Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ورلڈ اکنامک فورم 2026: مملکت کی معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد، ’سعودی ہاؤس‘ میں پینل مباحثہ

ورلڈ اکنامک فورم کا 56 واں اجلاس ’اے سپرٹ آف ڈائیلاگ‘ کی تھیم کے ساتھ ڈیووس میں ہو رہا ہے جو 23 جنوری تک جاری رہے گا۔
عرب نیوز کے مطابق 2026 کے فورم میں مختلف ملکوں کے رہنما اور سرکاری اعلٰی عہدیداروں کے علاوہ اہم شخصیات شرکت کر رہی ہیں جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی، مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور شامی صدر احمد الشرع سمیت 65 سربراہان مملکت شامل ہیں۔
منتظمین اسے ایونٹ کی تاریخ کے سب سے اعلٰی سطح کے ایونٹس میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔
اس میں یوکرین کی جنگ سے لے کر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی تک کئی اہم جغرافیائی چیلنجز پر بات ہوگی۔ غزہ، لبنان اور بحیرۂ احمر میں متعدد تنازعات نے علاقائی کشیدگی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
یہ فورم ایک ایسے وقت ہورہا ہے، جب عالمی سطح پر تقسیم ہے اور معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہوا ہے۔ 
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم 23 جنوری 2026  میں پانچ بڑے عالمی چیلنجز زیربحث آئیں گے۔
ان چیلنجزمیں پراعتماد ماحول میں مشترکہ ایکشن کا فروغ ، پائیدار اقتصادی ترقی کی نئی راہیں، مہارتوں اور انسانی سرمایہ میں اضافے پر توجہ، ٹیکنالوجی اورانوینشن کا ذمہ دارانہ استعمال اور اقتصادی ترقی کے ماڈلز میں ماحولیاتی پائیداری کو شامل کرنا ہے۔

یوکرین کی جنگ سے لے کر مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی تک کئی اہم چیلنجز پر بات ہوگی۔(فائل فوٹو: اے ایف پی)

اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور سائبرسکیورٹی کے صنعتوں و معاشرے پراثرات اہم موضوعات ہوں گے۔
سعودی وفد میں امریکہ میں سعودی سفیر شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان، وزیر تجارت ڈاکٹر ماجد عبداللہ القصبی، وزیر سیاحت احمد الخطیب، وزیر سرمایہ کاری انجینیئر خالد الفالح، وزیر خزانہ محمد الجدعان، وزیر کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینیئرعبداللہ السواحہ، وزیر صنعت و معدنی وسائل بندر الخریف اور وزیر اقتصاد و منصوبہ بندی فیصل الابراہیم شامل ہیں۔
سعودی وفد عالمی استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے گورنمنٹ، بزنس، سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کے لیڈرز کے ساتھ  کھلی اور تعمیری بات چیت میں حصہ لے گا۔
ورلڈ اکنامک فورم کے دوران ’سعودی ہاؤس‘ پویلین بھی قائم کیا گیا ہے جس کا اہتمام وزارت اقتصادیات و منصوبہ بندی کی جانب سے کیا گیا۔

 سعودی ہاؤس میں ایک پینل مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے وزیرخزانہ محمد الجدعان نے کہا کہ ’مملکت اپنی اقتصادی صلاحیتوں میں لچک اور استحکام میں اضافے کے لیے کام کر رہی ہے۔‘
الاخباریہ کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ ’گزشتہ برسوں میں نافذ کی جانے والی اصلاحات پائیدار تھیں،عارضی نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ان اصلاحات نے سعودی معیشت کو چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بنانے میں اہم کردار ادا کیا، مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے بااثر شعبوں کی جانب خصوصی توجہ دی گئی۔‘
سعودی وزیرخزانہ نے کہا کہ ’پائیدارترقی کو یقینی بنانے اور طویل مدت کے لیے سعودی معیشت پراعتماد بڑھانے کے لیے مالی اعتبار سے نظم و ضبط کی پالیسیوں کو جاری رکھنا اہم ہے۔‘
سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح کا کہنا تھا کہ ’معیشت کی تبدیلی اب کوئی آپشن نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی معیشت کی تعمیر کا واحد راستہ ہے جو بحالی، مسابقت اور پائیدار طویل المدتی ترقی کے قابل ہو۔‘

ورلڈ اکنامک فورم کے دوران ’سعودی ہاؤس‘ پویلین بھی قائم کیا گیا ہے (فوٹو: ایس پی اے)

انہوں نے کہا کہ ’اصل چیلنچ اصلاحات کا آغاز اور ان پر عملدرآمد نہیں بلکہ انہیں پائیدار نتائج میں تبدیل کرنا ہے۔‘
سعودی وزیر سرمایہ کاری نے واضح کیا کہ ’دنیا کو جیوپولیٹکل خطرات اور سپلائی کے حوالے سے رکاوٹوں کا سامنا ہے جس کے لیے یہ مستحکم منڈیوں کی تلاش ضروری امر ہے۔‘
غیرملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ براہ راست غیرملکی اور مقامی سرمایہ کاری میں اضافہ سرمایہ کاروں کی جانب سے سعودی معیشت پر مکمل اعتماد کی دلیل ہے۔
’مملکت توانائی، ہائیڈروجن، جہاز سازی، سپلائی چین کے علاوہ مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مقام کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔‘

 

شیئر: