ایران کی جنگ میں فوجی شرکت کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا، کینیڈین وزیراعظم
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگ میں اپنے ملک کی فوجی شرکت کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کر سکتے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق رواں ہفتے کینیڈین وزیراعظم کا آسٹریلیا کا دورہ مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتی ہوئی جنگ کی وجہ سے پس منظر میں چلا گیا تھا۔
یہ جنگ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر بڑے حملے سے شروع ہوئی تھی جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای مارے گئے۔
آسٹریلیا کے شہر کینبرا میں اپنے آسٹریلوی ہم منصب انتھونی البانیزی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مارک کارنی سے پوچھا گیا کہ کیا کوئی ایسی صورتحال ہو سکتی ہے جس میں کینیڈا جنگ میں شامل ہو جائے؟
انہوں نے جواب دیا کہ ’کسی بھی صورت میں شرکت کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔‘ تاہم انہوں نے زور دیا کہ یہ سوال صرف مفروضے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ ’ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ ہم ہمیشہ کینیڈین شہریوں کا دفاع کریں گے۔‘
مارک کارنی نے کہا کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے بین الاقوامی قانون کے مطابق نہیں تھے تاہم وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ ایک ایسا موقف ہے جو کینیڈا نے’افسوس کے ساتھ‘ اختیار کیا ہے، کیونکہ اس کے مطابق یہ ’بین الاقوامی نظام کی ایک اور ناکامی‘ کو ظاہر کرتا ہے۔
کینیڈا کے رہنما نے جمعرات کو ایک بار پھر تنازع کم کرنے کی اپیل کی۔ مارک کارنی کا یہ دورہ ایشیا اور بحرالکاہل کے کئی ممالک کے سفر کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکہ پر انحصار کم کرنا ہے۔
اس دورے کا مقصد سرمایہ کاری لانا اور ایک ہم خیال ’درمیانی طاقت‘کے حامل ملک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا ہے۔
’درمیانی طاقت‘کے حامل ممالک کے لیے اتحاد کی اپیل
جمعرات کی صبح کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے آسٹریلیا کی پارلیمنٹ میں ’درمیانی طاقت‘کے حامل ممالک سے مل کر کام کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ ’دنیا کے بدلتے ہوئے طاقت کے نظام میں مل کر کام کریں۔ آسٹریلیا اور کینیڈا جیسے ممالک کے سامنے واضح انتخاب ہے: یا تو وہ مل کر عالمی نظام کے نئے اُصول بنانے میں کردار ادا کریں یا پھر بڑی طاقتیں ان کے لیے یہ اُصول طے کریں گی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اس نئے دور میں درمیانی طاقت کے حامل ممالک صرف دیواریں بلند کر کے خود کو الگ نہیں کر سکتے۔ ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔‘
کینیڈین وزیراعظم کے مطابق بڑی طاقتیں دوسروں کو مجبور کر سکتی ہیں لیکن اس جبر کی قیمت شہرت اور مالی نقصان کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آسٹریلیا اور کینیڈا جیسے درمیانی طاقت کے حامل ممالک کے پاس لوگوں کو اکٹھا کرنے کی ایک خاص صلاحیت ہوتی ہے کیونکہ دوسرے ممالک جانتے ہیں کہ ہم جو کہتے ہیں اس پر قائم رہتے ہیں اور ہم اپنے اقدار کے مطابق عملی اقدامات بھی کرتے ہیں۔‘
کینیڈا کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک سٹریٹیجک شراکت دار کے طور پر کام کریں گے۔ انہوں نے دفاع سے لے کر مصنوعی ذہانت تک مختلف شعبوں میں نئے تعاون کی تفصیلات بھی بتائیں۔
