پاکستان بھر میں کام کرنے والے لاکھوں غیر مستند اور جعلی ڈاکٹروں میں سے ایک کے زیرِ انتظام کلینک کی دیوار پر زنگ آلود کیلوں سے استعمال شدہ انفیوژن ٹیوبیں لٹکی ہوئی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوبی صوبہ سندھ میں واقع اس چھوٹی سی سڑک کنارے دکان پر روزانہ درجنوں مریض آتے ہیں، جہاں چند کرسیاں رکھی گئی ہیں اور لکڑی کی میزوں کو مریضوں کو لٹانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
عبدالوحید، جنہوں نے چند ماہ قبل حیدرآباد شہر کے مضافات میں یہ مرکز قائم کیا، کہتے ہیں کہ ’ان مریضوں کو مجھ پر یقین ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ میں ان کا اچھا علاج کر سکتا ہوں۔‘
مزید پڑھیں
48 سالہ عبدالوحید دن کے وقت حیدرآباد کے ایک نجی ہسپتال میں کام کرتے ہیں، جبکہ شام کے وقت وہ گاؤں ٹنڈو سعید خان آ کر اپنے کلینک میں مریض دیکھتے ہیں 300 روپے معائنہ فیس وصول کرتے ہیں۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں نے اس شعبے میں بہت وقت گزارا ہے۔ کئی ڈاکٹروں کے ساتھ کام کیا ہے۔ خدا کے فضل سے میں مرض کی تشخیص اور مریض کا علاج کرسکتا ہوں۔‘
نہ تو کلینک پر کوئی سائن بورڈ ہے، نہ رجسٹریشن نمبر، اور نہ ہی انہیں ڈاکٹر کے طور پر پریکٹس کرنے کی کوئی قانونی اجازت حاصل ہے۔
ہومیوپیتھی میں ڈپلومہ اور نرسنگ کا چار سالہ کورس مکمل کرنے والے عبدالوحید پُراعتماد لہجے میں گفتگو کرتے ہیں۔
دو کم عمر بچوں کا معائنہ کرنے کے بعد انہوں نے اصرار کیا کہ مریض خود اپنی مرضی سے ان کے پاس آتے ہیں اور ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ابھی تک کسی نے مجھ پر سوال نہیں اٹھایا۔ جو آئے گا، میں دیکھ لوں گا کیا کرنا ہے۔ ‘

یہ اس آسانی کی عکاسی کرتا ہے جس کے ساتھ پاکستان میں غیر مستند افراد اور عطائی ڈاکٹر پریکٹس کر رہے ہیں۔
اس طرح کے غیر قانونی کلینک اکثر غریب آبادیوں کے لیے علاج کا پہلا، اور بعض اوقات واحد، ذریعہ ہوتے ہیں۔
خطرناک حد تک آلات کا دوبارہ استعمال
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل عبدالغيور شورو کے مطابق ملک بھر میں ’چھ لاکھ سے زائد جعلی ڈاکٹر‘ کام کر رہے ہیں۔
اس قومی سطح کے اندازے کی تصدیق سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے بھی کی ہے، جو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔
اس عمل کو عوامی صحت کے لیے ایک وبا قرار دیتے ہوئے شورو نے کہا کہ ایسے افراد پہلے ڈاکٹروں کے ساتھ کام کرتے ہیں، چند باتیں سیکھتے ہیں، اور پھر اپنے کلینک کھول لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’غیر مستند ڈاکٹر ادویات کے مضر اثرات اور درست مقدار سے واقف نہیں ہوتے۔ اگر بیماری کی صحیح تشخیص نہ ہو تو یہ خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’جو آلات یہ استعمال کرتے ہیں وہ جراثیم سے پاک نہیں ہوتے۔ بس پانی سے دھو کر دوبارہ استعمال کر لیتے ہیں۔ سرنجیں دوبارہ استعمال کی جاتی ہیں، جس سے ہیپاٹائٹس اور ایڈز پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔‘
جب اے ایف پی کے صحافی ٹنڈو سعید خان پہنچے تو ایک اور غیر مستند ڈاکٹر فوراً اپنا کلینک بند کر کے غائب ہو گیا۔
عبدالوحید کے کلینک کے باہر موجود مقامی رہائشی علی احمد نے بتایا کہ علاقے میں ایسے کئی کلینک موجود ہیں۔
31 سالہ علی احمد نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ان میں سے کہیں بھی مستند ڈاکٹر نہیں ہیں۔ لوگ تعلیم یافتہ نہیں، اس لیے مستند اور غیر مستند ڈاکٹر میں فرق نہیں کر پاتے۔‘
زندگی بھر کا نقصان
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل پاکستان کے پہلے سے دباؤ کا شکار صحت کے نظام پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے، جہاں اعلیٰ درجے کے ہسپتال ان مریضوں سے بھرے پڑے ہیں جن کی حالت غلط علاج کے باعث مزید بگڑ جاتی ہے۔
سول ہسپتال کراچی کے سربراہ خالد بخاری کے مطابق ملک بھر سے ایسے مریض ہسپتال آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ لوگ مریضوں کی غلط تشخیص اور غلط علاج کرتے ہیں۔ ہمارا ہسپتال حد سے زیادہ بوجھ کا شکار ہے۔ ہمارے پاس آنے والے زیادہ تر مریض انہی کے ہاتھوں برباد ہو چکے ہوتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ لوگ غریب شہریوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔ اگر لوگ مستند ڈاکٹروں سے درست علاج کروائیں تو انہیں ہمارے پاس آنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔‘
ریگولیٹری ادارے بھی مسئلے پر قابو پانے میں اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہیں۔
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے سربراہ احسن قوی صدیقی نے کہا کہ ’ہمارے وسائل محدود ہیں۔ اس عمل کا مکمل خاتمہ آسان نہیں۔ اگر ہم 25 مراکز بند کرتے ہیں تو اگلے ہی دن 25 نئے کھل جاتے ہیں۔‘












