کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے کہ جب آپ کتاب کھول کر بیٹھتے ہیں تو چند ہی لمحوں میں آپ کا ذہن پڑھائی کے بجائے کل کی پارٹی یا کسی پرانے واقعے کی طرف نکل جاتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں جدید تحقیق کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ طلبہ کی ایک بڑی تعداد ’اٹینشن سپین‘ یعنی کسی ایک کام پر توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت میں کمی کا شکار ہے۔
امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کے مطابق سنہ 2024 تک انسان کی اوسط توجہ کا دورانیہ کم ہو کر ایک منٹ سے بھی کم رہ گیا ہے اور اس میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں
-
پانچ غذائیں جو آنکھوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہیںNode ID: 888105
-
بچوں کے دل کی صحت کو سکرین ٹائم کیسے متاثر کرتا ہے؟Node ID: 898745
-
خواتین میں دل کی بیماری کی غیرمعمولی علامات کون سی ہیں؟Node ID: 898837
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجوہات میں سکرین کا ضرورت سے زیادہ استعمال، جسمانی سرگرمیوں کی کمی اور ذہنی دباؤ شامل ہیں۔
لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ سائنس نے چند ایسے طریقے بتائے ہیں جن پر عمل کرکے آپ اپنے بھٹکتے ہوئے ذہن کو قابو میں کر سکتے ہیں۔
ذیل میں وہ سات آزمودہ طریقے ذکر کیے جا رہے ہیں جو آپ کے مطالعے کے معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
1۔ پومودورو تکنیک
یہ توجہ بڑھانے کا سب سے مقبول طریقہ ہے۔ اس میں آپ مطالعے اور آرام کے دورانیے کو تقسیم کر دیتے ہیں۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ 25 منٹ کا ٹائمر لگائیں اور صرف پڑھائی کریں۔ جب ٹائمر بجے تو پانچ منٹ کا وقفہ لیں۔
یہ طریقہ آپ کے دماغ کو تھکنے نہیں دیتا اور آپ ’برن آؤٹ‘ کا شکار نہیں ہوتے۔

2۔ مائیکرو بریکس یا مختصر وقفے
امتحان سے پہلے مسلسل کئی گھنٹے رٹا لگانا دماغ پر بوجھ ڈال دیتا ہے جسے ’کوگنیٹیو اوور لوڈ‘ کہا جاتا ہے۔
ہر ایک گھنٹے بعد چند منٹ کے لیے اپنی جگہ سے اٹھیں، تھوڑی چہل قدمی کریں یا پانی پیئیں۔
’فرنٹیئرز ان سائیکولوجی‘ کی تحقیق کے مطابق چھوٹے وقفے دماغ کو دوبارہ تازہ دم کر دیتے ہیں جس سے معلومات دیر تک یاد رہتی ہیں۔
3۔ مراقبہ اور ذہنی بیداری
خاموشی سے بیٹھ کر اپنی توجہ کو حال پر مرکوز کرنا ایک جادوئی اثر رکھتا ہے۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ صبح اٹھنے کے بعد صرف پانچ منٹ کے لیے آنکھیں بند کر کے سکون سے بیٹھیں اور اپنی سانسوں پر توجہ دیں۔
یہ عمل آپ کے بھٹکتے ہوئے خیالات کو لگام ڈالتا ہے اور ارتکازِ توجہ کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔

4۔ جسمانی سرگرمی اور ورزش
انسانی جسم حرکت کے لیے بنا ہے اور حرکت کا براہِ راست تعلق دماغی تیزی سے ہے۔
دن کا آغاز ہلکی ورزش یا یوگا سے کریں۔ مطالعے کے دوران وقفوں میں ’سٹریچنگ‘ کریں۔
ورزش سے دماغ میں ’اینڈورفنز‘ خارج ہوتے ہیں جو موڈ کو خوشگوار بناتے ہیں اور خون کی گردش بڑھنے سے ذہنی صلاحیت تیز ہوتی ہے۔
5۔ ڈیجیٹل ڈیٹاکس
فون اور سوشل میڈیا توجہ ہٹانے والے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
پڑھائی کے دوران فون کو دوسرے کمرے میں رکھیں اور ہفتے میں کم از کم ایک دن سکرین سے مکمل دوری اختیار کریں۔
18 سے 25 برس کے نوجوانوں پر کی گئی تحقیق بتاتی ہے کہ سکرین سے دوری پیداوری صلاحیت (پروڈکٹیوٹی) میں حیرت انگیز اضافہ کرتی ہے۔

6۔ متوازن غذا اور پانی کا استعمال
آپ کا دماغ وہی کارکردگی دکھائے گا جو آپ اسے ایندھن فراہم کریں گے۔
پانی کی بوتل ہمیشہ اپنے پاس رکھیں اور موسم کے مطابق پھل اور سبزیاں اپنی غذا میں شامل کریں۔
طبی جریدوں کے مطابق جسم میں پانی کی معمولی کمی بھی توجہ کے دورانیے کو متاثر کر سکتی ہے۔
7۔ نیند کا معیار
اگر آپ کی نیند پوری نہیں ہے تو کوئی بھی تکنیک کام نہیں کرے گی۔
روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے کی پرسکون نیند لیں۔ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے تمام الیکٹرونک آلات بند کر دیں۔
گہری نیند آپ کے دماغ کو معلومات کو محفوظ کرنے اور اسے ترتیب دینے میں مدد دیتی ہے جس سے اگلے دن آپ کا ذہن تروتازہ رہتا ہے۔
توجہ مرکوز کرنا کوئی پیدائشی خوبی نہیں بلکہ ایک مہارت ہے جسے سیکھا جا سکتا ہے۔ اگر آپ ان سادہ مگر مؤثر طریقوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو آپ کم وقت میں زیادہ کام کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔
![]()











