Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹویٹ کیس: ایمان مزاری اور ان کے شوہر پیشی کے لیے عدالت جاتے ہوئے گرفتار

انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو متنازع ٹویٹس کے کیس میں پیشی کے لیے عدالت جاتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے تین دن سے ہائی کورٹ میں پناہ لے رکھی تھی تاکہ گرفتاری سے بچ سکیں۔
ایمان مزاری اور ہادی علی کو سرینا ہوٹل کے باہر انڈر پاس کے قریب پولیس نے گرفتار کیا۔ دونوں ہائیکورٹ بار عہدیداران اور وکلاء کے ہمراہ ڈسٹرکٹ کورٹس جا رہے تھے۔
متنازع ٹویٹس کے کیس اور نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج سے جڑے مقدمات میں گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے تین راتیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں گزاریں۔
جمعے کی صبح جب ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر، سیکریٹری اور دیگر وکلاء کے ہمراہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس جانے کے لیے روانہ ہوئے تو پولیس نے انہیں سرینا ہوٹل کے قریب انڈر پاس سے حراست میں لے لیا۔
گرفتاری کے دوران موقع پر موجود صحافیوں سے مبینہ طور پر موبائل فون چھین لیے گئے۔ بعد ازاں ایمان مزاری کو تھانہ ویمن منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی گرفتاری کی خبر پھیلتے ہی وکلاء کی بڑی تعداد تھانے کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئی۔
اس دوران وکلاء کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور تشدد کے الزامات بھی سامنے آئے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر واجد گیلانی نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے نہ صرف ان پر تشدد کیا بلکہ گاڑی کے شیشے توڑ کر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سیکریٹری بار کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جو وکلاء کی تضحیک اور عدالتی نظام پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔‘

ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سرینہ چوک انڈر پاس کے قریب گاڑی رکوا کر گرفتار کیا گیا (فوٹو: سکرین گریب)

ان واقعات کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ہنگامی نوٹس جاری کرتے ہوئے مکمل ہڑتال کا اعلان کر دیا۔
بار ایسوسی ایشن کے مطابق 23 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں تمام عدالتی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔
اعلامیے میں واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، جبکہ وکلاء نے انصاف اور اپنی برادری کے تحفظ کے لیے متحد رہنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
خیال رہے کہ متنازع ٹویٹ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں ٹرائل کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح طور پر کیا گیا تھا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو موجودہ کیس میں گرفتار نہ کیا جائے۔
فیصلے کے مطابق دونوں کو گواہوں پر جرح کے لیے چار دن کا وقت دیا گیا تھا، جبکہ یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر وہ ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش نہ ہوئے تو یہ حفاظتی حکم خود بخود ختم تصور ہوگا۔

جولائی میں درج ایف آئی آر میں ضمانت نہیں کروائی گئی تھی (فوٹو: سکرین گریب)

اسی طرح نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج کے دوران تھانہ کوہسار میں درج اقدام قتل، دہشت گردی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات کے تحت درج مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی دو دن کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔
اس درخواست کی سماعت جسٹس محمد اعظم خان نے کی تھی جنہوں نے 10 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ دونوں دو دن کے اندر متعلقہ عدالت سے رجوع کریں۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل کامران مرتضیٰ نے عدالت کو بتایا کہ 27 جولائی کے واقعے سے متعلق درج ایف آئی آر کے بعد ایمان مزاری درجنوں مرتبہ عدالتوں میں پیش ہو چکی ہیں، اگر انہیں گرفتار کرنا مقصود ہوتا تو پراسیکیوشن پہلے ہی یہ اقدام کر سکتی تھی۔ 
انہوں نے بتایا کہ ضمانت ملنے کے فوراً بعد ایک پرانے اور نامعلوم مقدمے میں گرفتاری کی کوشش کی گئی جس کی ایف آئی آر میں فائرنگ کا ذکر ہے، ’حالانکہ ایمان مزاری نے پستول کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔‘
کامران مرتضیٰ نے عدالت سے استدعا کی کہ نہ صرف موجودہ بلکہ ان تمام مقدمات میں بھی حفاظتی ضمانت دی جائے جن کا علم ہی نہیں تھا۔
اسی دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف ایک نئی ایف آئی آر سامنے آنے کے بعد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں واقع لیگل برانچ کو تالہ لگا دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق لیگل برانچ کے عملے پر ایف آئی آر لیک کرنے کا الزام عائد کیا گیا جس کے بعد پولیس کے سینیئر افسران کی ہدایت پر یہ اقدام اٹھایا گیا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف مذکورہ ایف آئی آر جولائی میں درج کی گئی تھی، تاہم اس میں ضمانت نہیں کروائی گئی تھی اور اسی میں گرفتاری کے خدشے کے باعث دونوں گزشتہ تین روز سے ہائی کورٹ میں موجود تھے۔

 

شیئر: