Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بچوں کے دل کی صحت کو سکرین ٹائم کیسے متاثر کرتا ہے؟

روز مرہ زندگی میں بچوں کا سکرین پر وقت صرف کرنے کا دوارانیہ بڑھ رہا ہے (فوٹو: پکسلز)
ڈیجیٹل دور میں سمارٹ فون، آن لائن کلاسز، ویڈیو گیمز اور سٹریمنگ بچوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں لیکن حالیہ تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ حد سے زیادہ سکرین ٹائم صرف بچوں کی توجہ یا مزاج ہی نہیں بلکہ ان کے دل کی صحت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
’جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن‘ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق بچوں اور نوعمروں میں تفریحی سکرین ٹائم کا ہر اضافی گھنٹہ دل سے متعلق میٹابولک خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا، ویڈیو گیمز اور طویل سکرین استعمال بچوں میں موٹاپے، بلڈ پریشر اور شوگر جیسے مسائل سے جُڑا ہوا ہے۔

تحقیق میں کیا سامنے آیا؟

اس مطالعے میں ڈنمارک کے دو طویل المدتی تحقیقی گروپس کے ایک ہزار سے زائد بچوں اور نوعمروں کا ڈیٹا شامل کیا گیا۔
سکرین ٹائم کی معلومات والدین یا بچوں سے لی گئیں جبکہ نیند اور جسمانی سرگرمی کو جدید آلات کے ذریعے ناپا گیا۔ دل کی صحت کا جائزہ کمر کے گھیراؤ، بلڈ پریشر، اچھے کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل)، ٹرائی گلسرائیڈز اور بلڈ شوگر جیسے عوامل سے لیا گیا۔

نتائج

اس تحقیق میں سامنے آنے والے نتائج کے مطابق چھ سے 10 سال کے بچوں میں سکرین ٹائم کا ہر اضافی گھنٹہ دل کے خطرات میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔

مطالعے میں ڈنمارک کے ایک ہزار سے زائد بچوں کو شامل کیا گیا (فائل فوٹو: پکسابے)

اسی طرح سے 18 سال کے نوعمروں میں یہ خطرہ نسبتاً زیادہ پایا گیا جبکہ نیند کا دورانیہ ایک اہم عنصر ثابت ہوا، کم یا دیر سے سونے والے بچوں میں دل کی بیمایوں کے خطرات زیادہ دیکھے گئے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بہتر نیند سکرین ٹائم کے کچھ منفی اثرات کو کم کر سکتی ہے۔

پاکستان اور خطے کے لیے اہمیت

اگرچہ یہ تحقیق یورپ میں کی گئی ہے مگر ماہرین کے مطابق اس کے نتائج پاکستان اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔
آن لائن تعلیم، موبائل فون کا بڑھتا استعمال اور جسمانی سرگرمی کی کمی کے باعث بچوں میں موٹاپا اور دل کی بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ بچوں کے سکرین ٹائم کو محدود کریں، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کریں اور جسمانی سرگرمیوں کو روزمرہ معمول کا حصہ بنائیں۔ ان کے مطابق آج کی چھوٹی تبدیلیاں مستقبل میں بچوں کے دل کو بڑی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔

شیئر: