Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ایک فون کال‘ نے پولیس کو کروڑوں روپے کا سونا لے کر فرار ہونے والے ملزم تک کیسے پہنچایا؟

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے اِچھرہ کی جیولری مارکیٹ میں کروڑوں روپے کے سونے کے فراڈ کے مرکزی ملزم شیخ وسیم اختر کو پولیس نے جمعرات کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا۔ 
دو ماہ سے جاری اس پیچیدہ تفتیش میں پیش رفت ایک ایسی فون کال کے بعد ممکن ہوئی جس نے پولیس کو ملزم تک پہنچنے کا راستہ دکھایا۔
پولیس کے مطابق ملزم کو گرفتاری کے بعد لاہور منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کا دائرہ کار اب سونے کی برآمدگی، مالی لین دین اور ممکنہ سہولت کاروں تک بڑھایا جا رہا ہے۔
ایک معمول کی فون کال، جو غیر معمولی ثابت ہوئی 
تحقیقات سے وابستہ پولیس افسران کے مطابق کیس میں فیصلہ کُن موڑ ایک ایسی فون کال کے بعد آیا جسے ابتدا میں ایک عام کال سمجھا گیا۔ نہ کال کرنے والے کو اندازہ تھا اور نہ ہی کال وصول کرنے والوں کو کہ یہی رابطہ چند دن بعد ایک بڑے مالی فراڈ کے مرکزی ملزم تک پہنچنے کا ذریعہ بن جائے گا۔
پولیس نے اس کال کی بنیاد پر ایک شہری تک رسائی حاصل کی۔ شہری نے بتایا کہ اس نے حال ہی میں ایک موبائل فون خریدا ہے اور اس کی رسید بھی موجود ہے۔ 
پولیس نے شہری سے موبائل فون اور دکان دار کی تفصیل حاصل کی اور چند ہی لمحوں بعد متعلقہ موبائل شاپ پر پہنچ گئی۔ 
دکان پر موجود سی سی ٹی وی ریکارڈ اور فروخت کا ڈیٹا کھنگالا گیا تو انکشاف ہوا کہ موبائل فون فروخت کرنے والا شخص کوئی اور نہیں بلکہ اِچھرہ جیولری مارکیٹ کے سونے کے تاجروں سے کروڑوں روپے کا فراڈ کرنے والا ملزم شیخ وسیم اختر تھا۔ 
آئی ایم ای آئی نمبرز سے ملزم تک رسائی
پولیس تحقیقات کے مطابق موبائل دکان دار نے مزید بتایا کہ وسیم اختر نے نہ صرف دو موبائل فون فروخت کیے تھے بلکہ اس موقعے پر دو نئے موبائل فون بھی خریدے تھے۔ یہی نکتہ تفتیش میں کلیدی ثابت ہوا۔ 

پولیس نے موبائل فونز کے آئی ایم ای آئی نمبرز حاصل کر کے ملزم کی لوکیشن ٹریس کی (فائل فوٹو: پِکسابے)

پولیس نے ان موبائل فونز کے آئی ایم ای آئی نمبرز حاصل کیے اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ان کی لوکیشن ٹریس کی۔ چند دن کی مسلسل مانیٹرنگ کے بعد پولیس ٹیم اسلام آباد میں ایک رہائشی مقام تک پہنچی جہاں سے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ 
سونے کی چوری اور اعتماد: 
یہ کیس دسمبر 2025 میں اس وقت منظر عام پر آیا جب اِچھرہ جیولری مارکیٹ کے ایک تاجر احمد صدیقی نے پولیس سے رجوع کیا۔ تاجر کا کہنا تھا کہ انہوں نے وسیم اختر کو 2 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا سونا دیا تھا، مگر واپسی پر انہیں مختلف بہانوں پر ٹال دیا گیا۔
وسیم اختر نے دعویٰ کیا کہ میں کراچی میں ایک قریبی عزیز کے انتقال کے باعث مصروف ہوں اور جلد سونا واپس کر دوں گا، مگر اس کے بعد اُن کی دکان بند ہو گئی اور وہ جوہر ٹاؤن میں واقع اپنے گھر سے بھی غائب ہو گئے۔
جلد ہی دیگر جیولرز نے بھی اپنی شکایات پولیس کے سامنے رکھیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وسیم اختر، جو قریباً 35 برس سے مارکیٹ میں سرگرم تھے اور جیولرز ایسوسی ایشن کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں، درجنوں تاجروں سے سونا حاصل کر چکے تھے۔

متاثرہ تاجروں کے مطابق ملزم وسیم اختر اُن کا 20 کلوگرام سونا لے کر فرار ہوئے تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

متاثرہ تاجروں کے مطابق مجموعی طور پر قریباً 20 کلوگرام سونا غائب ہوا، جس کی مالیت 16 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔ پولیس کو اب تک کم سے کم 40 شکایات موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے 10 مقدمات تھانہ اِچھرہ میں درج کیے جا چکے ہیں۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم نے اپنی سوتیلی والدہ سے بھی قریباً 150 تولے سونا حاصل کیا تھا۔ فراڈ سامنے آنے سے قبل انہوں نے اپنی دکان، گھر، گاڑیاں اور دیگر اثاثے فروخت کر دیے تھے، جبکہ ان کے اہل خانہ پہلے ہی ملک سے باہر جا چکے تھے۔ 
پولیس حکام کے مطابق کیس کی نگرانی اعلٰی سطح پر کی جا رہی تھی۔ سیف سٹی کیمروں اور مارکیٹ کے سی سی ٹی وی فوٹیجز میں ملزم کو شاپنگ بیگز میں سونا لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔
تاہم طویل عرصے تک کوئی ٹھوس سُراغ ہاتھ نہیں آسکا تھا۔ بالآخر موبائل فون کی ٹریسنگ نے وہ کڑی فراہم کی جس نے دو ماہ سے اُلجھی تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچا دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے تفتیش جاری ہے اور سونے کی برآمدگی کے امکانات موجود ہیں۔ حکام کے مطابق یہ گرفتاری انٹیلی جنس بیسڈ پولیسنگ کی ایک مثال ہے۔ 
متاثرہ تاجروں نے ملزم کی گرفتاری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جلد سے جلد سونا برآمد کر کے اُن کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔ پولیس کے مطابق آئندہ چند روز میں کیس سے متعلق مزید اہم انکشافات سامنے آسکتے ہیں۔

 

شیئر: