مذاکرات کی منسوخی: امریکہ اور ایران کے درمیان امن کی امیدیں ماند پڑ گئیں
اتوار 26 اپریل 2026 15:50
امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ میں سفارتی پیش رفت کی امیدیں اتوار کو ماند پڑگئیں کیونکہ مذاکرات بحال کرنے کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئیں اور تہران اور واشنگٹن دونوں کی جانب سے اپنے مؤقف میں نرمی کے آثار کم دکھائی دیے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے اختتام پر پاکستان میں ہونے والی ثالثی بات چیت کے بعد مشرقِ وسطیٰ واپس روانہ ہو گئے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نمائندوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا۔
اگرچہ جنگ بندی کے باعث اس تنازع میں مکمل لڑائی رک گئی ہے، جو 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوئی تھی، تاہم جنگ کے خاتمے کی شرائط پر کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، مہنگائی بڑھی ہے اور عالمی معاشی ترقی کے امکانات دھندلا گئے ہیں۔
تہران نے آبنائے ہرمز کو بڑی حد تک بند کر دیا ہے، جہاں سے عام طور دنیا کے 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی کی ترسیل ہوتی ہے، جبکہ واشنگٹن نے ایران کی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔
امریکہ سمندری ناکہ بندی ختم کرے: ایران
ایرانی حکومت کے بیان کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ تہران دھمکیوں یا ناکہ بندی کے تحت ’مسلط کردہ مذاکرات‘ میں شامل نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے امریکہ کو رکاوٹیں، خصوصاً سمندری ناکہ بندی، ختم کرنا ہوں گی تاکہ کسی حل کی بنیاد رکھی جا سکے۔
اس کے باوجود عباس عراقچی نے اپنے دورۂ پاکستان کو ’انتہائی مفید‘ قرار دیا۔ اسلام آباد سے روانگی کے بعد وہ عمان پہنچے، جو اس جنگ میں ایک اور ثالث ہے، جہاں انہوں نے عمان کے سلطان سے ہيثم بن طارق السعید سے تنازع کے خاتمے پر بات چیت کی۔
ادھر فلوریڈا میں گفتگو کرتے ہوئے، جہاں وہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے سے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد جلدی روانہ ہو گئے تھے، صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اپنے نمائندوں کا دورہ اس لیے منسوخ کیا کیونکہ ان کے خیال میں ایران کی پیشکش ناکافی تھی جبکہ سفر اور اخراجات زیادہ تھے۔
ٹرمپ نے کہا کہ سفارتی دورہ منسوخ ہونے کے بعد ایران نے ’کافی پیشکش کی، لیکن وہ کافی نہیں تھی۔‘
