Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹرمپ کی ایران کے جزیرہ خارگ پر مزید حملوں کی دھمکی، اتحادیوں پر آبنائے ہرمز کے لیے دباؤ

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اب اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اہم ترین تیل برآمدی مرکز، جزیرہ خارگ پر مزید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے اپنے جنگی جہاز تعینات کریں۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ دوسری جانب تہران نے امریکی اقدامات کے خلاف اپنے ردعمل میں شدت لانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اب اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنبیچر کو این بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں نے جزیرہ خارگ کے بڑے حصے کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دیا ہے۔
انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے انتباہ دیا کہ ’ہم شاید محض تفریح کے لیے وہاں چند بار مزید حملے کریں۔‘
یہ ریمارکس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تنازع میں ایک بڑی شدت کی نشاندہی کرتے ہیں کیونکہ اس سے قبل ان کی انتظامیہ کا موقف تھا کہ وہ خارگ پر صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ان کے اس بیان نے سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کی جانب سے مذاکرات شروع کرنے کی تجاویز کو ٹرمپ انتظامیہ نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران تنازع ختم کرنے کے لیے معاہدہ کرنے پر تیار نظر آتا ہے لیکن ان کے بقول ’معاہدے کی شرائط ابھی اس قابل نہیں ہیں کہ انہیں قبول کیا جائے۔‘
عالمی تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ تہران کی جانب سے اس گزرگاہ کو بند کرنے کی صلاحیت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنی ہوئی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران تنازع ختم کرنے کے لیے معاہدہ کرنے پر تیار نظر آتا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

جنگ کے باعث تیل کی رسد میں تاریخ کا سب سے بڑا خلل پیدا ہوا ہے جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور یہ بحران طویل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ’دنیا کے وہ ممالک جو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل حاصل کرتے ہیں، انہیں اس گزرگاہ کی حفاظت خود کرنی چاہیے اور ہم اس میں ان کی بہت زیادہ مدد کریں گے!‘
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ان ممالک کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرے گا تاکہ جہاز رانی کا عمل تیزی اور روانی سے جاری رہ سکے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنی توانائی کی تنصیبات پر ہونے والے کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دے گا۔
اتوار کو ایران کی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ انہوں نے اسرائیل کے اندرونی اہداف اور خطے میں موجود تین امریکی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔ پاسداران انقلاب نے ان حملوں کو ایران کے صنعتی علاقوں میں ہلاک ہونے والے کارکنوں کا پہلا باضابطہ انتقام قرار دیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کی طرف سے داغے گئے بیشتر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔
اسی دوران سعودی عرب کی وزارت دفاع نے ریاض اور مشرقی علاقوں کی جانب آنے والے 10 ڈرونز کو مار گرانے کی اطلاع دی ہے۔

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کی طرف سے داغے گئے بیشتر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

 اگرچہ ایران نے ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے لیکن خطے میں بے یقینی کی کیفیت برقرار ہے۔ متحدہ عرب امارات کے ایک بڑے انرجی حب پر بھی ڈرون حملے کی اطلاع ملی ہے جس کے بعد امریکہ نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
28  فروری کو ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے شروع کی گئی اس جنگ میں اب تک دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن کی اکثریت ایران میں مقیم تھی۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق اصفہان میں ایک ریفریجریٹر اور ہیٹر فیکٹری پر ہونے والے فضائی حملے میں کم از کم 15 مزدور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ جیسے ممالک سے آبنائے ہرمز میں جنگی جہاز بھیجنے کے مطالبے پر تاحال کسی ملک نے مثبت اشارہ نہیں دیا۔
جاپان کے پالیسی چیف تاکایوکی کوبایاشی نے کہا کہ اگرچہ وہ اس امکان کو مسترد نہیں کرتے لیکن قانونی رکاوٹیں بہت زیادہ ہیں۔ فرانس اور برطانیہ فی الحال صورتحال مستحکم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ جہاز رانی کے تحفظ کے لیے کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای جنہوں نے اپنے والد کی جگہ سنبھالی ہے، پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو بند رہنا چاہیے۔

شیئر: