Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’صبر لامحدود نہیں‘، مملکت ایران کے خلاف کارروائی کا حق رکھتی ہے: سعودی وزیر خارجہ کا انتباہ

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جمعرات کے روز ایران کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے بڑھتے حملوں پر مملکت کا صبر ’لامحدود نہیں‘ ہے، اور فوجی کارروائی کا اشارہ بھی دیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ریاض میں اسلامی وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ’مملکت اور اس کے شراکت داروں کے پاس نمایاں صلاحیتیں موجود ہیں اور ہم نے صبر کا جو مظاہرہ کیا ہے وہ لامحدود نہیں ہے یہ ایک دن، دو دن یا ہفتے تک کا ہو سکتا ہے، میں اس کے بارے میں نہیں بتاؤں گا۔‘
تنازع شروع ہونے کے بعد سے اب تک کے سخت ترین تبصرے میں شہزادہ فیصل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’سعودی عرب ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ دو ہزار تئیس میں سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد تہران کے ساتھ بننے والا ’تھوڑا اعتماد‘ اب مکمل طور پر بکھر گیا ہے اور خبردار بھی کیا کہ مزید حملوں کی صورت میں تعلقات کو بچانے کے لیے ’کچھ نہیں بچے گا۔‘
اٹھائیس فروری کے بعد سے ایران نے سعودی عرب، ہمسایہ خلیجی ریاستوں متحدہ عرب امارات سمیت کویت، بحرین اور قطر کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کی مہم شروع کی، جس کے بارے میں تہران کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کا بدلہ ہے۔
تنازع کی شدت میں اس وقت بدھ کو اس وقت شدت بڑھتی دیکھی گئی جب ایران نے اسرائیل پر جنوبی پارس گیس فیلڈ کی تنصیبات پر حملے کا الزام لگایا اور خلیج بھر میں توانائی کے بنیادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا اور اسی روز ہی سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے حکام کی جانب سے تیل اور گیس کی تنصیبات پر حملوں کی اطلاع دی گئی۔

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بدھ کو اجلاس کے اختتام پر کر کہا تھا کہ ’ایران اپنے غلط فیصلوں پر نظرثانی کرے اور خلیجی ریاستوں  پر حملے بند کرے۔‘
انہوں نے خبردار کیا تھا کہ’ ہمسایہ ملکوں پر تہران کے مسلسل حملے اسے کوئی فائدہ نہیں دیں گے، بلکہ اس کی تنہائی میں مزید اضافہ کریں گے۔‘​
ریاض میں بدھ کی رات عرب اسلامی وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس کے اختتام پر پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا ’حا لیہ برسوں میں سفارتی  روابط کے ذریعے ایران نے عرب ریاستوں کے ساتھ جو ’تھوڑا بہت اعتماد‘ بحال کیا تھا وہ ان حملوں کے باعث ’مکمل طور پر تباہ‘ ہوچکا ہے۔‘ 
الاخباریہ کے مطابق انہوں نے مزید کہا ’ایران کے ساتھ جنگ توختم ہوجائے گی لیکن اس پر جو اعتماد تھا وہ بھی ختم ہو جائے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا’مملکت کے توانائی کے انفرا سٹرکچر کو مسلسل نشانہ بنانے کے اچھے نتائج نہیں نکلیں گے۔ ‘
انہوں نے ایران کی جانب سے امریکی موجود گی کو حملوں کا جواز بنائے جانے کو مسترد کیا اور کہا’ یہ دلیل ناقابل قبول اور حقائق کے برخلاف ہے۔‘ 
’ایسا لگتا ہے’ پہلے سے حملوں کی تیاری‘ کی گئی، جان بوجھ کر کشیدگی کو بڑھایا گیا۔‘
 بن فرحان  نے کہا کہ’ مشاورتی اجلاس میں شریک نے تمام ممالک نے ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے۔ ‘
انہوں نے ایرانی حملوں کو بین الاقوامی معاہدوں اور اسلامی تعلیمات کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا  اور کہا’ یہ ملیشیاوں کی سرپرستی اور خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔‘ 
  سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا’ تہران سفارتی حل کی بات کیسے کرسکتا ہے جبکہ وہ ان ملکوں پر حملہ کر رہا ہے جن کا حالیہ تنازع سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ ‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ’ ایران اپنے ہمسایہ ملکوں کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھتا ہے، ایران کی یہ سوچ کہ خلیجی ممالک مقابلہ نہیں کرسکتے یا جواب نہیں دے سکتے بالکل غلط ہے، سیاسی اور غیر سیاسی تمام آپشن موجود ہیں۔‘
’ ایران محض نعروں کے پیچھے چھپ کر اپنے مفادات کے لیے کام کر رہا ہے۔ ریاض کو اس وقت نشانہ بنانا جب وہاں خلیجی اور اسلامی ملکوں سفارتکار موجود ہیں  یہ محض اتفاق نہں تھا۔‘
 انہوں نے واضح کیا ’سعودی عرب ضرورت پڑنے پرعسکری جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ یہ بھی کہا کہ ایرانی نظام کو جرائم کرنے اور اس سے مکر جانے کی عادت پڑ گئی ہے۔‘
یاد رہے  28 فروری سے ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تنازع شروع ہونے کے بعد سعودی عرب اور خلیجی ملکوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق  بدھ کے روز مملکت میں ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے نئے حملے ناکام بنا دیے۔ حملوں میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔
’ بدھ کی شام ریاض کی جانب داغے گئے 8 بیلسٹک میزائلوں کو دارالحکومت کے مختلف حصوں اور شہر کے جنوب میں ایک ریفائنری کے  قریب گرنے سے روک کر تباہ کر دیا گیا۔‘
 سعودی فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کے آغاز سے اب تک  457 ڈرون اور 40 بیلسٹک اور 7 کروز میزائل تباہ کیے ہیں۔
خلیج کے دیگر ممالک پر بھی ایران نے سینکڑوں میزائل داغے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے 165 سے زائد بیلسٹک میزائل اور541 سے زائد ڈرون مار گرائے۔
کویت کی جانب 97 میزائل اور 283 ڈرون داغے گئے جبکہ قطر اور بحرین بھی بار بار حملوں کی زد میں آئے۔

شیئر: