Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جازان ریجن میں پپیتے کے 8 لاکھ درخت، سالانہ پیداوار 40 ہزار ٹن سے تجاوز

یہاں کی آب و ہوا اور زرخیز مٹی میں پپیتے کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے۔( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے جازان ریجن میں غیرمعمولی قدرتی اور موسمیاتی تنوع نے ایک زرخیز زرعی ماحول پیدا کیا ہے، جو مختلف فصلوں کی سپورٹ کرتا ہے۔
یہاں تہامہ کے میدان، بالائی پہاڑی مقامات اور ساحلی علاقے ایک متوازن ماحولیاتی نظام تشکیل دیتے ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق جازان ریجن کی حیثیت مملکت کے اہم ترین زرعی علاقوں میں سے ایک کے طور پر مضبوط ہوئی ہے، جہاں انواع و اقسام کی زرعی اجناس کاشت کامیابی سے کی جاتی ہیں۔
جازان میں پپیتے کی کاشت میں کامیابی حاصل کی گئی، یہاں کی آب و ہوا اور زرخیز مٹی میں اس کاشت میں اضافہ ہوا ہے۔ 
پپیتے کا پودا تیزی سے بڑھنے والا ہے، جس کا تنا سیدھا ہوتا ہے جبکہ اس کی کوئی شاخیں نہیں ہوتیں، اس کے پتے بڑے اور کٹاو دار ہوتے ہیں، اس کا پھل بیضوی یا لمبوترے ہوتے ہیں جو پکنے کے بعد زرد یا نارنجی رنگ اختیار کرلیتے ہیں۔ یہ پھل غذائی اجزا اور وٹامنز سے بھرپور ہوتا ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران جازان میں پپیتے کی کاشت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی  بڑی وجہ اس کی معاشی افادیت کے بارے میں بڑھتا ہوا شعور ہے۔
یہ فصل کم رقبے پر بھی اچھا منافع دیتی ہے اور گرم و مرطوب آب و ہوا سے ہم آہنگ ہے۔

اس وقت ریجن میں 8 لاکھ سے زائد پپیتے کے درخت موجود ہیں، سالانہ پیداوار 40 ہزار ٹن سے تجاوز کرچکی ہے جو اس فصل کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاس ہے۔
پپیتے کی کاشت میں وسعت ایک امیدا افزا سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ سب سعودی وژن 2030 کے زرعی ترقی اور فوڈ سکیورٹی کے اہداف کے مطابق ہے۔

 

شیئر: