Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب اے آئی ایکو سسٹم کی تعمیر میں قابل اعتماد عالمی شراکت دار: السواحہ

ولی عہد تین منفرد نوعیت کی حکمت عملی پر غور کررہے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزیرکمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرعبداللہ السواحہ کا کہنا ہے’سعودی عرب‘ انٹیلجنٹ ایج میں مصنوعی ذہانت ایکو سسٹم کی تعمیر میں قابل اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر موجود ہے۔‘
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق وہ  ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے ایک حصے کے طورپر سعودی ہاوس میں ’عالمی خوشحالی کے لیے مصنوعی ذہانت: جدت، شمولیت اور اعتماد‘ کے عنوان سے ایک ڈائیلاگ سیشن میں خطاب کر رہے تھے۔
انجینئرعبداللہ السواحہ نے کہا کہ’ مملکت کی پوزیشن کو توانائی، سرمایہ، انفرا سٹرکچر اور انسانی صلاحیتیوں جیسے بنیادی عناصر مضبوط بناتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا ’مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ کے شعبے میں مملکت کو حاصل ہونے والی کامیابیوں کی بنیاد شاہ سلمان بن عبدالعزیزکی ہدایات اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے بھرپورتعاون ہے۔‘
’مملکت عالمی طورپر سب سے بڑے توانائی فراہم کنندہ کے طورپر منصوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز تک رسائی کو بڑھانے میں اہم کردار کی حامل ہے۔‘

انہوں نے زور دیا کہ’ مملکت کی جانب سے ہیلتھ کیئر، توانائی اور جدید کمیسٹری کے شعبوں میں کیے جانے والے اقدامات، انسانیت اور کرہ ارض کو فائدہ پہنچانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال ایک ماڈل ہے جو انٹیلجنٹ ایج میں عالمی سطح پر خوشحالی کوفروغ دیتے ہیں۔‘
الاخباریہ کے مطابق السواحہ نے اپنے خطاب میں مزید کہا’ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان تین منفرد نوعیت کی حکمت عملی پر غور کررہے ہیں جن کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں دنیا بھر کے 5 بہترین مراکز میں مملکت کو شامل کیا جائے۔‘
’سعودی عرب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک بننے کے لیے کوشاں ہے۔‘

مملکت نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے طبی اور حیاتیاتی شعبوں میں پیش رفت کی ہے جس کے تحت سرجری میں روبوٹس کا کامیاب استعمال شامل ہے۔ علاوہ ازیں ایسے پیچیدہ کام جن کے لیے کئی ہفتے درکار ہوتے تھے، ان کا دورانیہ گھنٹوں تک محدود کرنے میں کامیابی ملی ہے۔
انہوں نے کہا’ 20 ویں صدی توانائی پر مرکوز تھیں۔ 21 ویں صدی کی تعریف کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت سے کی جار ہی ہے۔‘
’سعودی عرب نے دنیا کے سب سے بڑے انرجی پروائیڈر کے طور پر مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی تک رسائی کو بڑھانے اور عام مقصد کے لیے ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘

 

شیئر: