Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

میٹ گالا 2026 میں ایشا امبانی کی سونے کے تاروں سے بنی ساڑھی کیسے تیار ہوئی؟

ایشا امبانی کا سنہری ساڑھی نما لباس روایتی انڈین دستکاری کا مظہر تھا: فوٹو اے ایف پی
انڈیا میں جہاں ایک طرف سیاسی ہلچل ہے وہیں دوسری جانب سوشل میڈیا پر نیویارک میں منعقد ہونے والے میٹ گالا 2026 کی پر رونق شام پر بھی باتیں ہو رہی ہیں۔
پیر کو نیویارک کے مشہور عجائب گھر میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ میں ایک بار پھر فن، ثقافت اور ملبوسات کے دلکش امتزاج کی جلوہ گری نظر آئی۔
اس سال کا موضوع کوسٹیوم آرٹ‘ تھا جس نے ڈیزائنرز کو لباس کو محض زیب و زینت نہیں بلکہ ایک مکمل فن پارہ کے طور پر پیش کرنے کی دعوت دی۔
اس عالمی تقریب میں انڈیا کی نمائندگی پہلے کے مقابلے بہت واضح رہی اور یہ اپنی معنویت، تہذیبی گہرائی اور جمالیاتی اثر کے اعتبار سے نہایت مؤثر اور یادگار ثابت ہوئی۔
گذشتہ برسوں میں جہاں اداکارہ دیپکا پاڈوکون اور پرینکا چوپڑہ جیسی معروف فلمی شخصیات اس تقریب کا مرکزِ نگاہ بنتی رہی تھیں، وہیں 2026 میں ایک نئی جہت سامنے آئی۔
اس بار انڈیا کی نمائندگی صرف فلمی دنیا تک محدود نہ رہی بلکہ اس میں صنعت کار، فیشن ڈیزائنر، سماجی شخصیات اور شاہی خانوادوں کے افراد بھی شامل تھے، جنہوں نے اپنے اپنے انداز میں انڈین ثقافت کو عالمی منظرنامے پر اجاگر کیا۔
اس میں سب سے نمایاں نام فلمساز اور ہدایتکار کرن جوہر کا تھا، جنہوں نے پہلی بار میٹ گالا میں شرکت کی۔ ان کا لباس معروف انڈین ڈیزائنر منیش ملہوترا کی تخلیق تھا، جس میں انڈین مصوری کے عظیم پینٹر راجہ روی ورما کی پینٹنگ کے اسلوب کی جھلک نمایاں تھی۔
زری کے کام، نفیس کشیدہ کاری اور مصوری کے عناصر نے اس ملبوس کو ایک چلتا پھرتا فن پارہ بنا دیا، گویا تاریخ اور حال ایک ہی لباس میں ہم آغوش ہو گئے ہوں۔
اسی طرح انڈیا کے امیرترین شخص مکیش امبانی کی بیٹی ایشا امبانی نے بھی اپنی موجودگی سے میٹ گالا کی شام کو چار چاند لگا دیے۔
ان کا سنہری ساڑھی نما لباس روایتی انڈین دستکاری کا مظہر تھا، جسے جدید انداز میں پیش کیا گیا۔ ان کے لباس نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ساڑھی محض ایک روایتی پوشاک نہیں بلکہ ایک لازوال فن ہے، جو ہر دور میں نئے معانی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سدھا ریڈی نے اپنے لباس میں قلمکاری کے ’شجرِ حیات‘ کے نقش کو شامل کر کے انڈین دیہی فنون کو عالمی سطح پر روشناس کرایا: فوٹو اے ایف پی

نیتا مکیش امبانی کلچرل سینٹر (این ایم اے سی سی) پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ کے مطابق ایشا امبانی نے میٹ گالا میں ڈیزائنر گورو گپتا کی ان کی مرضی کے مطابق ہاتھ سے بنی ساڑھی میں شرکت کی، جس کا سٹائل انیتا شراف اداجانیہ نے بنایا ہے۔‘
پوسٹ نے میں مزید لکھا گیا ہے کہ اسے ایک زندہ کینوس کے طور پر دوبارہ تصور کیا گیا، یہ ٹکڑا انڈین کے فنکارانہ ورثے سے اخذ کیا گیا ہے، جس میں ایک عصری ڈیزائن کی زبان کے ساتھ فریسکو اثرات کو ملایا گیا ہے۔ خالص سونے کے دھاگوں میں 1200 گھنٹے میں 50 سے زیادہ کاریگروں نے اسے بنایا۔ یہ ساڑھی اور اس کی کڑھائی ہاتھ سے تیار کی گئی ہے اور انہوں نے جو زیورات زیب تن کیے وہ ان کی والدہ نیتا امبانی کے زخائر کا حصہ ہیں۔‘

ہدایتکار کرن جوہر نے پہلی بار میٹ گالا میں شرکت کی: فوٹو اے ایف پی 

اسی طرح سیرم انسٹی چیوٹ انڈیا کی ایگزیکٹو ڈا‏ئریکٹر 44 سالہ نتاشا پونا والا جو اپنی جرات مندانہ اور غیر روایتی فیشن کے لیے مشہور ہیں وہ اس بار بھی ایک منفرد اور تخلیقی لباس میں جلوہ گر ہوئیں۔ ان کی شخصیت اس بات کی غماز نظر آئی کہ جدید انڈین  عورت روایت اور جدت کے سنگم پر کھڑی کیسی لگ سکتی ہے۔
انڈیا کے معروف برلا بزنس خاندان سے تعلق رکھنے والی نوجوان صنعت کار اننیہ برلا نے مستقبل نما لباس کے ذریعے فیشن اور ٹیکنالوجی کے باہمی تعلق کو نمایاں کیا۔
ان کے لباس میں دھاتی نقاب اور مجسماتی ساخت نے اس خیال کو تقویت دی کہ آنے والا زمانہ فن اور سائنس کے امتزاج سے عبارت ہوگا۔
دوسری جانب معروف بزنس وومن اور خیراتی کاموں میں حصہ لینے والی سدھا ریڈی نے اپنے لباس میں قلمکاری کے شجرِ حیات‘ کے نقش کو شامل کر کے انڈین دیہی فنون کو عالمی سطح پر روشناس کرایا۔ ان کا انداز اس بات کا مظہر تھا کہ انڈیا کی اصل طاقت اس کی زمین سے جڑی ہوئی روایتوں میں مضمر ہے۔
اس تقریب میں انڈین شاہی ورثے کی جھلک بھی نمایاں رہی۔ راجستھان کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی گوروی کماری اور پدمنابھ سنگھ کی شرکت نے اس میٹ گالا میں انڈیا کی نمائندگی کو ایک خاص وقار عطا کیا۔ گوروی کماری کے لباس میں راجستھانی شاہی روایت اور جدید فیشن کا حسین امتزاج دکھائی دیا، جو ماضی کی عظمت اور حال کی جدت کا عکاس تھا۔
ان کے علاوہ دیا مہتا جیٹیا اور مونا پٹیل نے بھی شرکت کی۔ دیا مہتا نے مغربی بنگال کی شعلہ فنکاری کو پیش کیا جبکہ مونا پٹیل نے اپنے جسم کو ایک فنکاری کے نمونے کے طور پر۔

گوروی کماری کے لباس میں راجستھانی شاہی روایت اور جدید فیشن کا حسین امتزاج دکھائی دیا: فوٹو اے ایف پی

اس چکا چوند میں بعض معروف فلمی شخصیات کی عدم موجودگی بھی محسوس کی گئی، جن میں پاڈوکون اور پرینکا چوپڑا کے علاوہ عالیہ بھٹ،  کا نام قابلِ ذکر ہے۔ تاہم اس کمی نے اس تقریب کے مجموعی تاثر کو کمزور کرنے کے بجائے ایک نئی سمت عطا کی، جہاں توجہ محض ستاروں کی چمک دمک سے ہٹ کر فن، تہذیب اور تخلیقی اظہار پر مرکوز رہی۔
میٹ گالا 2026 میں انڈین شرکت دراصل ایک فکری اور ثقافتی ارتقا کی علامت تھی۔ یہ محض لباسوں کی نمائش نہ تھی بلکہ ایک ایسا بیانیہ تھا، جس میں ہر ملبوس ایک کہانی سناتا تھا۔ اس میں انڈیں مٹی کی، اپنے ہنر کی اور اپنی شناخت کی کہانیاں تھیں۔ ہندوستانی نمائندوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ عالمی فیشن کے محض پیروکار نہیں بلکہ اس کے معمار بھی ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو میٹ گالا 2026 کی یہ شام انڈیا کے لیے صرف ایک تقریب نہ رہی بلکہ ایک ایسا موقع ثابت ہوئی، جہاں اس نے اپنی تہذیبی وراثت کو نئے انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا، اور یہ پیغام دیا کہ ہندوستانی فیشن اب عالمی منظرنامے کا لازمی جزو بن چکا ہے۔

شیئر: