Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستانی پنجاب میں پیدا ہونے والے انڈیا کے ممتاز فوٹوگرافر رگھو رائے 83 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

بین الاقوامی شہرت یافتہ انڈین ماسٹر فوٹوگرافر رگھو رائے اتوار کے روز انتقال کر گئے۔ وہ 83 برس کے تھے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تعمیراتی انجینئر کی حیثیت سے تربیت حاصل کرنے والے رگھو رائے، جو تقسیمِ ہند سے قبل پاکستانی پنجاب کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے تھے، بعد میں ایک عظیم فوٹوگرافر بنے اور انہوں نے انڈیا کی پیچیدہ سماجی اور سیاسی زندگی کو اپنی تصاویر میں محفوظ کیا۔
ان کے مشہور کاموں میں 1971 کی جنگ اور انڈیا کے بدترین صنعتی سانحے، 1984 میں بھوپال میں ہونے والی گیس لیک، کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنا شامل ہے، جس میں اندازاً 25 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
رگھو رائے نے اکیڈمی دے بیو آرٹس فوٹوگرافی ایوارڈ کا پہلا انعام جیتا، اور 1972 میں انہیں پدم شری سے نوازا گیا، جو انڈیقا کے اعلیٰ ترین شہری اعزازات میں سے ایک ہے۔
رکنِ پارلیمان ششی تھرور نے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا کے لیے وہ فوٹوگرافی کے بے مثال ماہر تھے، ایک وژنری جنہوں نے انڈیا کے دھڑکتے دل اور روح کو قید کیا۔‘
’آپ کا وژن ہمیشہ اس لینس کے طور پر زندہ رہے گا جس کے ذریعے انڈیا کو دیکھا جاتا ہے۔‘
انڈیا کے سیاسی و سماجی اشرافیہ کے پورٹریٹس بنانے اور اس کی ثقافت اور عوام کو یکساں مہارت سے عکس بند کرنے کے لیے معروف رگھو رائے نے درجنوں فوٹو بکس شائع کیں، جن میں محبت کی علامت تاج محل پر بھی کام شامل ہے۔
مدر ٹریسا کی تصاویر ان کے کام میں خاص مقام رکھتی ہیں۔
رگھو رائے میگنم فوٹوز کے رکن تھے، جو نیویارک میں قائم ایک معروف ادارہ ہے، اور انہیں اس میں شامل ہونے کے لیے عالمی شہرت یافتہ فوٹوگرافر ہنری کارتیے بریساں نے نامزد کیا تھا، جو اپنی قدرتی اور بے ساختہ فوٹوگرافی کے لیے مشہور ہیں۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق، رائے کو چھ دہائی قبل ان کے فوٹوگرافر بھائی نے اس فن سے روشناس کرایا، اور ان کی پہلی تصویر، ایک گدھا جو سیدھا کیمرے کی طرف دیکھ رہا تھا، دی ٹائمز آف لندن میں شائع ہوئی۔
انڈیا میں قائدِ حزبِ اختلاف قائد راہول گاندھی نے کہا کہ ’انہوں نے صرف تصاویر نہیں بنائیں، بلکہ ہماری قوم کی یادداشت کو محفوظ کیا۔‘
بعد میں رائے نے فوٹو جرنلزم کا رخ کیا اور 1960 اور 70 کی دہائیوں میں ملک کے معروف میڈیا اداروں کے ساتھ کام کیا، اس کے بعد وہ آزادانہ طور پر اپنے وسیع ملک کی پیچیدگیوں کو دکھانے کے مشن پر نکل پڑے۔
رائے کا کام فلم اور ڈیجیٹل دونوں فارمیٹس، بلیک اینڈ وائٹ اور رنگین تصاویر پر مشتمل ہے۔
انہوں نے پوری زندگی انڈیا میں کام کیا، اور ایک بار کہا تھا کہ ’میں کیمرے کے بغیر اپنے تجربات کے ساتھ سچا نہیں رہ سکتا۔‘

شیئر: