آرٹ تھیرپی ورکشاپ: مملکت میں کینسر کے مریضوں کے لیے امید کی کرن
آرٹ تھیرپی ورکشاپ: مملکت میں کینسر کے مریضوں کے لیے امید کی کرن
جمعہ 23 جنوری 2026 13:05
الشرقیہ میں کنگ فہد یونیورسٹی ہسپتال نے بدھ کے روز ایک سالہ ثقافتی پروگرام کا آغاز کیا جس کا مقصد آرٹ تھیرپی کے ذریعے کینسر کے مریضوں اور صحتیاب ہونے والوں کے علاج اور شفایابی کے عمل کو فروغ دینا ہے۔
پہلا ماہانہ سیشن مقامی فنکارہ حنان العتیق نے کلمات ہاؤس اور صوان پروجیکٹ کے تعاون سے پیش کیا۔ یہ پروگرام دسمبر تک جاری رہے گا جس کا مقصد خوشگوار، تخلیقی اور تفریحی سرگرمیوں پر مشتمل سیشنز فراہم کرنا ہے۔
بدھ کے روز ہونے والے اجتماع میں ایسی خواتین نے شرکت کی جو کینسر سے صحتیاب ہو چکی تھیں اور وہ بھی جو براہِ راست کیموتھراپی کے بعد آئیں۔ بعض نے بچپن کے بعد پہلی بار ڈرائنگ پینسل ہاتھ میں لی مگر سب کا مقصد ایک ہی تھا کہ تخلیقی عمل میں مشغول ہونا ہے۔
ابتدا میں فضا کچھ اداس اور خاموش تھی مگر جیسے جیسے خواتین نے خود کو پُرسکون محسوس کرنا شروع کیا، ہنسی مذاق کیا اور سوالات کرنے لگیں۔۔۔ مثلاً کسی خاص شیڈ کے لیے کون سے رنگ ملائے جائیں۔۔۔ تو یہ جگہ رنگوں کے ایک بڑے کینوس میں تبدیل ہو گئی۔
صوان پروجیکٹ کی بانی اور ڈائریکٹر لینا المھنہ نے عرب نیوز کو بتایا کہ ایک نہایت ذاتی خاندانی تجربے نے انہیں اس پروگرام کو ترتیب دینے کی ترغیب دی جس کی بنیاد باہمی رابطے اور جذباتی معاونت پر رکھی گئی ہے۔
یہ خیال ان کے اپنے ذاتی سفر سے پروان چڑھا جب وہ اپنے والد کی کینسر کے خلاف طویل جدوجہد کے دوران ان کا ساتھ دے رہی تھیں۔۔۔ ایک ایسا وقت جو ہسپتال کے مسلسل چکروں اور تنہائی کے لمحات سے عبارت تھا۔ اس تجربے نے انہیں اس بات کی ترغیب دی کہ وہ کینسر کے مریضوں کو علاج کے ماحول سے ہٹ کر سماجی میل جول اور اپنی تخلیقی توانائی کو آزادانہ طور پر بروئے کار لانے کا موقع فراہم کریں چنانچہ انہوں نے یہ اقدام تین سال قبل شروع کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’اس اقدام کا بنیادی مقصد کینسر کے مریضوں کی معاونت کرنا ہے اور انہیں ایسی اضافی مدد فراہم کرنا ہے جو انہیں اپنی حالت کو قبول کرنے میں مدد دے اور جو یقیناً طبی علاج کے ساتھ ساتھ بہتر شفایابی میں کردار ادا کرتی ہے۔‘
ورکشاپ کینسر سے متاثرہ مریضوں کے لیے منعقد کیا گیا (فوٹو: بشکریہ عرب نیوز)
اس منصوبے میں گروپ کی بنیاد پر ہونے والے سیشنز کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور فنونِ لطیفہ سے متعلق ورکشاپس بھی شامل ہیں جن میں ہر ایک کے ذریعے دیکھ بھال، یکجہتی اور حوصلہ افزائی کا واضح پیغام دیا جاتا ہے۔ المھنہ نے مریضوں کی معاونت میں موجود ایک خلا کی نشاندہی کے بعد یہ پروگرام ہسپتال کے تعاون سے تیار کیا۔
انہوں نے بدھ کے روز ہونے والے پروگرام کے بارے میں بتایا کہ ’آج پہلا سیشن تھا اور یہ بہت پُرجوش رہا۔ مریضوں کا جوش و جذبہ دیکھ کر دل بھر آیا۔‘
صوان کا بنیادی مقصد مریضوں کو بیماری کی حقیقتوں سے نمٹنے میں مدد دینا ہے۔۔۔ جیسے درد سہنے، علاج کے ضمنی اثرات برداشت کرنے، اور ہسپتال کے طویل چکروں کے دوران اکثر محسوس ہونے والے تنہائی یا الگ تھلگ ہونے کے احساس سے نمٹنا۔
کلمات ہاؤس نے اس انیشیٹیو کے لیے ثقافتی شراکت دار کے طور پر خدمات فراہم کی اور ورکشاپ اسی ادارے کی جانب سے سال بھر جاری رہنے والے ثقافتی پروگرام کے حصے کے طور پر منعقد کی گئی۔ کلمات ہاؤس 2014 میں ثقافتی رہنماؤں انفل الحماد اور حیفا العوین نے قائم کیا تھا جس کا مقصد ادب، فنون لطیفہ اور سماجی بنیاد پر ثقافتی مشغولیت کو فروغ دینا ہے۔
الحماد نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کلمات ہاؤس کے ثقافتی شعبے کے طور پر کردار کا مطلب یہ ہے کہ یہ فنون اور ثقافت کے پروگرامز کی حمایت کرتا ہے جن میں آرٹ ورکشاپس، کریئیٹیو رائٹنگ، ورکشاپس، بک کلب کے سیشنز اور پوئٹری نائٹس شامل ہیں۔
ورکشاپ میں کچھ خواتین نے پہلے مرتبہ ڈرائنگ بنائی (فوٹو: بشکریہ اردو نیوز)
انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام کا حصہ بننا معاشرے کو کچھ واپس دینے کا موقع فراہم کرنا ہے اور ساتھ ہی شرکا کی صلاحیتوں اور مہارتوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ انہیں وہ وسائل فراہم کریں کہ وہ اپنے جذبات اور درد سے فن پارے تخلیق کر سکیں۔
حنان العتیق نے عرب نیوز کو بتایا کہ اگرچہ وہ بچپن سے ڈرائنگ کرتی آئی ہیں مگر 2017 میں اپنی والدہ کے انتقال کے بعد ان کا آرٹ کے ساتھ تعلق بدل گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ نقصان ان کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ والدہ کو کھونے کی وجہ سے وہ آرٹ سے دور ہو گئیں، لیکن چار سال بعد ایک دن وہ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہو گئیں۔ تب سے انہوں نے آرٹ کو ایک منظم مشق سے بدل کر ذاتی شفا یابی کا ایک ذریعہ بنا لیا ہے۔
برش سے کھیلنا کچھ لوگوں کے لیے اپنے جذبات کا اظہار تھا (فوٹو: بشکریہ عرب نیوز)
العتیق کے سیشنز میں ہدایات دینے کے ساتھ ساتھ مشاہدے پر بھی بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔ وہ شرکا کی نقل و حرکت، رنگوں کے انتخاب اور پینٹنگ کے دوران ان کی ہچکچاہٹ کو غور سے دیکھتی ہیں۔۔۔ ایسے چھوٹے چھوٹے پہلو جو، ان کے مطابق بات چیت کے مقابلے میں اکثر اندرونی جذبات اور حالات کو زیادہ بہتر طریقے سے ظاہر کرتے ہیں۔
سیشن میں شریک سمرہ ام ترکی الزھرانی نے کہا کہ ’سیشن کے بعد وہ خود توانا محسوس کر رہی تھی۔ شروع میں یہاں کسی کو نہیں جانتی تھی لیکن ماحول نے جوش و خروش پیدا کر دیا۔ مجھے لگا کہ ہم سب بہت جلد دوست بن گئے۔ گروپ کی توانائی بہت زبردست تھی۔ میں اسے جاری رکھنا اور دیگر سیشنز میں واپس آنا پسند کروں گی۔‘
پروگرام کے لیے اضافی معاونت ایس ایم ٹی فیملی کاؤنسلنگ سینٹر، استنارہ، سعودی کینسر فاؤنڈیشن، الراشد سوشل رسپانسیبیلٹی اور ویبینٹ نے فراہم کی۔