Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران اپنی غلط فہمیوں پر نظرثانی اور خلیجی ریاستوں پر حملے بند کرے: سعودی وزیرخارجہ

ہمسایہ ملکوں پر تہران کے مسلسل حملے اسے کوئی فائدہ نہیں دیں گے
سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ’ ایران اپنی غلط فہمیوں پر نظرثانی کرے اور خلیجی ریاستوں پر حملے بند کرے۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ’ ہمسایہ ملکوں پر تہران کے مسلسل حملے اسے کوئی فائدہ نہیں دیں گے، بلکہ اس کی تنہائی میں مزید اضافہ کریں گے۔‘
ریاض میں بدھ کی رات عرب اسلامی وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس کے اختتام پر پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا ’حا لیہ برسوں میں سفارتی  روابط کے ذریعے ایران نے عرب ریاستوں کے ساتھ جو ’تھوڑا بہت اعتماد‘ بحال کیا تھا وہ ان حملوں کے باعث ’مکمل طور پر تباہ‘ ہوچکا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ایران کے ساتھ جنگ توختم ہوجائے گی لیکن اس پر جو اعتماد تھا وہ بھی ختم ہو جائے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا’مملکت کے توانائی کے انفرا سٹرکچر کو مسلسل نشانہ بنانے کے اچھے نتائج نہیں نکلیں گے۔ ‘
انہوں نے ایران کی جانب سے امریکی موجود گی کو حملوں کا جواز بنانے کو مسترد کیا اور کہا’ یہ دلیل ناقابل قبول اور حقائق کے برخلاف ہے۔‘ 
’ایسا لگتا ہے’ پہلے سے حملوں کی تیاری‘ کی گئی، جان بوجھ کر کشیدگی کو بڑھایا گیا۔‘
 بن فرحان ان نے کہا کہ’ مشاورتی اجلاس میں شریک نے تمام ممالک نے ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے۔ ‘
انہوں نے ایرانی حملوں کو بین الاقوامی معاہدوں اور اسلامی تعلیمات کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا  اور کہا’ یہ ملیشیاوں کی سرپرستی اور خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔‘ 
  سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا’ تہران سفارتی حل کی بات کیسے کرسکتا ہے جبکہ وہ ان ملکوں پر حملہ کر رہا ہے جن کا حالیہ تنازع سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ ‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ’ ایران اپنے ہمسایہ ملکوں کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھتا ہے،  ایران کی یہ سوچ کہ خلیجی ممالک مقابلہ نہیں کرسکتے یا جواب نہییں دے سکتے بالکل غلط ہے، سیاسی اور غیر سیاسی تمام آپشن موجود ہیں۔‘
انہوں نے کہا ’ایران اسلام کی فتح کا دعوی تو کرتا ہے لیکن کئی اسلامی ملکوں پر حملے کرتا ہے جن میں سعودی عرب اور دیگر شامل ہیں۔‘
’ ایران محض نعروں کے پیچھے چھپ کر اپنے مفادات کے لیے کام کررہا ہے۔ ریاض کو اس وقت نشانہ بنانا جب وہاں خلیجی اور اسلامی ملکوں سفارتکار موجود ہیں یہ محض اتفاق نہں تھا۔‘
 انہوں نے واضح کیا ’سعودی عرب ضرورت پڑنے پرعسکری جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ یہ بھی کہا کہ ایرانی نظام کو جرائم کرنے اور اس سے مکر جانے کی عادت پڑ گئی ہے۔‘

شیئر: