’شکریہ ماریا ماچاڈو‘، وینزویلین اپوزیشن لیڈر کا نوبیل میڈل اب صدر ٹرمپ کے پاس
وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچاڈو امریکہ کے دورے پر ہیں (فوٹو: روئٹرز)
وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچاڈو نے اپنے نوبیل پرائز کا میڈل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دے دیا ہے اور انہوں نے قبول کر لیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ پیشکش انہوں نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے موقع پر کی جبکہ وہ صدر ٹرمپ کی جانب سے لاطینی ملک کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے ہونے والے اقدامات میں سیاسی اثر و رسوخ حاصل کرنے کی بھی کوشش میں ہیں۔
وائٹ کے ایک عہدیدار نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ میڈل اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
جمعرات کی شام کو سوشل میڈیا پر کی گئی ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ’ماریا نے خدمات کے صلے کے طور پر مجھے نوبیل پیس پرائز پیش کیا جو کہ باہمی احترام کی شاندار علامت ہے۔ شکریہ ماریا‘
ماریا ماچاڈو نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کو بہت بہترین قرار دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ تحفہ ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا ہے۔
ان کے نزدیک صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے عوام کی آزادی کے لیے کردار ادا کیا۔
ماریا ماچاڈو کی جانب سے صدر ٹرمپ پر اثرانداز ہونے کی کوشش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انہوں نے وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو کی جگہ انہیں (ماریا ماچاڈو) دینے کے خیال کو مسترد کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کھلے عام نوبیل پرائز کے حصول کی بات کرتے رہے ہیں اور اس کے لیے مہم بھی چلائی اور جب پرائز ان کو نہیں ملا تو وہ اس کی تلخ الفاظ میں شکایت کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔
اگرچہ ماریا ماچاڈو نے اپنا میڈل صدر ٹرمپ کو دے دیا ہے تاہم ناروے کے نوبیل انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ یہ اعزاز انہی کا رہتا ہے جن کو یہ دیا جاتا ہے اور اس کو منتقل یا منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔
جب بدھ کو صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ماریا ماچاڈو اپنا ایوارڈ ان کو دیں؟
اس کے جواب میں امریکی صدر نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ ’نہیں، میں نے اس کے لیے نہیں کہا کیونکہ انعام تو انہوں نے ہی جیتا ہے۔‘
ریپبلکن صدر طویل عرصے سے یہ انعام حاصل کرنے کے لیے دلچسپی کا اظہار کرتے رہے ہیں اور اکثر اس کے لیے اپنی سفارتی بھی گنوائیں اور زور دیتے رہے کہ ان کے صلے میں نوبیل پرائز ان کو دیا جانا چاہیے۔
دوپہر کے کھانے پر ہونے والی یہ امریکی صدر اور وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر کے درمیان پہلی ملاقات تھی جو ایک گھنٹہ سے زائد وقت تک جاری رہی۔
اس کے بعد ماریا ماچاڈو نے کیپٹل ہل میں متعدد سینیٹرز، ریپبلکن اور ڈیموکریٹک رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔
ماریا ماچاڈو کے دورے کے دوران وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ ان سے ملاقات کے منتظر ہیں، تاہم وہ اپنے اس ’حقیقت پسندانہ‘ خیال پر بھی قائم ہیں کہ فی الوقت ان کے پاس ملک کی قیادت کے لیے درکار سپورٹ موجود نہیں ہے۔
