ریاض میں جنوبی یمن سے متعلق ایک کانفرنس کی میزبانی کی تیاریوں کے تناظر میں، جو ایک جامع سیاسی حل کی کوششوں کا حصہ ہے، یمن کے نائب وزیر خارجہ مصطفیٰ نعمان نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ جنوبی مسئلے کا منصفانہ حل نکل آئے گا۔
عرب نیوز کے مرکزی ٹاک شو ’فرینکلی سپیکنگ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اعتماد سعودی عرب کی ان کوششوں کی بدولت ہے جن کا مقصد اس معاملے کو سیاسی کشیدگی اور مسلح تصادم سے نکال کر مکالمے کی طرف لے جانا ہے تاکہ دیرینہ تنازعات حل کیے جا سکیں۔
یمن کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ’یہی وہ کام ہے جو اس وقت سعودی حکومت کر رہی ہے۔ وہ تمام بڑی شخصیات کو بلا رہے ہیں، لیکن بطور آزاد افراد؛ کوئی تنظیمی حیثیت نہیں ہو گی۔‘
انہوں نے زور دیا کہ جنوبی مسئلے کو طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا، اور کہا کہ کانفرنس کے شرکا ذاتی حیثیت میں شرکت کریں گے اور بالآخر انہیں وسیع تر یمنی فریقین کے ساتھ بات چیت کرنا ہو گی۔
مصطفیٰ نعمان کے مطابق ’اس کانفرنس میں ہر شخص ایک آزاد شخصیت کے طور پر جا رہا ہے۔ وہ آپس میں تبادلۂ خیال کریں گے، اور جو کچھ بھی وہ حاصل کریں گے، جس بات پر بھی اتفاق کریں گے، انہیں آ کر یہاں دیگر یمنی شراکت داروں کے ساتھ بیٹھنا ہو گا۔ وہ یہ کام اکیلے نہیں کر سکتے۔ وہ اسے زبردستی نافذ نہیں کر سکتے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ نہ تو خوش فہمی ہے اور نہ بددلی، کیونکہ سیاست زمینی حقائق سے چلتی ہے۔
یمن کے نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت جنوب میں تمام قوتوں کو متحد کرنے کے لیے کام کر رہی ہے، اور پھر ان کی سرگرمیوں کو قومی فوج کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا رہا ہے، جو مارب میں ہے، المہرہ میں ہے اور تعز میں ہے۔ اور تب، اور صرف تب، ہم امن کے عمل پر بات شروع کر سکتے ہیں۔‘
تاہم مصطفیٰ نعمان نے خبردار کیا کہ جب تک حوثی گروہ کی عسکری بالادستی برقرار ہے اور آبادی کے ایک بڑے حصے پر اس کا کنٹرول رہے گا، مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔
دسمبر میں عیدروس الزبیدی کی قیادت میں جنوبی عبوری کونسل نے حضرموت اور المہرہ میں سرکاری اداروں اور فوجی کیمپوں پر قبضے کی کوشش کی۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
انہوں نے کہا کہ ’ہم امن کے عمل کی بات نہیں کر سکتے جب تک حوثی اپنی مضبوط پوزیشنوں پر موجود ہیں؛ وہ آبادی کی اکثریت کو اپنی پالیسیوں کے یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔‘
ان کے مطابق سنجیدہ مذاکرات کے آغاز کے لیے ضروری ہے کہ حکومت مستحکم اور متحد ہو اور صدر کی قیادت میں ایک قومی فوج کی کمان کرنے کے قابل ہو۔
جنوبی مسئلے کی طرف واپس آتے ہوئے یمن کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ اس تنازع کے حل کے طریقہ کار پر ابھی تک کوئی اتفاق رائے موجود نہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی نتیجہ تمام دھڑوں کے باہمی اتفاق کی عکاسی کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’جنوب میں اس بات پر کوئی اتفاق نہیں کہ اس معاملے سے کیسے نمٹا جائے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ آگے کون سا نظام ہو گا۔ ہمیں جنوبی۔جنوبی مکالمے کے اختتام تک انتظار کرنا ہو گا اور دیکھنا ہو گا کہ شرکا کی اکثریت کیا فیصلہ کرتی ہے۔‘
یہ غیریقینی صورت حال گزشتہ برس کے اختتام پر پیش آنے والے پُرتشدد واقعات کے بعد مزید گہری ہو گئی، جب جنوبی اور مشرقی یمن میں تشدد بھڑک اٹھا تھا۔
مصطفیٰ نعمان نے کہا کہ جب تک حوثی گروہ کی عسکری بالادستی برقرار ہے اور آبادی کے ایک بڑے حصے پر اس کا کنٹرول رہے گا، مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
گذشتہ برس دسمبر میں عیدروس الزبیدی کی قیادت میں جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) نے حضرموت اور المہرہ میں سرکاری اداروں اور فوجی کیمپوں پر قبضے کی کوشش کی، جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے براہِ راست چیلنج تھا۔
یہ کارروائیاں مسلح گروہوں کے ذریعے کی گئیں اور انہیں بیرونی عناصر کی حمایت حاصل تھی، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا اور کشیدگی میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا۔