہائش سے متعلق معلومات اکٹھی کی جائیں گی کہ جبکہ دوسرے میں لوگوں کو شمار کرنے کے علاوہ ان کے لوگوں کے معاشی اور سماجی معیار کے حوالے سے معلومات جمع کی جائیں گی۔
انڈیا اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک ہے۔ اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق انڈیا 2023 میں انڈیا ایک ارب 40 کروڑ کی آبادی کے ساتھ چین کو پیچھے چھوڑ گیا تھا۔
اقتصادی ماہرین اور تجزیہ کار انڈیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کو خطرے کی گھنٹی نہیں سمجھتے۔
اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہاں کی حکومت طویل عرصے سے نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور اسے ایک اہم موقع قرار دیتی ہے تاہم دوسری جانب بہت سی بڑی معیشتیں زوال پذیر ہیں اور عمر رسیدہ افراد کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

انڈیا میں کووڈ 19 کی وجہ سے پچھلی مردم شماری التوا کا شکار ہو گئی تھی (فوٹو: روئٹرز)

مرتنجے کمار نارائن کا یہ بھی کہنا تھا کہ مردم شماری کے دوران مختلف ذاتوں کے حوالے سے معلومات بھی جمع کی جائیں گی۔
انڈیا میں ذات پات اور سماجی طور پر سطح بندی کا نظام ہزاروں برس پرانا ہے اور ملک کے اندر جڑیں رکھنے کے علاوہ سیاست میں بھی پھیلا ہوا ہے۔
ملک میں ذات پات کی بنیاد پر سیاست کرنے والی پارٹیاں پائی جاتی ہیں جبکہ بہت سے محکموں میں ملازت کے لیے ذاتوں کی بنیاد پر کوٹے مقرر ہیں اور کچھ ایسا ہی سلسلہ تعلیمی اداروں میں بھی دکھائی دیتا ہے۔

انڈیا میں 2011 میں ذات کے حوالے سے اندراج کا کام کیا گیا تھا (فوٹو: روئٹرز)

ملک کے موجودہ نظام کے حامیوں کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مردم شماری میں ان لوگوں کی فہرستیں بھی بنائی جائیں جو سرکاری طور پر مالی امداد کے مستحق ہیں، جبکہ دوسری جانب مخالفین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے ملک میں ذات پات کے لیے کوئی گنجائش نہیں جو دنیا کی بڑی طاقت بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔
انڈیا میں 80 برس میں پہلی مرتبہ 2011 میں ذات کے حوالے سے اندراج کا کام کیا گیا تاہم پوری طرح شائع کرتے ہوئے سامنے نہیں لایا گیا کیونکہ اس کی درستی کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں۔
مردم شماری کے تمام مراحل اگلے برس می مارچ تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
انڈیا کے محکمہ مردم شماری کے کمشنر مرتنجے کمار نارائن کا کہنا ہے کہ گنتی کے لیے استعمال ہونے والے آلات بشمول ڈیجیٹل گیجٹس کے جلد ہی جاری کر دیے جائیں گے جن میں ایسے آلات بھی شامل ہیں جو پہلی بار استعمال کیے جا رہے ہیں۔

شیئر: