Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’بلیک میلنگ نہیں ہو سکتی‘، وزیراعظم کی اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مذاکرات کی دعوت دی ہے تاہم ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ’اس کی آڑ میں کوئی بلیک میلنگ نہیں ہو سکتی۔‘
منگل کو اسلام آباد میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے دوستوں کی جانب سے ڈائیلاگ کے بارے میں اخبار میں پڑھا، میں نے ان کو اسمبلی میں بھی بات چیت کی دعوت دی تھی۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’اس کے بعد بھی دعوت دی، اب اگر وہ اس کے لیے تیار ہیں تو حکومت پاکستان بھی بالکل تیار ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں میں ہم آہنگی ہونی چاہیے۔
تاہم یہ بھی واضح کیا کہ ’بات چیت کی آڑ میں غیرقانونی کام یا بلیک میلنگ نہیں ہو سکتی، جو جائز معاملات ہیں ان کی روشنی میں ڈائیلاگ آگے بڑھ سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق ’میں نے اس کے لیے پہلے بھی دعوت دی تھی اور آج ایک بار پھر دوہراتا ہوں۔‘
خیال رہے ایک روز قبل مشیر وزیراعظم رانا ثنا اللہ نے بھی اس امر کو غلط قرار دیا تھا کہ پی ٹی آئی کے لیے بات چیت کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا گیا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے تحریک انصاف کو چار بار مذاکرات کی پیشکش کی۔

تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد ان کی جماعت مسلسل احتجاج کر رہی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اتوار کو توشہ خانہ ٹو کیس میں 17 سال کی سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو سٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔
سابق وزیراعظم عمران خان نو اپریل 2022 کو تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جس کے بعد سے ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔
مئی 2023 میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد بھی ان کی جماعت کی جانب سے احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے۔
تحریک انصاف کے اندر سے پہلے بھی مذاکرات کی بات ہوتی رہی ہے تاہم اس حوالے سے کوئی بھی کوشش ابھی تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی۔

 

شیئر: