Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اماراتی مشیر شیخ طحنون کا مملکت میں ہر وقت خیرمقدم ہے: سعودی وزیر اطلاعات

سعودی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’شیخ طحنون کو کسی اجازت کی ضرورت نہیں‘ (فوٹو: سپلائیڈ)
سعودی عرب کے وزیرِ اطلاعات سلمان الدوسری نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ مملکت نے متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زاید کو ملک میں داخلے سے روک دیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق وزیر اطلاعات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’مملکت کی جانب سے عزت مآب شیخ طحنون بن زاید کا استقبال نہ کرنے سے متعلق جو خبریں گردش کر رہی ہیں وہ سراسر غلط ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’شیخ طحنون جب چاہیں مملکت آتے ہیں، انہیں کسی اجازت کی ضرورت نہیں، یہ ان کا اپنا گھر ہے اور یہاں کی قیادت ان کا خاندان ہے۔‘
شیخ طحنون بن زاید ابو ظہبی کے نائب حکمران اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید کے بھائی ہیں۔
سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے منگل کے روز کہا تھا کہ اگرچہ یمن کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان نقطۂ نظر میں اختلاف رہا ہے، لیکن ان کے تعلقات خطے کے استحکام کے لیے بے حد اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مملکت ہمیشہ خلیجی تعاون کونسل میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر متحدہ عرب امارات کے ساتھ مضبوط اور مثبت تعلقات کی خواہاں رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یمن سے اماراتی افواج کا انخلا دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط رکھنے کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہوا ہے۔
گزشتہ ماہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے متحدہ عرب امارات سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے فوجی دستے ملک سے واپس بلائے، کیونکہ اس کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند تنظیم سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے جنوبی اور مشرقی علاقوں کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا تھا۔
یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے 30 دسمبر کو اعلان کیا تھا کہ اس نے سدرن ٹرانزیشنل کونسل کو بھیجے جانے والے سمگل شدہ ہتھیاروں کی ترسیل کو نشانہ بناتے ہوئے ایک محدود فضائی کارروائی کی ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ اس نے دو جنوری کو یمن سے مکمل طور پر اپنی افواج کا انخلا مکمل کر لیا ہے۔

 

شیئر: